گجرات ٹائٹنز کے وکررم سولنکی Solanki ‘would have liked to have gone one step further’ but still ‘immensely pr’ کا اظہار
آئی پی ایل 2026: گجرات ٹائٹنز کا سفر اور وکرم سولنکی کا موقف
آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے ہاتھوں شکست کے بعد گجرات ٹائٹنز (GT) کے کیمپ میں ایک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ٹیم کے ڈائریکٹر کرکٹ وکرم سولنکی نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سولنکی کا کہنا تھا کہ وہ Solanki ‘would have liked to have gone one step further’ but still ‘immensely pr’ کا اظہار کرتے ہیں۔
آر سی بی کی شاندار کارکردگی کا اعتراف
وکرم سولنکی نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز اپناتے ہوئے آر سی بی کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا: ‘میں آر سی بی کو مبارکباد دے کر اپنی بات شروع کروں گا۔ ان کی مہم شاندار رہی ہے۔ وہ لیگ مرحلے میں ٹیبل کے ٹاپ پر رہے اور پھر ہمیں دو بار شکست دی، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔’
تھکاوٹ اور سفر کا دباؤ
گجرات ٹائٹنز کا فائنل تک کا سفر کافی کٹھن رہا۔ کوالیفائر 1 میں شکست کے بعد، ٹیم کو احمد آباد پہنچنے کے لیے بہت کم وقت ملا۔ تاہم، سولنکی نے تھکاوٹ کو شکست کا بہانہ بنانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا: ‘کم وقت میں زیادہ میچ کھیلنا یقیناً ایک چیلنج ہے، لیکن میں اس کا سہارا نہیں لوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آر سی بی نے ہمیں شکست دی ہے۔’
ٹاپ آرڈر پر انحصار کے سوالات پر ردعمل
جب سولنکی سے شبمن گل، سائی سدرشن اور جوس بٹلر پر ٹیم کے ضرورت سے زیادہ انحصار کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ قدرے برہم نظر آئے۔ انہوں نے کہا: ‘میں نے کتنی بار اس سوال کا جواب دیا ہے؟ ہم نے ابھی فائنل کھیلا ہے۔ یہ ماننا چاہیے کہ ہم نے ایک معقول مہم چلائی ہے، اور اس کی تفصیلات سب کے سامنے ہیں۔’
پچ کا غلط تخمینہ
فائنل کے دوران گجرات ٹائٹنز کی حکمت عملی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سولنکی نے اعتراف کیا کہ ان سے اسکور کے تعین میں غلطی ہوئی۔ انہوں نے کہا: ‘ہم نے شاید پچ پر درکار اسکور کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ 200 پلس والی پچ تھی۔ اگر ہم 180 کے آس پاس اسکور کرتے تو یہ ایک چیلنجنگ ٹوٹل ہوتا۔’
ویراٹ کوہلی کی کارکردگی
ویراٹ کوہلی کی شاندار اننگز کے بارے میں سوال پر سولنکی نے کہا: ‘ہم سب اچھے کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اور ویراٹ ایک غیر معمولی کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے شاندار اننگز کھیلی۔ اگرچہ میں اس وقت اس اننگز کا جشن نہیں منا رہا، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے تعاقب کو بہترین انداز میں آگے بڑھایا۔’
مستقبل کے لیے حوصلہ
آخر میں، سولنکی نے اس بات پر زور دیا کہ گجرات ٹائٹنز کی ٹیم کو اپنی کامیابیوں پر فخر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایک قدم اور آگے جانا خواب تھا، لیکن بہت سی ٹیمیں ایسی ہوں گی جو ہماری جگہ پر ہونے کو ترجیح دیتیں۔ ٹیم اب اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اگلے سیزن میں بہتر واپسی کی تیاری کرے گی۔
