Damien Wright leaves West Indies role to return to Tasmania as bowling coach
کرکٹ تسمانیہ میں ایک نئے دور کا آغاز
آسٹریلوی ڈومیسٹک کرکٹ میں ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی ہے، جہاں Damien Wright leaves West Indies role to return to Tasmania as bowling coach کے فیصلے کے بعد تسمانیہ کی کرکٹ ٹیم میں نئی روح پھونکنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ڈیمین رائٹ، جو پہلے ویسٹ انڈیز کی خواتین ٹیم کے ساتھ بولنگ کوچ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، اب اپنے پرانے گھر تسمانیہ واپس آ رہے ہیں۔
ڈیمین رائٹ کی واپسی اور کرکٹ تسمانیہ سے وابستگی
ڈیمین رائٹ کا تسمانیہ کے ساتھ تعلق بہت پرانا اور جذباتی ہے۔ وہ 2006-07 میں تسمانیہ کی جانب سے پہلی شیفیلڈ شیلڈ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے، جہاں انہوں نے میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں اور 67 رنز بھی بنائے۔ رائٹ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ تسمانیہ ہمیشہ ان کے دل کے قریب رہا ہے اور وہ یہاں کے کھلاڑیوں اور عملے کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
کیریئر کا تسلسل اور تجربہ
رائٹ محض ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک تجربہ کار کوچ بھی ہیں۔ وہ 2013 سے 2017 کے درمیان چار سیزن تک ہوبارٹ ہریکینز کے ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں اور ان کی زیرِ قیادت ٹیم نے 2013-14 میں پہلی بار فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ اب وہ ہیڈ کوچ جیف وان کے ساتھ مل کر تسمانیہ کے شیفیلڈ شیلڈ اور ون ڈے کپ اسکواڈ کو مزید مستحکم کریں گے۔
شان بریڈ اسٹریٹ: ہوبارٹ ہریکینز کے نئے بولنگ کوچ
دوسری جانب، جیمز ہوپس کے سڈنی سکسرز کے ہیڈ کوچ بننے کے بعد خالی ہونے والی ہوبارٹ ہریکینز کی بولنگ کوچنگ کی نشست اب شان بریڈ اسٹریٹ سنبھالیں گے۔ بریڈ اسٹریٹ کا تجربہ بھی متاثر کن ہے، انہوں نے سڈنی تھنڈر اور نیو ساؤتھ ویلز کے ساتھ کام کیا ہے، نیز میجر لیگ کرکٹ میں رکی پونٹنگ کے ساتھ بھی خدمات انجام دی ہیں۔
تسمانیہ کی حکمت عملی
کرکٹ تسمانیہ اور ہریکینز کی جنرل منیجر برائے ہائی پرفارمنس، سیلیئن بیمز نے شان بریڈ اسٹریٹ کی تقرری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بریڈ اسٹریٹ اپنی تکنیکی مہارت، کھیل کی گہری سمجھ اور کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ٹیم کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوں گے۔
کرکٹ کا مستقبل اور تسمانیہ کا کردار
تسمانیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خطہ آسٹریلوی کرکٹ کو بہترین کوچز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نو کھلاڑی جو 2006-07 کی فاتح ٹیم کا حصہ تھے، اب آسٹریلیا کے ڈومیسٹک اور نیشنل سسٹم میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں ایڈم گریفتھ، جارج بیلی، مائیکل ڈی وینیٹو اور ڈین مارش شامل ہیں۔ ڈیمین رائٹ کی واپسی اس تسلسل کو مزید تقویت دے گی۔ یہ تبدیلی نہ صرف تسمانیہ بلکہ مجموعی طور پر آسٹریلوی کرکٹ کی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوگی۔ کھلاڑیوں کو اب ایک ایسے کوچ کی رہنمائی حاصل ہوگی جو تسمانیہ کی کرکٹ کی روح اور اس کی روایات سے بخوبی واقف ہے۔
