Vaibhav Sooryavanshi Claims Can’t Care Less About Chris Gayle – ویبھو سوریاونشی کا کرس گیل کے ریکارڈ پر ردعمل: آئی پی ایل 2026 کا سنسنی خیز مقابلہ
ویبھو سوریاونشی کی طوفانی اننگز اور کرس گیل کا ریکارڈ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے سنسنی خیز مقابلے شائقین کرکٹ کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر رہے ہیں۔ نیو چنڈی گڑھ میں کھیلے گئے الیمی نیٹر میچ میں راجستھان رائلز کے نوجوان اور باصلاحیت اوپنر ویبھو سوریاونشی نے ایک ایسی اننگز کھیلی جس نے کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ صرف 15 سال کی عمر میں، سوریاونشی نے سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ایسی جارحانہ بیٹنگ کی کہ حریف ٹیم کے گیند باز بے بس دکھائی دیے۔ انہوں نے میدان کے چاروں اطراف چوکے اور چھکے برسائے اور اپنی ٹیم کو ایک تاریخی فتح سے ہمکنار کروایا۔ اس طوفانی اننگز نے نہ صرف راجستھان رائلز کے لیے دوسرے کوالیفائر کا راستہ صاف کیا بلکہ نوجوان کھلاڑی کی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔
صرف ایک شاٹ کی دوری: تیز ترین سنچری کا ریکارڈ کیسے چھوٹا؟
اس سنسنی خیز میچ میں راجستھان رائلز کی جانب سے اننگز کا آغاز انتہائی دھماکہ خیز رہا۔ ویبھو سوریاونشی نے میدان میں قدم رکھتے ہی حریف گیند بازوں پر دباؤ قائم کر دیا۔ انہوں نے صرف 29 گیندوں کا سامنا کیا اور 97 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی۔ اس اننگز کے دوران انہوں نے 5 شاندار چوکے اور 12 فلک شگاف چھکے لگائے۔ ان کی اس برق رفتار بیٹنگ کی بدولت اسٹیڈیم میں موجود تماشائی ششدر رہ گئے۔ سوریاونشی کی اس باری نے سن رائزرز حیدرآباد کے گیند بازوں کی لائن اور لینتھ کو مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا اور راجستھان رائلز کو ایک بڑے اسکور کی بنیاد فراہم کی۔
اس طوفانی اننگز کے دوران، ویبھو سوریاونشی آئی پی ایل کی تاریخ کی تیز ترین سنچری بنانے کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔ یہ ریکارڈ فی الحال ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل کے پاس ہے، انہوں نے رائل چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کرتے ہوئے صرف 30 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی۔ سوریاونشی اپنی اننگز کی 28 گیندوں پر 97 رنز بنا کر کھیل رہے تھے اور انہیں کرس گیل کا ریکارڈ توڑنے کے لیے اگلی گیند پر صرف ایک باؤنڈری کی ضرورت تھی۔ تاہم، اننگز کی 29ویں گیند پر وہ پرافل ہنگے کی گیند پر اپر کٹ کھیلنے کی کوشش میں روی چندرن سمرن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس طرح وہ محض 3 رنز کے فرق سے نہ صرف اپنی سنچری سے محروم رہے بلکہ تاریخ کا ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کرنے سے بھی بال بال بچ گئے۔
“سنچریاں بنتی رہیں گی، اصل ہدف ٹرافی جیتنا ہے” – نوجوان کھلاڑی کا عزم
اتنے بڑے ریکارڈ اور سنچری سے محروم ہونے کے باوجود، نوجوان ویبھو سوریاونشی کے چہرے پر کسی قسم کا ملال نظر نہیں آیا۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی پختہ عزائم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ریکارڈ سے بالکل بے خبر تھے اور انہوں نے آؤٹ ہونے کے بعد ہی محسوس کیا کہ وہ کرس گیل کا ریکارڈ توڑنے کے کتنے قریب تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا واحد مقصد اپنی ٹیم کے لیے زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنا اور آئی پی ایل 2026 کی چمکتی ہوئی ٹرافی کو اٹھانا ہے۔ سوریاونشی نے جذباتی اور مخلص انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: “میری سنچریاں تو بنتی رہیں گی، مجھے تو آؤٹ ہونے کے بعد ہی پتا چلا۔ اس وقت میرا واحد ہدف ٹیم کی جیت میں کردار ادا کرنا تھا کیونکہ سنچریاں تو آتی جاتی رہیں گی، لیکن اس وقت اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ٹرافی کیسے جیتی جائے۔”
کرس گیل کا وہ تاریخی ریکارڈ جو سوریاونشی نے توڑ دیا
اگرچہ ویبھو تیز ترین سنچری کا ریکارڈ نہ بنا سکے، لیکن انہوں نے اس میچ کے دوران کرس گیل کا ایک اور بڑا اور تاریخی آئی پی ایل ریکارڈ ضرور پاش پاش کر دیا۔ اس اننگز میں 12 چھکے لگانے کے بعد، آئی پی ایل 2026 کے اس سیزن میں ان کے مجموعی چھکوں کی تعداد 65 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ کرس گیل کے پاس تھا جنہوں نے آئی پی ایل 2012 کے سیزن میں رائل چیلنجرز بنگلور کے لیے کھیلتے ہوئے 59 چھکے لگائے تھے اور 733 رنز بنائے تھے۔ محض 15 سال کی عمر میں گیل جیسے مایہ ناز بلے باز کا یہ ریکارڈ توڑنا ویبھو سوریاونشی کی غیر معمولی طاقت اور ہٹ کرنے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میچ کا احوال: راجستھان رائلز کی شاندار فتح
اگر میچ کے مجموعی احوال پر نظر ڈالی جائے تو راجستھان رائلز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 243 رنز کا ہمالیہ جیسا اسکور کھڑا کیا۔ ویبھو سوریاونشی کی 97 رنز کی اننگز کے علاوہ، نمبر تین پر بیٹنگ کے لیے آنے والے دھرو جریل نے بھی جارحانہ انداز اپنایا اور محض 21 گیندوں پر 50 رنز کی شاندار نصف سنچری اسکور کی۔ سن رائزرز حیدرآباد کی جانب سے تیز گیند باز پرافل ہنگے سب سے کامیاب باؤلر رہے، انہوں نے تین اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں ویبھو سوریاونشی اور رائلز کے کپتان ریان پراگ کی قیمتی وکٹیں بھی شامل ہیں۔
244 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں سن رائزرز حیدرآباد کا آغاز بھی انتہائی تیز تھا، جہاں اوپنر ایشان کشن نے صرف 11 گیندوں پر 33 رنز بنا کر ٹیم کو تیز شروعات فراہم کی۔ تاہم، راجستھان رائلز کے گیند بازوں نے نپی تلی باؤلنگ اور باقاعدہ وقفوں سے وکٹیں حاصل کر کے حیدرآباد کو مقابلے میں پیچھے دھکیل دیا۔ جوفرا آرچر نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے 58 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا بھرپور ساتھ ناندرے برگر (2 وکٹیں)، سشانت مشرا (2 وکٹیں) اور تجربہ کار اسپنر رویندر جڈیجہ (2 وکٹیں) نے دیا۔ ان کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت سن رائزرز حیدرآباد کی پوری ٹیم مقررہ اوورز میں صرف 196 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، اور راجستھان نے یہ میچ 47 رنز کے واضح مارجن سے جیت لیا۔
کوالیفائر 2 میں گجرات ٹائٹنز سے ٹکراؤ
اس شاندار فتح کے بعد راجستھان رائلز کا سفر اب دوسرے کوالیفائر کی طرف بڑھ چکا ہے، جہاں ان کا مقابلہ مضبوط حریف گجرات ٹائٹنز سے ہوگا۔ یہ اہم ترین میچ جمعہ، 29 مئی کو نیو چنڈی گڑھ کے اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ شائقین کرکٹ کو امید ہے کہ ویبھو سوریاونشی اپنی اسی شاندار فارم کو برقرار رکھتے ہوئے گجرات کے خلاف بھی راجستھان رائلز کو فائنل کی راہ دکھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ آئی پی ایل 2026 کا یہ سیزن اب اپنے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اور راجستھان رائلز کی حالیہ کارکردگی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ٹرافی جیتنے کے مضبوط ترین امیدوار بن چکے ہیں۔
