بھارتی ٹی 20 کپتان سوریہ کمار یادو کی قیادت خطرے میں، گوتم گمبھیر حتمی فیصلہ کریں گے
بھارتی کرکٹ میں بڑی تبدیلی کا امکان: سوریہ کمار یادو کی کپتانی داؤ پر
بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں ان دنوں ایک بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ طویل عرصے سے ٹی 20 فارمیٹ میں بھارت کی قیادت کرنے والے سوریہ کمار یادو (SKY) کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، قومی سلیکشن کمیٹی سوریہ کمار کی ٹیم میں بطور بلے باز شمولیت پر بھی غور کر رہی ہے، کیونکہ حالیہ کارکردگی نے ان کی جگہ کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
کارکردگی میں تشویشناک گراوٹ
سوریہ کمار یادو کی فارم ایشیا کپ 2025 کے بعد سے مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ اگرچہ ان کی قیادت میں ٹیم نے ایشیا کپ کا ٹائٹل جیتا، لیکن بطور بلے باز ان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ انہوں نے چھ میچوں میں صرف 18 کی اوسط سے رنز بنائے۔ اس کے بعد آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی وہ چار میچوں میں محض 84 رنز ہی جوڑ سکے۔
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 بھی سوریہ کمار کے لیے کچھ خاص نہ رہا، جہاں انہوں نے نو اننگز میں 30.25 کی اوسط اور 136.72 کے سٹرائیک ریٹ سے 242 رنز بنائے۔ آئی پی ایل 2026 میں ممبئی انڈینز کی جانب سے کھیلتے ہوئے ان کی کارکردگی مزید گر گئی، جہاں انہوں نے 12 میچوں میں 17.50 کی اوسط سے صرف 210 رنز بنائے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف سلیکٹرز بلکہ ماہرین کرکٹ کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔
سلیکٹرز کا سخت موقف اور مستقبل کا لائحہ عمل
بی سی سی آئی کے ذرائع کے مطابق، تمام پانچ سلیکٹرز سوریہ کمار یادو کو پلیئنگ الیون میں برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ اب ٹیم کو مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے، خاص طور پر 2028 کے اولمپکس اور ورلڈ کپ کے تناظر میں۔ بی سی سی آئی کے ایک سینیئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز کو امید تھی کہ آئی پی ایل میں سوریہ اپنی فارم بحال کر لیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ان کی تکنیک میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دی۔
گوتم گمبھیر کا فیصلہ کن کردار
اس تمام صورتحال میں ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کی رائے سب سے اہم ہے۔ گمبھیر اور سوریہ کمار کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حتمی فیصلہ گمبھیر کے ہاتھ میں ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا گمبھیر اپنی دوستی کو ترجیح دیتے ہیں یا ٹیم کی ضرورت کے پیش نظر سخت فیصلہ کرتے ہیں۔
جانشین کون ہو سکتا ہے؟
اگر سوریہ کمار کو کپتانی سے ہٹایا جاتا ہے تو بھارتی کرکٹ میں قیادت کے نئے دروازے کھل جائیں گے۔ اس دوڑ میں شریاس آئیر اور تلک ورما کے نام نمایاں ہیں۔ تلک ورما کو سہ فریقی ‘اے’ سیریز میں کپتانی سونپنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بی سی سی آئی ان کی قیادت کی صلاحیتوں کو پرکھ رہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ بھارتی کرکٹ ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں تبدیلیاں ناگزیر دکھائی دیتی ہیں۔ چاہے وہ کپتانی کا فیصلہ ہو یا ٹیم میں نئے خون کی شمولیت، اگلے کچھ ماہ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ شائقین کرکٹ اب گوتم گمبھیر کے حتمی اعلان کے منتظر ہیں کہ آیا ‘مسٹر 360’ اپنی پوزیشن برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔
