سٹیون فن: ویرات کوہلی سے شدید ٹکراؤ کے بعد اب انگلینڈ کے چیف سلیکٹر بننے کی دوڑ میں
سٹیون فن: میدان کی جنگ سے انتظامیہ کے ایوانوں تک کا سفر
کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ سے ہی دلچسپ مقابلوں اور ان سے پیدا ہونے والی دشمنیوں سے بھری پڑی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے کرکٹ شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ سٹیون فن، جو کبھی میدان میں بھارتی لیجنڈ ویرات کوہلی کے ساتھ شدید لفظی اور کھیل کے میدان میں جنگ لڑ چکے ہیں، اب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کے چیف سلیکٹر کے عہدے کے لیے اپنی दावे داری پیش کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سابق سلیکٹر لیوک رائٹ نے ایشز ٹور کے مایوس کن نتائج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اب انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو نہ صرف کھیل کی گہری سمجھ رکھتا ہو بلکہ کھلاڑیوں کی نفسیات کو بھی سمجھتا ہو۔
وہ یادگار مقابلہ: جب ویرات کوہلی نے سٹیون فن کو ‘سکھایا’
سٹیون فن اور ویرات کوہلی کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ 2012 میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ سلسلے کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے آج بھی انگلینڈ کے سابق اسپنر گریہم سوان یاد کرتے ہیں۔ اس وقت کوہلی ایک ابھرتے ہوئے ستارے تھے اور فن اپنی رفتار سے دنیا کو خوفزدہ کر رہے تھے۔
گریہم سوان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انگلش ٹیم کی حکمت عملی یہ تھی کہ ویرات کوہلی کو میدان میں اکسایا نہ جائے، کیونکہ کوہلی جب غصے میں آتے ہیں تو وہ ایک خطرناک بلے باز میں بدل جاتے ہیں۔ تاہم، سٹیون فن نے اس مشورے کو نظر انداز کر دیا۔ جب کوہلی نے فن کی گیندوں پر چند شاندار چوکے لگائے، تو فن نے انہیں مزید اشتعال دلانے کی کوشش کی۔
نتیجہ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ سوان کے الفاظ میں، “ویرات کوہلی ایک شیر کی طرح دھاڑے” اور فن کی اگلی گیندوں کو میدان کے ہر کونے میں پہنچا دیا۔ وہ مقابلہ نہ صرف فن کے لیے تکلیف دہ تھا بلکہ اس نے دنیا کو دکھایا کہ کوہلی دباؤ میں کیسے پرفارم کرتے ہیں۔
ایک نئی ذمہ داری اور ایک بھاری بھرکم تنخواہ
میدان میں کوہلی سے شکست کھانے والے سٹیون فن اب ایک ایسی نوکری کے لیے امیدوار ہیں جس کی سالانہ تنخواہ تقریباً 150,000 پاؤنڈز بتائی جا رہی ہے۔ 37 سالہ سٹیون فن نے 2023 میں گھٹنے کی مستقل چوٹ کی وجہ سے اپنے 18 سالہ طویل کیریئر کا خاتمہ کیا، جس میں انہوں نے مڈلسیکس، سسیکس اور قومی ٹیم کے لیے خدمات انجام دیں۔
فن کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ انہوں نے 36 ٹیسٹ اور 21 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے خود کو میڈیا کی دنیا میں ڈھال لیا۔ وہ ‘ٹیسٹ میچ اسپیشل’ کے لیے بطور کمنٹیٹر کام کر چکے ہیں اور ایشز کے دوران TNT کی کوریج کا حصہ بھی رہے۔
کیا سٹیون فن کو یہ عہدہ ملے گا؟
سٹیون فن کی اس Rennen میں سب سے بڑا سہارا موجودہ ہیڈ کوچ برینڈن میکولم ہیں۔ دونوں نے ایک ساتھ کرکٹ کھیلی ہے اور ان کے درمیان گہرے پیشہ ورانہ تعلقات ہیں۔ میکولم کی حمایت فن کے لیے ایک بڑا پلس پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، حتمی فیصلہ انگلینڈ کے ڈائریکٹر آف کرکٹ روب کی کو کرنا ہے۔
روب کی کے سامنے ایک مشکل چیلنج ہے کیونکہ ایشز میں 4-1 کی شکست کے بعد انگلینڈ کی ٹیم شدید دباؤ میں ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کے درمیان تعلقات ضرورت سے زیادہ دوستانہ ہوئے تو ٹیم کے نظم و ضبط اور شفافیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دیگر امیدوار اور مستقبل کا لائحہ عمل
سٹیون فن کے علاوہ بھی چند بڑے نام اس دوڑ میں شامل ہیں:
- n
- ڈیرن گوگ: جنہیں روب کی اور ان کی ٹیم ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
- نک نائٹ: سابق اوپنر اور اسکائی پریزنٹر بھی اس عہدے کے لیے زیر غور ہیں۔
اگر اس عہدے پر جلد تعیناتی نہ کی گئی تو نئے سلیکٹر کے لیے موسم گرما کے پہلے ٹیسٹ اسکواڈ میں اپنا اثر و رسوخ دکھانا مشکل ہو جائے گا۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز 4 جون سے شروع ہو کر 29 جون تک چلے گی، جس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم بھارت کا میزبانی کرے گی۔ بھارت کے خلاف پانچ ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے میچز کا سلسلہ جولائی سے شروع ہوگا، جس کی وجہ سے سلیکٹر کا انتخاب انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
نتیجہ
سٹیون فن کا سفر ایک کھلاڑی سے ایک منتظم بننے تک کا ہے، جس میں انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ چاہے وہ ویرات کوہلی کے ہاتھوں ہونے والی عبرت ناک شکست ہو یا میڈیا میں کامیابی، فن نے ہمیشہ خود کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ انگلینڈ کے کرکٹ ڈھانچے میں وہی تبدیلی لا پائیں گے جس کی ٹیم کو اس وقت ضرورت ہے۔
