Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
Latest Cricket News

Sourav Ganguly raises concerns over Rishabh Pant’s T20 adaptation and leadership – سوربھ گنگولی کا رشبھ پنت کی ٹی 20 فارم اور کپتانی پر اظہار تشویش

Sana Iqbal · · 1 min read

رشبھ پنت کا مشکل دور: سوربھ گنگولی کی نظر میں

رشبھ پنت، جنہیں جدید کرکٹ کے باصلاحیت ترین بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جو آئی پی ایل کی تاریخ میں 27 کروڑ روپے جیسی ریکارڈ رقم پر لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کا حصہ بنے، گزشتہ دو برسوں سے ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ ان کی فارم میں تسلسل کا فقدان اور کپتانی کے دباؤ نے ان کے شاندار کیریئر پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کپتانی کا بوجھ اور کارکردگی میں گراوٹ

سابق بھارتی کپتان سوربھ گنگولی نے حال ہی میں ‘ٹائمز آف انڈیا’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں پنت کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ گنگولی کا ماننا ہے کہ کپتانی ایک ایسا عمل ہے جس کا بوجھ ہر کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ کچھ کھلاڑی اس دباؤ میں نکھر جاتے ہیں جبکہ کچھ کے لیے اپنی انفرادی کارکردگی اور ٹیم کی قیادت کے درمیان توازن قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پنت کے معاملے میں یہ واضح طور پر دکھائی دیا ہے کہ کپتانی سنبھالنے کے بعد ان کا بلے سے جادو ماند پڑ گیا ہے۔

لکھنؤ سپر جائنٹس کے ساتھ اعداد و شمار

آئی پی ایل 2025 اور 2026 کے سیزنز میں رشبھ پنت کی قیادت میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ ان دو برسوں کے دوران ٹیم نے مجموعی طور پر 28 میچ کھیلے، جن میں سے صرف 10 میں انہیں کامیابی ملی، جبکہ 18 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی جیت کا تناسب محض 35.7 فیصد رہا۔

  • آئی پی ایل 2025: پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں پوزیشن۔
  • آئی پی ایل 2026: دس ٹیموں کے مقابلے میں آخری نمبر پر اختتام۔

ان کی انفرادی کارکردگی کی بات کریں تو گزشتہ سیزن میں انہوں نے 24.45 کی اوسط سے 269 رنز بنائے، جبکہ 2026 میں انہوں نے 13 اننگز میں 28.36 کی اوسط سے 312 رنز بنائے۔ یہ اعداد و شمار ان کے مجموعی آئی پی ایل کیریئر (اوسط 33.60) سے کافی کم ہیں۔

سوربھ گنگولی کا تجزیہ

گنگولی نے پنت کی ٹیسٹ کرکٹ میں صلاحیتوں کا اعتراف کیا لیکن ٹی 20 فارمیٹ میں ان کی مشکلات پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا: ‘وہ ٹیسٹ کرکٹ کا بہت اچھا کھلاڑی ہے۔ اس کی ٹیسٹ میچ کی بیٹنگ عالمی معیار کی ہے۔ لیکن وہ ابھی بھی ٹی 20 کرکٹ میں خود کو ڈھالنے میں مشکلات کا شکار ہے۔’

گنگولی نے مزید کہا: ‘کپتانی ہر کسی پر ایک بوجھ ہوتی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے سنبھالتے ہیں۔ کپتانی ایک اعزاز ہے، اس لیے آپ کو توازن درست رکھنا ہوگا۔ اگر آپ نہیں کر پاتے، تو کوئی اور کرے گا۔’

مستقبل کے چیلنجز

پنت کی بار بار ہونے والی انجریز نے بھی ان کی رفتار کو روکا ہے۔ کرکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ انہیں اپنی فٹنس اور فارم پر دوبارہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ان کے پاس صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن آئی پی ایل جیسے سخت مقابلے میں صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی؛ یہاں ذہنی مضبوطی اور حکمت عملی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ رشبھ پنت آنے والے وقت میں اپنی کپتانی اور بیٹنگ کے توازن کو کیسے بہتر بناتے ہیں۔

رشبھ پنت کے مداح اب بھی پرامید ہیں کہ وہ اپنی پرانی فارم میں واپس آئیں گے اور ایک بار پھر اپنی جارحانہ بیٹنگ سے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو محظوظ کریں گے۔ کرکٹ کی دنیا کی نظریں اب ان کے اگلے دورے اور میچوں پر جمی ہوئی ہیں۔

Avatar photo
Sana Iqbal

Sana Iqbal focuses on player journeys, biographies, and in-depth profiles of emerging and established cricket stars.