Shaheen Afridi on Pakistan quicks losing speed: ‘Machines deteriorate with time’ – شاہین آفریدی کا پاکستانی فاسٹ بولرز کی رفتار میں کمی پر ردعمل
پاکستان کرکٹ میں فاسٹ بولنگ کی رفتار کا بحران
پاکستان کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ تیز رفتار فاسٹ بولرز سے عبارت رہی ہے، لیکن حال ہی میں قومی ٹیم کے فاسٹ بولرز کی رفتار میں نمایاں کمی نے شائقین اور ماہرین دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے آغاز سے قبل ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے اس معاملے پر کھل کر بات کی ہے۔
مشینیں وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں: شاہین آفریدی
شاہین آفریدی نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر ناہد رانا کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کے لیے رفتار برقرار رکھنا آسان ہوتا ہے، جبکہ طویل عرصے سے کرکٹ کھیلنے والے بولرز کے لیے چیلنجز مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ‘سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی جسم ایک مشین کی طرح ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہم مسلسل پاکستان کے لیے دستیاب رہتے ہیں اور اسی وجہ سے جسمانی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا فطری عمل ہے۔’
آفریدی کا ماننا ہے کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بولرز خود بھی اپنی رفتار بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں اور اب ورک لوڈ مینجمنٹ پر زیادہ توجہ دی جائے گی تاکہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع مل سکے۔
کیا رفتار میں کمی کارکردگی پر اثر انداز ہوئی؟
بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی بولرز کی اوسط رفتار 120 اور 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہی، جبکہ بنگلہ دیشی بولرز 140 کلومیٹر سے زائد کی رفتار سے گیندیں کر رہے تھے۔ شاہین آفریدی خود بھی 2022 میں گھٹنے کی انجری کے بعد سے اپنی پرانی رفتار دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب شاہین پاکستانی بولنگ لائن اپ کے اہم ترین ہتھیار تھے، لیکن حالیہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ان کی وکٹیں لینے کی اوسط میں بھی فرق آیا ہے۔
محمد رضوان کی ٹیم سے ڈراپ ہونے کی حقیقت
ایک اور اہم موضوع جو کرکٹ حلقوں میں زیر بحث ہے، وہ محمد رضوان کو ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کیا جانا ہے۔ اگرچہ رضوان حالیہ عرصے میں پاکستان کے دوسرے سب سے کامیاب بلے باز رہے ہیں، تاہم انہیں ٹیم سے باہر کرنے کے فیصلے نے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔
شاہین آفریدی نے اس معاملے پر پرسکون رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: ‘میں تجویز کروں گا کہ آپ لوگ جلدی کسی نتیجے پر نہ پہنچیں۔ بابر اعظم اور میں خود بھی ٹیم سے ڈراپ ہو چکے ہیں، لیکن ہم نے واپسی کی۔ میں نے خود رضوان سے اس بارے میں بات کی ہے۔ انہیں ٹیم سے ڈراپ کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ان کی کرکٹ ختم ہو گئی ہے۔’
ورلڈ کپ کے لیے نئی حکمت عملی
آفریدی کے مطابق سلیکٹرز کا بنیادی مقصد 16 ماہ بعد ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کا پول تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے روحیل نذیر، عرفات منہاس اور احمد دانیال جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جا رہا ہے تاکہ ایک مضبوط بینچ سٹرینتھ تیار ہو سکے۔
پاکستان کی اگلی سیریز کے میچز لاہور میں کھیلے جائیں گے، جہاں ٹیم انتظامیہ اور سلیکٹرز کی نظریں نوجوان ٹیلنٹ کی کارکردگی پر ہوں گی۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا NCA کا نیا پلان اور ورک لوڈ مینجمنٹ پاکستانی بولرز کو ان کی کھوئی ہوئی رفتار اور اعتماد واپس دلانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
- ورک لوڈ مینجمنٹ پر خصوصی توجہ کی ضرورت۔
- نوجوان کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موقع فراہم کرنا۔
- بولرز کی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے NCA کا کردار۔
