بی سی سی آئی کی ریان پراگ کی ویپنگ اسکینڈل پر خاموشی ٹوٹی: کیا کپتان پر پابندی لگے گی؟
ریان پراگ کی ویپنگ اسکینڈل: بی سی سی آئی کی تحقیقات اور ممکنہ پابندی
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے، لیکن میدان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اب ڈریسنگ روم کے معاملات بھی خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔ راجستھان رائلز کے کپتان ریان پراگ اس وقت ایک شدید تنازع کا شکار ہیں، کیونکہ انہیں ٹیم کے ڈریسنگ روم کے اندر ‘ویپنگ’ (Vaping) کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) نے خاموشی توڑ دی ہے اور کھلاڑی سے جواب طلبی کی ہے۔
واقعہ کیا تھا اور یہ کیسے منظرِ عام پر آیا؟
یہ پورا واقعہ 28 اپریل کو پیش آیا جب راجستھان رائلز کا مقابلہ پنجاب کنگز کے خلاف نیو چندی گڑھ کے مہاراجہ یادویندر سنگھ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ریان پراگ کو ڈریسنگ روم کے اندر ویپنگ کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جیسے ہی یہ ویڈیو منظرِ عام پر آئی، کرکٹ شائقین نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل جیسی ہائی پروفائل لیگ میں، جہاں کھلاڑی لاکھوں نوجوانوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں، اس طرح کا رویہ نہ صرف غیر پیشہ ورانہ ہے بلکہ نظم و ضبط کی شدید خلاف ورزی ہے۔ شائقین نے بی سی سی آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں سخت ایکشن لے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی کھلاڑی ایسی غلطی نہ کرے۔
بی سی سی آئی کا موقف اور ممکنہ سزا
اگرچہ بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی پی ایل انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی باقاعدہ تحریری بیان جاری نہیں کیا گیا، لیکن اندرونی ذرائع اور ‘انڈیا ٹوڈے’ کی رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ معاملہ فی الحال زیرِ غور ہے اور تفتیش کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
کچھ رپورٹوں کے مطابق، ریان پراگ کو اس نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر دو میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ پابندی عائد ہوتی ہے، تو امکان ہے کہ یاشسوی جیسوال اگلے دو میچوں کے لیے راجستھان رائلز کی قیادت سنبھالیں گے۔ یہ صورتحال ٹیم کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے کیونکہ کپتان کی غیر موجودگی میدان میں حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتی ہے۔
میدانی کامیابی بمقابلہ ڈسپلن کا بحران
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب راجستھان رائلز نے میدان میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔ پنجاب کنگز کے خلاف میچ میں راجستھان کو 223 رنز کے ایک بڑے ہدف کا تعاقب کرنا تھا، جسے انہوں نے 6 وکٹوں سے حاصل کر کے فتح اپنے نام کی۔
- یاشسوی جیسوال: 51 رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔
- وibhav سوریہ وانشی: 43 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔
- ڈونوون فیریرا: 52 رنز بنا کر ٹیم کو جیت کی دہلیز تک پہنچائے۔
ٹیم کی اس مجموعی برتری کے باوجود، کپتان کے انفرادی رویے نے تمام تر توجہ میچ کی جیت سے ہٹا کر ڈسپلنری ایشوز پر مرکوز کر دی ہے۔
ریان پراگ کا کپتانی کا سفر اور موجودہ فارم
ریان پراگ کو اس سیزن (19ویں سیزن) کے لیے راجستھان رائلز کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ یہ تبدیلی اس وقت ہوئی جب ٹیم کے سابق کپتان سنجو سیمسن کو ٹریڈ کے ذریعے چنئی سپر کنگز (CSK) بھیج دیا گیا، اور بدلے میں رویندرا جڈیجا اور سیم کرن 2008 کے چیمپئنز یعنی راجستھان رائلز میں شامل ہوئے۔
تاہم، کپتان کے طور پر پراگ کی اپنی بیٹنگ فارم کچھ خاص نہیں رہی۔ انہوں نے اب تک صرف 117 رنز بنائے ہیں، جن میں اوسط 14.63 اور اسٹرائیک ریٹ 124.47 رہا ہے۔ ایسے میں ڈسپلنری مسائل ان کے لیے مزید دباؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
کیا یہ راجستھان رائلز میں نظم و ضبط کی کمی ہے؟
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ راجستھان رائلز کے کسی رکن کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا گیا ہو۔ حال ہی میں ٹیم کے منیجر رومی بھنڈر پر رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف میچ کے دوران ڈگ آؤٹ میں فون استعمال کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ مسلسل ہونے والے یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹیم مینجمنٹ کو کھلاڑیوں اور عملے کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
اب تمام نظریں بی سی سی آئی کے فیصلے پر ہیں کہ آیا وہ ریان پراگ کو معاف کریں گے یا ایک سخت مثال قائم کرتے ہوئے ان پر پابندی عائد کریں گے۔
