ریشبھ پنت کو ٹیم سے باہر کرنے کے بعد مداحوں کا ردعمل: کیا یہ ایک زوال ہے؟
بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں ایک اہم خبر نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے جہاں آئندہ افغانستان کے خلاف ایک ٹیسٹ اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے لیے بھارتی مردوں کی سینئر قومی سلیکشن کمیٹی نے اسکواڈز کا اعلان کیا ہے۔ ان اسکواڈز میں سب سے چونکا دینے والی بات وکٹ کیپر بلے باز ریشبھ پنت کی دونوں ٹیموں سے عدم موجودگی تھی۔ یہ فیصلہ کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
ریشبھ پنت کو نہ صرف ٹیسٹ ٹیم کی نائب کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے بلکہ انہیں ون ڈے اسکواڈ میں بیک اپ وکٹ کیپر کے طور پر بھی جگہ نہیں ملی۔ ان فیصلوں کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ان کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں خراب کارکردگی معلوم ہوتی ہے۔ پنت لکھنؤ سپر جائنٹس کی قیادت کر رہے تھے، لیکن ان کی ٹیم آئی پی ایل 2026 کے پلے آف کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو چکی ہے۔ ایک کپتان اور اہم بلے باز کے طور پر ان کی کارکردگی اس سیزن میں خاطر خواہ نہیں رہی، جس نے بظاہر سلیکٹرز کو یہ سخت فیصلے لینے پر مجبور کیا۔
ریشبھ پنت کی ٹیسٹ کپتانی اور ون ڈے میں عدم شرکت
پنت کا ٹیسٹ نائب کپتان کے طور پر ریکارڈ بھی کوئی خاص شاندار نہیں رہا۔ نومبر 2025 میں جب شبمن گل زخمی ہوئے تھے تو ریشبھ پنت نے جنوبی افریقہ کے خلاف بھارت کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سنبھالی تھی۔ اس سیریز میں بھارت کو 0-2 سے وائٹ واش شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس نے ان کی قیادت کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ ون ڈے فارمیٹ میں بھی، اگرچہ پنت دوسرے وکٹ کیپر تھے، انہوں نے اگست 2024 کے بعد سے اس فارمیٹ میں ایک بھی میچ نہیں کھیلا تھا۔ اس کے علاوہ، وہ طویل عرصے سے ٹی 20 انٹرنیشنل کے منصوبوں کا حصہ بھی نہیں رہے ہیں۔ ان تمام عوامل نے مل کر سلیکٹرز کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اب وقت ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے اور ٹیم میں تبدیلیاں لائی جائیں۔
مداحوں کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر بحث
ریشبھ پنت کے ٹیم سے باہر ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی اور کرکٹ مداحوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ پلیٹ فارمز جیسے ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر مداحوں نے اسے ‘زوال’ قرار دیا اور مختلف تبصرے کیے۔
- ایک مداح نے لکھا، “ریشبھ پنت کا زوال، ون ڈے ٹیم سے خارج اور ٹیسٹ ٹیم سے نائب کپتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔” یہ ٹویٹ پنت کی موجودہ صورتحال کو واضح طور پر بیان کر رہا تھا اور اس میں موجود مایوسی نمایاں تھی۔
- ایک اور مداح نے ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “گرنور دونوں اسکواڈز میں شامل ہو رہے ہیں۔ بھارت HTD باؤلرز پر توجہ دے رہا ہے۔ پرنس کے لیے خوشی ہے، ون ڈے کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ ہرش دوبے نے بھی جگہ بنا لی ہے۔ پنت اب ٹیسٹ میں نائب کپتان نہیں ہیں اور انہیں ون ڈے میں بھی جگہ نہیں ملی۔” یہ تبصرہ نئے کھلاڑیوں کی شمولیت اور پنت کی جگہ پر زور دے رہا تھا۔
- ایک دلچسپ لیکن غیر مصدقہ دعویٰ ایک اور مداح کی جانب سے سامنے آیا جس نے لکھا، “گوتم گمبھیر ہی ریشبھ پنت کی نائب کپتانی چھیننے کی واحد وجہ ہیں۔” https://t.co/iFSH3F3vqD اس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ مداح مختلف نظریات پیش کر رہے ہیں۔
- بی سی سی آئی کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے ایک مداح نے کہا، “🚨 ریشبھ پنت کو بھارتی ٹیسٹ ٹیم کی نائب کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے، کے ایل راہل نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ 🚨- بی سی سی آئی کا بہترین فیصلہ۔” https://t.co/P6D63e7Qkn یہ ٹویٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ مداح سلیکشن کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔
- ایک اور تبصرہ میں یہ تجویز دی گئی کہ، “ریشبھ کو ٹیسٹ نائب کپتانی سے ہٹا دیا گیا اور انہوں نے اسے ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کر کے چھپانے کی کوشش کی۔” یہ ایک سازشی نظریہ تھا جس میں سلیکشن کمیٹی کے مقاصد پر سوال اٹھایا گیا۔
- آخر میں، ایک مایوس مداح نے لکھا، “میرے خیال میں ریشبھ پنت کے لیے LOIs میں یہ اختتام ہے۔ T20Is سے انہیں ہٹانا کافی منصفانہ تھا لیکن اب ون ڈے کے منصوبوں میں نہ ہونا واقعی بدقسمتی کی بات ہے۔” https://t.co/fdxaan2sT0 یہ ٹویٹ پنت کے محدود اوورز کے کرکٹ کیریئر پر تشویش کا اظہار کر رہا تھا۔
آگے کا راستہ اور پنت کا مستقبل
ریشبھ پنت کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، جب انہیں تینوں فارمیٹس کی قومی ٹیموں سے باہر کر دیا گیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ سلیکٹرز فارم اور مستقبل کی حکمت عملی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ گمنور، پرنس اور ہرش دوبے جیسے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارتی کرکٹ مستقبل کے لیے نئے ٹیلنٹ کو تلاش کر رہی ہے۔ کے ایل راہل کا ٹیسٹ نائب کپتان بننا بھی قیادت کے ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
پنت کے لیے اب یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی فارم کو دوبارہ حاصل کریں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا کر سلیکٹرز کو اپنی جانب متوجہ کریں۔ بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں ایسے کئی کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹیم سے باہر ہونے کے بعد مضبوط واپسی کی ہے۔ ریشبھ پنت میں غیر معمولی ٹیلنٹ ہے اور اگر وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دوبارہ محنت کریں تو ان کا بین الاقوامی کرکٹ میں دوبارہ شامل ہونا ممکن ہے۔ تاہم، فوری طور پر انہیں اپنی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ وہ ایک بار پھر قومی اسکواڈ میں جگہ بنا سکیں۔
