پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: خرم شہزاد کا لٹن داس کو ‘بے حد خوش قسمت’ قرار
خرم شہزاد کی شاندار بولنگ اور لٹن داس کا دفاع
سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن، پاکستان کے فاسٹ بولر خرم شہزاد نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا۔ انہوں نے چار اہم وکٹیں حاصل کر کے بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن اپ کو شدید دباؤ میں رکھا۔ تاہم، دن کے اختتام پر بنگلہ دیشی بلے باز لٹن داس کی مزاحمت نے کھیل کا رخ بدل دیا۔ خرم شہزاد کا ماننا ہے کہ اگرچہ بنگلہ دیش نے 278 رنز بنائے، لیکن پچ کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان اب بھی میچ میں کافی بہتر پوزیشن پر موجود ہے۔
پچ کا مزاج اور پاکستان کی حکمت عملی
خرم شہزاد نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ سلہٹ کی پچ ڈھاکہ کے مقابلے میں بلے بازی کے لیے کہیں زیادہ سازگار ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ڈھاکہ میں پچ پر دراڑیں اور غیر متوقع اچھال موجود تھا، جبکہ یہاں حالات نسبتاً ہموار ہیں۔ شہزاد کے مطابق، پاکستان کا منصوبہ ہے کہ پہلی اننگز میں 400 سے 450 رنز بنا کر بنگلہ دیش پر برتری حاصل کی جائے۔
لٹن داس کی ‘خوش قسمتی’ اور ریویو کا تنازعہ
میچ کا سب سے اہم موڑ وہ تھا جب لٹن داس 52 رنز پر کھیل رہے تھے۔ خرم شہزاد کی ایک باؤنسر گیند ان کے دستانوں کو چھوتی ہوئی محمد رضوان کے پاس پہنچی۔ اگرچہ پاکستان کی جانب سے اپیل کی گئی، لیکن اس وقت ٹیم کے پاس آخری ریویو بچا ہوا تھا جس کا استعمال نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں الٹرا ایج (UltraEdge) ٹیکنالوجی نے تصدیق کی کہ گیند بلے کو چھو کر گئی تھی۔ خرم شہزاد نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لٹن داس کو ‘انتہائی خوش قسمت’ قرار دیا۔
شہزاد نے اعتراف کیا کہ اگر اس وقت لٹن داس آؤٹ ہو جاتے، تو بنگلہ دیش کی پوری ٹیم 200 رنز کے اندر ڈھیر ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھیل کا حصہ ہے اور کبھی کبھی ایسے لمحات آتے ہیں جب آپ کے ہاتھ سے موقع نکل جاتا ہے۔
نچلے آرڈر کی مزاحمت
بنگلہ دیش کی اننگز ایک مرحلے پر 116 رنز پر 6 وکٹوں کے نقصان پر مشکلات کا شکار تھی، لیکن لٹن داس نے ایک بار پھر ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ راولپنڈی ٹیسٹ کی طرح، انہوں نے ایک بار پھر بنگلہ دیش کو مشکل سے نکالا۔ خرم شہزاد نے وضاحت کی کہ پاکستان نے انہیں آؤٹ کرنے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنائی تھی، جس میں باؤنسرز کا استعمال بھی شامل تھا، لیکن بدقسمتی سے کیچ ڈراپ ہونے اور ریویو نہ لینے کی وجہ سے نچلے آرڈر کے کھلاڑیوں کو رن بنانے کا موقع ملا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
پاکستان کی ٹیم اب پرعزم ہے کہ وہ بیٹنگ کے دوران اس پچ سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی۔ خرم شہزاد نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ پاکستان نے فیلڈ میں کوئی سستی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ سیٹنگ ہمیشہ صورتحال کے مطابق کی جاتی ہے اور پاکستان کا ہدف اب بھی میچ کو اپنی گرفت میں رکھنا ہے۔
مجموعی طور پر، پہلے دن کا کھیل دلچسپ رہا جہاں پاکستان نے ابتدائی طور پر غلبہ حاصل کیا، لیکن لٹن داس کی سنچری نے کھیل کو متوازن کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے دن پاکستانی بلے باز اس پچ پر کیسا کھیل پیش کرتے ہیں۔
