پاکستان کا سلہٹ ٹیسٹ میں تاریخی تعاقب کا عزم: کیا گرین شرٹس معجزہ کر پائیں گے؟
سلہٹ ٹیسٹ: کیا پاکستان تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے؟
سلہٹ ٹیسٹ میچ اب ایک ایسے موڑ پر آن پہنچا ہے جہاں سے ہر ایک گیند اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان کے سامنے چوتھی اننگز میں 437 رنز کا ہدف ہے، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ تاحال ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم نے اتنے بڑے ہدف کا کامیابی سے تعاقب نہیں کیا ہے۔
عمر گل کا پرامید موقف
پاکستان کے باؤلنگ کوچ عمر گل نے تیسرے دن کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیم کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہدف مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ عمر گل نے کہا، ‘ہمارے پاس ابھی دو دن باقی ہیں، اور آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ کیا ہو جائے۔ موسم ابر آلود ہے اور ہم ذہنی طور پر اس چیلنج کے لیے تیار ہیں۔’
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم جلد بازی نہیں کرے گی اور کریز پر ٹک کر کھیلنے کی حکمت عملی اپنائے گی۔ ‘اگر ہم پورا دن وکٹ پر ٹھہر کر بیٹنگ کر لیں تو مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم 2 سے 3 بڑی پارٹنرشپس قائم کریں۔ اس طرح کے بڑے ہدف کے تعاقب میں آپ کو بہادر اور مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترنا پڑتا ہے۔ کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہے۔’
پچ کی صورتحال اور بیٹنگ کا چیلنج
پچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمر گل نے اعتراف کیا کہ پہلے دن نمی کی وجہ سے باؤلرز کو مدد مل رہی تھی، لیکن دوسرے اور تیسرے دن کے بعد سے یہ وکٹ مکمل طور پر بیٹنگ کے لیے سازگار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘یہ اب بھی بیٹنگ کے لیے ایک بہترین وکٹ ہے جہاں بلے بازوں کے لیے رنز بنانے کے کافی مواقع موجود ہیں۔’
شان مسعود اور بابر اعظم پر امیدیں
پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کے اہم ستون شان مسعود اور بابر اعظم پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ چوتھے روز یہ دونوں بلے باز طویل اننگز کھیلنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ جلد بازی سے گریز کیا جائے گا اور کھیل کو جتنا ممکن ہو سکے لمبا کھینچا جائے گا۔
نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟
اگرچہ ڈرا کے امکانات کم ہیں اور بہت سے ماہرین بنگلہ دیش کو جیت کا فیورٹ قرار دے رہے ہیں، لیکن پاکستان کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ آسانی سے ہتھیار ڈالنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں ریکارڈ بننے کے لیے ہی ہوتے ہیں اور اگر آج کے دن پاکستان کے ٹاپ آرڈر بلے باز ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہیں تو شائقین کو ایک یادگار اور تاریخی دن دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا گرین شرٹس اس ناممکن ہدف کو ممکن بنا کر تاریخ میں اپنا نام درج کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
