مچل اسٹارک کی شاندار واپسی: ہیمنگ بدانی نے آسٹریلوی پیسر کی تعریفوں کے پل باندھ دیے
مچل اسٹارک: کرکٹ کے میدان میں ایک مثالی رول ماڈل
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں دہلی کیپیٹلز (DC) کے لیے مچل اسٹارک کی شمولیت کچھ تاخیر سے ہوئی، لیکن جب وہ میدان میں اترے تو انہوں نے ثابت کر دیا کہ کلاس ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ یکم مئی کو اپنا پہلا میچ کھیلنے کے بعد سے اب تک اسٹارک نے پانچ میچوں میں نو وکٹیں حاصل کر لی ہیں، جس میں دو بار تین وکٹیں لینے کا کارنامہ بھی شامل ہے۔ اتوار کو دہلی میں راجستھان رائلز (RR) کے خلاف میچ میں، اسٹارک نے اپنی باؤلنگ کا جادو جگایا اور 40 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جس نے دہلی کی پلے آف میں پہنچنے کی امیدوں کو زندہ رکھا۔
ہیمنگ بدانی کی ستائش
دہلی کیپیٹلز کے کوچ ہیمنگ بدانی، اسٹارک کی کارکردگی اور ان کے کھیل کے تئیں رویے سے بے حد متاثر ہیں۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بدانی نے کہا، ‘ان کی کام کرنے کی اخلاقیات (work ethic) اور میچ سے پہلے کی تیاری اپنی مثال آپ ہے۔ میں نے بہت سے نوجوان کھلاڑیوں میں اس قدر نظم و ضبط نہیں دیکھا، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے طویل عرصے سے ٹاپ لیول پر کھیل رہے ہیں۔’ بدانی نے مزید کہا کہ اسٹارک کھیل میں کسی بھی کھلاڑی کے لیے بہترین رول ماڈل ہیں۔
نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ
اسٹارک صرف وکٹیں لینے تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ میدان میں نوجوان کھلاڑیوں کی مسلسل رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ بدانی کے مطابق، ‘وہ ہمیشہ جونیئرز سے بات کرتے ہیں اور اپنے علم کو منتقل کرتے ہیں۔ چاہے وہ ریورس سوئنگ ہو، لینتھ کو برقرار رکھنا ہو، یا مشکل حالات میں حکمت عملی تیار کرنی ہو، اسٹارک ہمیشہ مشورے کے لیے دستیاب رہتے ہیں۔’
اتوار کی شاندار کارکردگی اور واپسی
میچ کا آغاز اسٹارک کے لیے اتنا اچھا نہیں رہا تھا جب یشسوی جیسوال اور دھرو جریل نے ان کے اوورز میں رنز بٹورے، لیکن جب گیند پرانی ہوئی اور ریورس سوئنگ کا عمل شروع ہوا، تو اسٹارک کا اصل روپ سامنے آیا۔ 15ویں اوور میں ریان پراگ، ڈونوون فریرا اور روی سنگھ کو آؤٹ کر کے انہوں نے میچ کا پانسا پلٹ دیا۔ امباتی رائیڈو نے اس حوالے سے کہا کہ، ‘ان کی واپسی شاندار تھی۔ جب گیند ریورس سوئنگ ہو رہی تھی، تو وہ بخوبی جانتے تھے کہ کہاں اور کیسے گیند کرنی ہے۔’
ایئر اسپیڈ اور مہارت
سنجے بنگر نے اسٹارک کی مہارت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گیند کا اندر کی طرف آنا (tailing in) ان کی خاص پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مچل اسٹارک کی ‘ایئر اسپیڈ’ اور گیند کی ڈائریکشن کو سمجھنا بلے بازوں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔
ورک لوڈ اور کرکٹ آسٹریلیا کا کردار
اسٹارک کی دیر سے شمولیت کے حوالے سے بدانی نے کہا کہ یہ ٹیم کے لیے ایک دھچکا تھا، لیکن کھلاڑی کی صحت اور انجریز (کندھے اور کہنی کے مسائل) کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ایشز سیریز کے بعد کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے سخت ٹائم لائن کے بارے میں بدانی نے کہا، ‘میں چاہتا ہوں کہ میرے کھلاڑی پہلے دن سے دستیاب ہوں، لیکن اگر کچھ چیزیں گورننگ باڈیز کے اختیار میں ہوں تو بطور کوچ ہم اس پر کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں اس کا کوئی بہتر حل نکلے گا۔’
مجموعی طور پر، مچل اسٹارک نے ثابت کیا ہے کہ ان کا تجربہ اور محنت دہلی کیپیٹلز کے لیے کتنی اہم ہے۔ جیسے جیسے ٹورنامنٹ آگے بڑھ رہا ہے، ان کی یہ فارم ٹیم کے لیے ایک امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔
