IPL 2026 Final hit by smart glasses scare as Anti-Corruption Unit issues warning – IPL 2026: اینٹی کرپشن یونٹ کی اسمارٹ گلاسز اور جدید ڈیوائسز کے استعمال پر سخت پابندی
آئی پی ایل 2026: کھیل کی سالمیت کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر پابندی
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) دنیا کی سب سے بڑی اور پرکشش کرکٹ لیگز میں سے ایک ہے، اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھنا منتظمین کی اولین ترجیح ہے۔ حالیہ پیش رفت میں، آئی پی ایل کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACSU) نے کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹ اسٹاف کو خبردار کیا ہے کہ وہ میچ کے دوران کسی بھی قسم کے جدید مواصلاتی آلات، بشمول اسمارٹ گلاسز (Smart Glasses) اور اسمارٹ گھڑیوں کا استعمال نہ کریں۔
اسمارٹ ڈیوائسز پر پابندی کیوں؟
اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی کے حامل چشمے اور گھڑیاں اب اس قابل ہو چکی ہیں کہ ان کے ذریعے لائیو اسٹریمنگ، ٹیکسٹ میسجز اور آڈیو یا ویڈیو کالز کی جا سکتی ہیں۔ چونکہ یہ ڈیوائسز وائی فائی یا موبائل ڈیٹا کے ذریعے منسلک ہو سکتی ہیں، اس لیے ان کے ذریعے کھیل کے دوران غیر مجاز مواصلات (Unauthorized Communication) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے اسپاٹ فکسنگ جیسے سنگین خدشات جنم لے سکتے ہیں۔
PMOA پروٹوکول اور پابندیاں
آئی پی ایل کے پلیئرز اینڈ میچ آفیشلز ایریا (PMOA) کے تحت انتہائی سخت ضوابط لاگو ہوتے ہیں۔ یہ وہ حساس علاقے ہیں جہاں صرف کھلاڑیوں، کوچز، امپائرز اور اینٹی کرپشن آفیسرز کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان علاقوں میں کسی بھی قسم کے آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ اور مواصلاتی آلات لے جانے کی ممانعت ہے تاکہ کھیل کے دوران کسی قسم کی مشکوک سرگرمی کو روکا جا سکے۔
ٹیموں کے لیے سخت وارننگ
رپورٹس کے مطابق، اے سی ایس یو کو اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کچھ کمپنیاں کھلاڑیوں اور عملے کو اسمارٹ آئی ویئر (Eyewear) فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے منتظمین نے تمام ٹیموں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے نٹ بولرز، لاجسٹکس اسٹاف اور دیگر معاون عملے کو بھی ان پروٹوکولز کی سختی سے پیروی کرنے کا پابند بنائیں۔
ماضی کے واقعات اور حالیہ کارروائی
اس سے قبل، آئی پی ایل 2026 کے دوران راجستھان رائلز کے مینیجر رومی بھنڈر کو ڈگ آؤٹ میں موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اگرچہ ٹیم کے عملے کو ڈریسنگ روم میں ہنگامی صورتحال کے لیے فون رکھنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن ڈگ آؤٹ میں اس کا استعمال سخت ممنوع ہے۔ اس واقعے پر بی سی سی آئی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے جرمانہ عائد کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لیگ انتظامیہ کھیل کی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
جدید دور کے چیلنجز
ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ دھوکہ دہی کے طریقے بھی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب صرف موبائل فون ہی مواصلات کا بڑا ذریعہ سمجھے جاتے تھے، لیکن اب پہننے کے قابل ٹیکنالوجی (Wearable Technology) نے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ اے سی ایس یو کا یہ کریک ڈاؤن اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ آئی پی ایل کے دوران کسی بھی قسم کے غیر قانونی رابطوں کو روکا جا سکے اور کرکٹ کے شائقین کو ایک شفاف اور غیر متنازعہ ٹورنامنٹ فراہم کیا جا سکے۔
آخر میں، یہ تمام اقدامات کھلاڑیوں کی ذمہ داری کو بھی بڑھاتے ہیں کہ وہ کھیل کے اخلاقی تقاضوں کو سمجھیں اور کسی بھی ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال سے گریز کریں جو کھیل کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔ بی سی سی آئی کا موقف واضح ہے: آئی پی ایل کی سالمیت سب سے مقدم ہے اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
