ILT20 teams concerned over new rules mandating Afghanistan, Ireland player recruitment
کرکٹ دنیا میں نئی ہلچل: ILT20 کے نئے قوانین پر فرنچائزز کا سخت ردعمل
متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل لیگ ٹی ٹوئنٹی (ILT20) ایک بار پھر تنازعات کی زد میں ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، لیگ انتظامیہ نے 2026 کے سیزن کے لیے ایسے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جن پر تمام چھ فرنچائز مالکان نے کھل کر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ہر ٹیم کو اپنے اسکواڈ میں افغانستان کے کم از کم چار اور آئرلینڈ کے ایک کھلاڑی کو جگہ دینا لازمی ہوگا۔
نئے قوانین کیا ہیں؟
ایمریٹس کرکٹ بورڈ کے زیر انتظام چلنے والی اس لیگ نے ‘2026 پلیئر کنٹریکٹ ماڈل’ کے تحت ٹیموں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اسکواڈ میں درج ذیل کھلاڑیوں کو شامل کریں:
- افغانستان سے چار کھلاڑی
- آئرلینڈ سے ایک کھلاڑی
- متحدہ عرب امارات کے چار کھلاڑی (جن میں کم از کم ایک انڈر 23 کھلاڑی شامل ہو)
- جی سی سی ممالک سے دو کھلاڑی
- ایسوسی ایٹ ممالک سے ایک کھلاڑی
مزید برآں، میچ کے دوران پلیئنگ الیون میں افغانستان کے دو، متحدہ عرب امارات کے دو، اور کسی ایک ایسوسی ایٹ ملک کے کھلاڑی کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
فرنچائزز کیوں ناراض ہیں؟
فرنچائز مالکان کا ماننا ہے کہ یہ پابندیاں ان کی ٹیم تشکیل دینے کی آزادی کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان قوانین کی وجہ سے ٹیموں کا معیار گر سکتا ہے، کیونکہ اب وہ اپنی مرضی کے مطابق بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں کر پائیں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو ان کی توقعات کے مطابق مالی معاوضہ نہ ملا، تو بڑے کھلاڑی اس لیگ کا حصہ بننے سے گریز کریں گے، جس سے لیگ کی مجموعی ساکھ متاثر ہوگی۔
لیگ انتظامیہ کا موقف
لیگ انتظامیہ کا استدلال ہے کہ یہ اقدامات کھلاڑیوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف لیگز (جیسے SA20 اور BBL) کے شیڈول میں ٹکراؤ کی وجہ سے کھلاڑیوں کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ممالک کی جانب سے اپنے کھلاڑیوں کے لیے دیگر لیگز میں کھیلنے پر پابندیاں بھی ILT20 کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔
مستقبل کے خدشات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ILT20 کا یہ فیصلہ دراصل اپنی تجارتی قدر کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ چونکہ ILT20 ایک ایسوسی ایٹ ملک (متحدہ عرب امارات) کی جانب سے چلائی جا رہی ہے، اس لیے اسے آئی سی سی کے مکمل رکن ممالک کے کھلاڑیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان اور آئرلینڈ کے ساتھ کیے گئے معاہدے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کھلاڑیوں کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تاہم، فرنچائزز اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر آج افغانستان اور آئرلینڈ کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے، تو کل کو یہ ایک خطرناک روایت بن جائے گی جہاں لیگ ہر چیز کو ‘لازمی’ قرار دے گی۔ فرنچائزز کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے فیصلوں سے قبل ان کے ساتھ مشاورت لازمی ہونی چاہیے، کیونکہ آخرکار ٹیموں کے بجٹ اور نتائج کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ آیا ILT20 انتظامیہ اپنے اس فیصلے پر قائم رہتی ہے یا فرنچائزز کے دباؤ کے بعد کوئی درمیانی راستہ نکالا جاتا ہے۔
