سری لنکن کرکٹ میں جاری بحران: آئی سی سی کا متحرک کردار
کرکٹ کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے دوران، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سری لنکا میں کرکٹ انتظامیہ کے بحران کو حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد سری لنکا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے شاہ کی قیادت میں آئی سی سی اب اس جزیرہ نما ملک میں کرکٹ کے معاملات کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026: ناکامی اور حکومتی مداخلت
سری لنکن کرکٹ ٹیم کے لیے حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ داسن شناکا کی قیادت میں ٹیم کو سپر 8 مرحلے میں شرمناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ اپنی سرزمین پر اس ناقص کارکردگی کے بعد شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ اس کے نتیجے میں ہیڈ کوچ سنتھ جے سوریا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور سری لنکن حکومت نے ٹیم کی ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
ایس ایل سی صدر کا استعفیٰ اور عبوری کمیٹی
سری لنکن صدر انورا کمارا ڈسانائیکے اور ایس ایل سی کے اس وقت کے صدر شمی سلوا کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سلوا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمارا گماگے نے نو رکنی عبوری کمیٹی قائم کی، جس کا نام ‘کرکٹ ٹرانسفارمیشن کمیٹی’ رکھا گیا۔ اس کمیٹی میں سابق کپتان کمار سنگاکارا، سداتھ ویٹیمونی اور روشن ماہنامہ شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد سری لنکن کرکٹ کے ڈھانچے میں اصلاحات لانا اور نچلی سطح پر کرکٹ کو مستحکم کرنا ہے۔
آئی سی سی کا ایکشن: بھارت اور پاکستان کے عہدیدار ایک ساتھ
ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر، آئی سی سی نے سری لنکا میں جاری حکومتی مداخلت اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے کرکٹ حکام پر مشتمل ٹیم تشکیل دی ہے۔ پاکستان نژاد آئی سی سی عہدیدار عمران خواجہ اور بی سی سی آئی کے ایک سینیئر عہدیدار اس مشن پر سری لنکا پہنچ رہے ہیں۔ آئی سی سی کا یہ وفد سری لنکا میں کرکٹ کی آزادی اور خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کرے گا۔
حکومتی مداخلت بمقابلہ آئی سی سی کے قوانین
آئی سی سی عام طور پر کرکٹ کے معاملات میں حکومتی مداخلت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ تاہم، سری لنکا کے 1973 کے اسپورٹس قانون کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ انتظامی کمیٹی کو تحلیل کر کے عبوری پینل بنا سکے۔ سری لنکن حکومت نے آئی سی سی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نئے عہدیداران کا انتخاب باقاعدہ انتخابات کے ذریعے کیا جائے گا۔
آگے کی راہ کیا ہے؟
یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر اس وقت جب سری لنکن وزیر کھیل نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عبوری کمیٹی کے قیام کے بارے میں آئی سی سی سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ان اعلیٰ حکام کا مشترکہ دورہ سری لنکن کرکٹ کو دوبارہ ٹریک پر لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔ کرکٹ کی دنیا کی نظریں اس اہم پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں، جس کا مقصد کھیل کی ساکھ اور شفافیت کو بحال کرنا ہے۔
