ڈینی وائٹ-ہوج کی شاندار سنچری، سرے کی واروکشائر کے خلاف 52 رنز سے فتح
سرے کی واروکشائر پر برتری: ڈینی وائٹ-ہوج کی ایجبسٹن میں حکمرانی
ایجبسٹن کے تاریخی میدان میں میٹرو بینک ون ڈے کپ کے خواتین کے مقابلے کا آغاز انتہائی سنسنی خیز رہا، جہاں سرے کی ٹیم نے واروکشائر کو ایک ہائی اسکورنگ میچ میں 52 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ اس جیت کی بنیاد اسٹار بلے باز ڈینی وائٹ-ہوج نے رکھی، جنہوں نے اپنی دھواں دھار بلے بازی سے واروکشائر کے باؤلرز کو بے بس کر دیا۔
سرے کی اننگز: آغاز کی مشکلات اور وائٹ-ہوج کا طوفان
میچ کا آغاز سرے کے لیے اتنا سازگار نہیں رہا جتنا اسکور کارڈ سے ظاہر ہوتا ہے۔ صوفیہ ڈنکلی اور پیج شوفیلڈ نے 44 رنز کا تیز رفتار آغاز فراہم کیا، لیکن پھر صرف چھ گیندوں کے وقفے میں دونوں پویلین لوٹ گئیں۔ شوفیلڈ میری ٹیلر کی گیند پر بولڈ ہوئیں جبکہ ڈنکلی 31 رنز بنا کر ایم آرلٹ کا شکار بنیں۔ جب ایلس کیپسی اور کیرا چتھلی بھی جلد آؤٹ ہوئیں تو سرے کا اسکور 95 رنز پر 4 وکٹیں ہو چکا تھا اور ٹیم دباؤ میں دکھائی دے رہی تھی۔
اسی مرحلے پر ڈینی وائٹ-ہوج اور ایلس ڈیوڈسن-رچرڈز نے اننگز کو سنبھالا۔ دونوں کے درمیان 118 رنز کی شراکت داری نے سرے کو ایک بار پھر مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ وائٹ-ہوج نے صرف 80 گیندوں پر 124 رنز بنائے، جس میں 8 فلک بوس چھکے اور 10 شاندار چوکے شامل تھے۔ ان کی اننگز کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنی سنچری کے 74 رنز صرف باؤنڈریز کی مدد سے مکمل کیے۔
جیمیما اسپینس کا برق رفتار فنش
وائٹ-ہوج کے آؤٹ ہونے کے بعد 19 سالہ جیمیما اسپینس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اسپینس نے صرف 38 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور مجموعی طور پر 48 گیندوں پر 79 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جو ان کے کیریئر کا بہترین اسکور بھی ہے۔ ڈیوڈسن-رچرڈز کے 57 رنز نے بھی مڈل آرڈر کو استحکام بخشا، جس کی بدولت سرے نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 389 رنز کا بھاری مجموعہ ترتیب دیا۔ واروکشائر کی جانب سے میری ٹیلر 3 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہیں۔
واروکشائر کا تعاقب اور مڈل آرڈر کی لڑکھڑاہٹ
390 رنز کے ہدف کے تعاقب میں واروکشائر کا آغاز مایوس کن تھا جب ڈیوینا پیرن چھٹے اوور میں ہی رن آؤٹ ہو گئیں۔ تاہم، امو سورین کمار (59) اور کیٹی جارج (41) نے 79 رنز جوڑ کر ٹیم کی امیدیں برقرار رکھیں۔ میچ کا نقشہ اس وقت بدلا جب بائیں ہاتھ کی اسپنر ٹیلی کورٹین-کولمین نے اپنے جادوئی اسپیل سے نو گیندوں کے اندر تین وکٹیں حاصل کر کے واروکشائر کی بیٹنگ لائن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
- کیٹی جارج ایل بی ڈبلیو ہوئیں۔
- چیریس پاولے اور کلوئی بریور کلین بولڈ ہوئیں۔
- امو سورین کمار رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹیں۔
صرف 18 گیندوں کے اندر 14 رنز کے عوض 4 وکٹیں گرنے سے واروکشائر کی جیت کی راہیں مسدود ہو گئیں۔
ایم آرلٹ کی مزاحمت اور میچ کا اختتام
جب میچ واروکشائر کے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا، تب ایم آرلٹ نے ایک ناقابل یقین مزاحمت پیش کی۔ انہوں نے ایزی وونگ (45) کے ساتھ مل کر ساتویں وکٹ کے لیے 103 رنز کی شراکت قائم کی۔ آرلٹ نے اپنی اننگز میں 7 چوکے اور 7 چھکے لگائے اور 90 رنز بنا کر وہ ایک مستحق سنچری کے قریب تھیں، لیکن ایلس ڈیوڈسن-رچرڈز کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئیں۔
واروکشائر کی پوری ٹیم 9 وکٹوں کے نقصان پر 337 رنز بنا سکی اور سرے نے یہ میچ 52 رنز سے جیت لیا۔ سرے کی جانب سے کورٹین-کولمین نے 43 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔
خلاصہ
سرے کی اس فتح نے ثابت کر دیا کہ ان کی بیٹنگ لائن اپ میں گہرائی اور جارحیت دونوں موجود ہیں۔ ڈینی وائٹ-ہوج کی فارم اور نوجوان کھلاڑیوں جیسے اسپینس اور کورٹین-کولمین کی کارکردگی سرے کے لیے ٹورنامنٹ کے بقیہ میچوں میں انتہائی حوصلہ افزاء ثابت ہوگی۔ واروکشائر کو اپنی باؤلنگ اور مڈل آرڈر بیٹنگ پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اگلے مقابلوں میں واپسی کر سکیں۔
