آئی پی ایل 2026: لکھنؤ سے شکست کے باوجود رتوراج گائیکواڈ پلے آف کے لیے پرعزم
لکھنؤ کے ہاتھوں شکست: چنئی سپر کنگز کے لیے پلے آف کی راہ
آئی پی ایل 2026 کے ایک اہم مقابلے میں، لکھنؤ سپر جائنٹس نے ایکانا اسٹیڈیم میں چنئی سپر کنگز (CSK) کو شکست دے کر اپنی مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رکھا۔ چنئی کے لیے یہ میچ پلے آف کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے بہت اہم تھا، تاہم میزبان ٹیم نے ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد فتح اپنے نام کی۔
کپتان رتوراج گائیکواڈ کا ردعمل
شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے، چنئی سپر کنگز کے کپتان رتوراج گائیکواڈ نے مایوسی کے بجائے اپنی توجہ اگلے میچوں پر مرکوز رکھنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پچ پر گیند بازوں کے لیے مدد موجود تھی اور ہارڈ لینتھ پر رنز بنانا مشکل تھا۔ گائیکواڈ کے مطابق، 187 رنز کا ہدف ایک اچھا اسکور تھا، کیونکہ ابتدائی طور پر ایسا لگ رہا تھا کہ 160-170 رنز بھی کافی ہوں گے۔
پلے آف کی امیدیں اور حکمت عملی
پانچ بار کی چیمپئن چنئی سپر کنگز کے لیے اب صورتحال واضح ہے۔ ٹیم کو اپنے آخری دو میچوں میں ہر حال میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی تاکہ پلے آف کے لیے اپنی امیدیں زندہ رکھ سکے۔ گائیکواڈ نے پر اعتماد انداز میں کہا کہ ٹیم کی بیٹنگ فارم میں ہے اور بولنگ بھی بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘یہ صرف ایک برا دن تھا، ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھ کر واپسی کرنی ہوگی، پلے آف کی دوڑ میں رہنے کے لیے جیت کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔’
ٹیم سلیکشن پر تنقید
اس میچ میں ٹیم کے انتخاب پر سابق بھارتی اور چنئی سپر کنگز کے کھلاڑی سبرامنیم بدری ناتھ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ خاص طور پر عقیل حسین کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے۔ بدری ناتھ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ‘چنئی سپر کنگز کا غلط ٹیم سلیکشن اس سیزن میں ایک معمول بن چکا ہے۔ اس پچ پر عقیل حسین کو باہر بٹھانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔’
عقیل حسین نے رواں سیزن میں نئے گیند کے ساتھ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ممبئی انڈینز کے خلاف 4/17 جیسی بہترین اننگز بھی کھیلی تھی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی پچ پر ایک اسپنر کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، جس کا فائدہ چنئی کی ٹیم حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
آگے کیا ہوگا؟
اب جب کہ آئی پی ایل 2026 کا لیگ مرحلہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے، چنئی سپر کنگز کو نہ صرف اپنے میچ جیتنے ہوں گے بلکہ دیگر ٹیموں، خاص طور پر پنجاب اور راجستھان کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔ گائیکواڈ کی کپتانی میں ٹیم کو اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہوگا تاکہ وہ ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کر سکیں۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب چنئی کے اگلے میچوں پر جمی ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ٹیم دباؤ میں کیسا کھیل پیش کرتی ہے۔
چنئی سپر کنگز کے لیے یہ سیزن اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا ہے، لیکن پانچ بار کی ٹائٹل ہولڈر ٹیم جانتی ہے کہ اہم مواقع پر کس طرح واپسی کی جاتی ہے۔ کیا گائیکواڈ کی قیادت میں ٹیم پلے آف کا ٹکٹ کٹوا پائے گی؟ اس کا جواب اگلے چند دنوں میں مل جائے گا۔
