چماری اتاپاتھو کا ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں، جیمی سڈنز کا بیان
چماری اتاپاتھو کا طویل سفر جاری
سری لنکا کی ویمن کرکٹ ٹیم کی اسٹار کپتان چماری اتاپاتھو کے بارے میں حالیہ خبریں ان کے پرستاروں کے لیے خوشخبری لے کر آئی ہیں۔ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ جیمی سڈنز نے واضح کیا ہے کہ 36 سالہ اتاپاتھو کا ریٹائرمنٹ کا کوئی فوری ارادہ نہیں ہے۔ اپنے بین الاقوامی کیریئر کے 16ویں سال میں، چماری اب بھی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور نئی کوچنگ اسٹاف کی حکمت عملی سے کافی پرجوش دکھائی دیتی ہیں۔
جیمی سڈنز کا اعتماد
جیمی سڈنز، جنہوں نے حال ہی میں سری لنکن ویمن ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، اتاپاتھو کی فٹنس اور کھیل کے تئیں ان کی لگن سے بہت متاثر ہیں۔ سڈنز کا کہنا ہے: ‘میری چماری کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، اور وہ اگلے ایک یا دو سال سے کہیں زیادہ عرصہ تک کھیلنے کے لیے پرعزم ہیں۔’ کوچ کا مزید ماننا ہے کہ اگر وہ اپنی موجودہ فٹنس برقرار رکھتی ہیں، تو بین الاقوامی کرکٹ میں ان کا تسلط برقرار رہے گا۔
ٹیم میں نئی حکمت عملی
جیمی سڈنز کا پہلا ہدف ٹیم کے کھیلنے کے انداز میں تبدیلی لانا ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کھلاڑیوں کو پیغام دیا کہ ‘محفوظ کھیل’ (Safe Play) کے دن گزر چکے ہیں۔ اب ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے جارحانہ انداز اپنانا ہوگا۔ سڈنز کے مطابق:
- بیٹنگ کا فلسفہ: صرف سنگلز اور ڈبلز پر انحصار کافی نہیں، باؤنڈریز لگانا انتہائی ضروری ہے۔
- مڈل اوورز: مڈل اوورز میں اسکورنگ ریٹ بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
- بولنگ میں ورائٹی: بولرز کو صرف روایتی اسپن پر انحصار کرنے کے بجائے نئی تکنیک اور سلو گیندوں پر عبور حاصل کرنا ہوگا۔
آئندہ کے چیلنجز
سری لنکا کی ٹیم اب جون میں انگلینڈ میں ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا جہاں انہیں میزبان انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا ہے۔ سڈنز کا ماننا ہے کہ انگلینڈ کی فلیٹ پچز پر فیلڈنگ اور باؤنڈری ہٹنگ ہی جیت کی کنجی ثابت ہوگی۔
نئی نسل کی تعمیر
کوچ سڈنز کا ایک اہم مقصد چماری اتاپاتھو کے بعد کے دور کے لیے ٹیم تیار کرنا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اتاپاتھو کی موجودگی میں نئی کھلاڑیوں کو سیکھنے کا بہترین موقع ملے گا۔ انہوں نے کچھ باصلاحیت نوجوان فاسٹ باؤلرز کی نشاندہی بھی کی ہے جو مستقبل میں ٹیم کے لیے اثاثہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایک نیا وژن
سڈنز، جو اس سے قبل آسٹریلوی مردوں کی ٹیم اور کئی ورلڈ کپ مہمات کا حصہ رہ چکے ہیں، اپنی کوچنگ کے تجربے کو سری لنکن کھلاڑیوں میں منتقل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ‘لڑکیوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، انہیں بس صحیح مائنڈ سیٹ کی ضرورت ہے۔ میرا کام انہیں آزادانہ کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔’
مجموعی طور پر، جیمی سڈنز اور چماری اتاپاتھو کی جوڑی سری لنکن ویمن کرکٹ کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ مداحوں کو امید ہے کہ آنے والے دوروں اور عالمی مقابلوں میں ٹیم ایک جارحانہ اور بہتر سری لنکن ٹیم کے طور پر ابھرے گی۔
