Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
Latest Cricket News

Cameron Green’s 2027 World Cup future discussed by Australia coach – آسٹریلوی کوچ کا بڑا انکشاف

Sana Iqbal · · 1 min read

کیمرون گرین کا نیا کردار اور آسٹریلوی کوچ کی طویل المدتی منصوبہ بندی

آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے حال ہی میں اسٹار آل راؤنڈر کیمرون گرین کے ون ڈے کرکٹ میں مستقبل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ گزشتہ ایک سال گرین کے لیے آسان نہیں رہا، جہاں وہ نہ صرف سنگین انجری کا شکار رہے بلکہ ان کی بلے بازی اور باؤلنگ فارم بھی زوال کا شکار رہی۔ تاہم، آسٹریلوی تھنک ٹینک 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے گرین کو ایک انتہائی اہم مہرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے خلاف سیریز اور شیڈول کا ٹکراؤ

آسٹریلیا کو اگلے ماہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے خلاف تین تین ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔ کیمرون گرین کو ان دونوں اہم سیریز کے لیے آسٹریلوی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف سیریز کا شیڈول انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے پلے آف میچوں کے ساتھ ٹکرا رہا تھا۔ کیمرون گرین آئی پی ایل 2026 میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کی نمائندگی کر رہے تھے، لیکن چونکہ ان کی فرنچائز پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی، اس لیے گرین اب کسی رکاوٹ کے بغیر پاکستان کے دورے کے لیے دستیاب ہوں گے۔

ٹاپ آرڈر سے فنشر تک کا سفر: اینڈریو میکڈونلڈ کا اہم بیان

پاکستان روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہیڈ کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے واضح کیا کہ وہ گرین کو ون ڈے الیون میں ایک نیا اور زیادہ متحرک کردار دینا چاہتے ہیں۔ اپنے حالیہ ون ڈے میچوں میں گرین زیادہ تر نمبر 3 یا نمبر 4 پر بلے بازی کرتے نظر آئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ میں انہوں نے نمبر 3 پر بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 47 گیندوں پر شاندار سنچری اسکور کی تھی، جہاں وہ 37ویں اوور میں کریز پر آئے تھے۔

لیکن اب، گلین میکسویل اور مارکس اسٹونیس کے جانے کے بعد، کوچ اینڈریو میکڈونلڈ گرین کو فنشر کے کردار میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا:

“میرا خیال ہے کہ ان میں اوپر کے نمبروں اور نچلے نمبروں پر یکساں طور پر کھیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے پاس بڑی ہٹس لگانے کی طاقت ہے، اور ہم نے گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں دیکھا تھا کہ وہ کس طرح اننگز کا بہترین اختتام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گلین میکسویل کی عدم موجودگی میں ہم نے ان سے اس بارے میں بات کی ہے۔”

2027 ورلڈ کپ کا سفر اور نئے تجربات

ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ ٹیم انتظامیہ مستقبل کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا:

“ہم چیزوں کو لچکدار رکھنا چاہتے ہیں۔ ‘تجربہ’ شاید اس کے لیے مناسب لفظ نہ ہو، لیکن ہم 2027 کے ورلڈ کپ کے سفر میں مختلف طریقوں پر غور کریں گے کہ وہ ٹیم میں کہاں فٹ بیٹھتے ہیں۔ ان کی متنوع صلاحیتوں کی وجہ سے ہمارے پاس کئی آپشنز موجود ہیں، لیکن ان کی باؤلنگ بھی اس منصوبے کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔”

چونکہ اگلا ون ڈے ورلڈ کپ 2027 میں جنوبی افریقہ کی پچوں پر کھیلا جائے گا، اس لیے اینڈریو میکڈونلڈ کا ماننا ہے کہ مارکس اسٹونیس کی رخصتی اور مچل مارش کی جانب سے باؤلنگ نہ کرنے کے بعد کیمرون گرین آسٹریلیا کے سب سے اہم فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر بن چکے ہیں۔

انجری کے مسائل اور باؤلنگ فارم کا چیلنج

سال 2024 میں کیمرون گرین کو کمر کی سرجری کروانی پڑی تھی، جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک باؤلنگ کرنے سے قاصر رہے۔ ان کی باؤلنگ فارم آئی پی ایل 2026 تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی تھی۔ آئی پی ایل کے آغاز میں کافی ڈرامائی صورتحال رہی کیونکہ گرین نے ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں بالکل باؤلنگ نہیں کی تھی۔ بعد ازاں، انہوں نے آہستہ آہستہ باؤلنگ شروع کی اور ٹورنامنٹ میں 32.72 کی اوسط اور 10 سے زائد کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 7 وکٹیں حاصل کیں۔

بلے بازی میں ناکامی اور تینوں فارمیٹس کا دباؤ

اینڈریو میکڈونلڈ نے کیمرون گرین کی حالیہ مہینوں میں بلے بازی کی خراب کارکردگی کا بھی اعتراف کیا، خاص طور پر ہوم ایشز سیریز اور سری لنکا میں کھیلے گئے ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران ان کا بلہ خاموش رہا۔ کوچ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“ان کے لیے گزشتہ سیزن کافی مشکل رہا اور وہ ویسی کارکردگی نہیں دکھا سکے جیسی وہ خود چاہتے تھے۔ میرے خیال میں لوگ اس بات کا اندازہ نہیں لگاتے کہ وہ ایک آل راؤنڈر کے طور پر ٹیم کو کتنا توازن فراہم کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹنگ اوسط بہتر ہو، اور وہ خود بھی یہی چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی فیلڈنگ، باؤلنگ اور مجموعی پیکیج کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ وہ جلد ہی فارم میں واپس آئیں گے۔ اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم تینوں فارمیٹس میں ان کے کام کے بوجھ کو کیسے متوازن کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے دور میں تینوں فارمیٹس کھیلنا کھلاڑیوں کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر انتہائی مشکل ہو چکا ہے:

“آج کل بلے بازی انتہائی پیچیدہ اور مشکل ہو چکی ہے، خاص طور پر جب کھلاڑیوں کو تینوں فارمیٹس میں خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ میں یہ سوال پوچھنا چاہوں گا کہ اس وقت کتنے کھلاڑی ایسے ہیں جو بیک وقت تینوں فارمیٹس میں بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں؟ یہ واقعی بہت مشکل ہے۔ تو کیا ہم بعض کھلاڑیوں سے حد سے زیادہ توقعات وابستہ کر رہے ہیں؟ ہم ہمیشہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہم بطور کوچ کیمرون گرین کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے کھیل کو بہتر بنا سکیں۔”

کیمرون گرین کے اب تک کے ون ڈے کیریئر کے اعداد و شمار

کیمرون گرین نے 2022 میں اپنے ون ڈے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اب تک انہیں اس فارمیٹ میں کافی مواقع ملے ہیں۔ اگرچہ عالمی سطح پر ون ڈے فارمیٹ کی اہمیت پر بحث جاری ہے، لیکن گرین نے اس فارمیٹ میں مناسب کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کے کیریئر کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • کل میچز: 31
  • کل رنز: 782
  • بیٹنگ اوسط: 43.00
  • اسٹرائیک ریٹ: تقریباً 90
  • سنچریاں: 1
  • نصف سنچریاں: 2
  • حاصل کردہ وکٹیں: 20
  • باؤلنگ اوسط: 39.20
  • اکانومی ریٹ: 5.77
  • بہترین باؤلنگ: ایک مرتبہ اننگز میں 5 وکٹیں

کیمرون گرین اس آسٹریلوی اسکواڈ کا بھی حصہ تھے جس نے بھارت میں منعقدہ 2023 کا ون ڈے ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اینڈریو میکڈونلڈ کی نئی حکمت عملی گرین کے کیریئر کو کس بلندی پر لے جاتی ہے اور کیا وہ 2027 کے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے لیے کلیدی آل راؤنڈر ثابت ہو پائیں گے یا نہیں۔

Avatar photo
Sana Iqbal

Sana Iqbal focuses on player journeys, biographies, and in-depth profiles of emerging and established cricket stars.