بابر اعظم کی شاندار سنچری: پی ایس ایل 2026 میں نیا ریکارڈ اور پشاور زلمی کی فائنل میں جگہ
بابر اعظم کا تاریخی کارنامہ اور پشاور زلمی کی شاندار فتح
پاکستان سپر لیگ (PSL) 2026 کے ایک یادگار مقابلے میں سابق قومی کپتان بابر اعظم نے اپنی فارم اور مہارت کا لوہا منواتے ہوئے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ایک میچ وننگ سنچری اسکور کی۔ 31 سالہ بابر اعظم نے اپنی بیٹنگ سے میدان مار لیا اور اپنی ٹیم پشاور زلمی کو ایک بہت بڑے مجموعے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بابر اعظم نے صرف 59 گیندوں پر 103 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس میں انہوں نے 12 چوکے اور 4 چھکے لگا کر مخالف بولرز کی نیندیں اڑا دیں۔ ان کی اس شاندار کارکردگی کی بدولت پشاور زلمی نے مقررہ اوورز میں 221 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کیا، جس کے جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم دباؤ کا شکار ہو گئی اور پشاور زلمی نے یہ میچ 70 رنز کے بڑے مارجن سے جیت کر PSL 2026 کے فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
ریکارڈز کی بارش: بابر اعظم نے فاف ڈو پلےسیس کو پیچھے چھوڑا
اس سنچری کے ساتھ ہی بابر اعظم نے ٹی 20 فارمیٹ میں کپتانی کرتے ہوئے سنچریاں بنانے کے عالمی ریکارڈ میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ کسی بھی کپتان کی جانب سے ٹی 20 فارمیٹ میں نویں (9th) سنچری تھی۔ اس کامیابی کے ساتھ بابر نے جنوبی افریقہ کے سابق کپتان فاف ڈو پلےسیس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جن کے نام کپتانی کے دوران آٹھ سنچریاں تھیں۔
ٹی 20 فارمیٹ میں کپتانی کرتے ہوئے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والوں کی فہرست اب کچھ یوں ہے:
- بابر اعظم: 9 سنچریاں
- فاف ڈو پلےسیس: 8 سنچریاں
- مائیکل کلنگر: 7 سنچریاں
- ویرات کوہلی اور جیمز ونس: 5، 5 سنچریاں
ہوم گراؤنڈ پر غلبہ: ویرات کوہلی کے برابر
بابر اعظم کا موازنہ اکثر بھارتی اسٹار ویرات کوہلی سے کیا جاتا ہے، اور اب اعداد و شمار اس موازنے کو مزید دلچسپ بنا رہے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے اس دائیں ہاتھ کے بلے باز نے ایک اور خاص فہرست میں ویرات کوہلی اور ابشیک شرما کے ریکارڈ کی برابری کر لی ہے۔
ویرات کوہلی اور ابشیک شرما نے اپنے ملک (بھارت) میں کھیلتے ہوئے 8 ٹی 20 سنچریاں اسکور کی تھیں، جبکہ اب بابر اعظم نے بھی اپنے وطن (پاکستان) کی سرزمین پر 8 سنچریاں بنا کر ان دونوں بھارتی کھلاڑیوں کے ریکارڈ کے برابر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ بابر اعظم اپنے ہوم گراؤنڈ پر کتنے زیادہ پراعتماد اور خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
میچ کا احوال: پشاور زلمی کا جارحانہ انداز
میچ کا آغاز تب ہوا جب اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، پشاور زلمی کے بلے بازوں نے اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیا۔ محمد حارث نے اننگز کا شاندار آغاز کیا اور صرف 16 گیندوں پر 35 رنز بنائے، جس میں 5 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
پہلی وکٹ کے لیے 38 گیندوں پر 72 رنز کی تیز شراکت قائم ہوئی، جس کے بعد شاداب خان نے محمد حارث کو آؤٹ کیا۔ اس کے بعد کسل مینڈس نے بابر اعظم کا ساتھ دیا اور دوسری وکٹ کے لیے 41 گیندوں پر 84 رنز کا اضافہ کیا، جس نے پشاور کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی۔ اننگز کے آخری حصے میں آرون ہارڈی نے 20 اہم رنز بنائے، جس کی بدولت پشاور زلمی 221 رنز کے مجموعے تک پہنچ سکا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کی بیٹنگ اور ہارڈی کا جادو
222 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی اور پوری ٹیم محض 151 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پشاور زلمی کی جانب سے آرون ہارڈی نے گیند اور بلے دونوں سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنی 4 اوورز کی سپیل میں 24 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔
بولنگ لائن میں سفیان مقیم اور محمد باسط نے بھی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ اسلام آباد کی جانب سے صرف سمیر منہاس ہی مزاحمت کر سکے، جنہوں نے سب سے زیادہ 44 رنز بنائے۔
فائنل کی راہ: اب آگے کیا ہوگا؟
پشاور زلمی کے فائنل میں پہنچنے کے بعد اب تمام نظریں دیگر ٹیموں پر ہیں۔ بدھ کے روز ملتان سلطانز اور حیدرآباد کنگز مین کے درمیان ایلیمی نیٹور میچ کھیلا جائے گا۔ اس میچ کا فاتح جمعہ کو دوسرے کوالیفائر میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا سامنا کرے گا۔
اس دوسرے کوالیفائر کے فاتح کو اتوار کے روز لاہور کے گaddafi سٹیڈیم میں پشاور زلمی کے خلاف فائنل کھیلنے کا موقع ملے گا۔ کرکٹ کے شائقین اب بے صبری سے اس بڑے مقابلے کا انتظار کر رہے ہیں جہاں بابر اعظم کی قیادت میں زلمی ٹائٹل جیتنے کی کوشش کرے گی۔
