ایم ایس دھونی آئی پی ایل 2026: بغیر کوئی میچ کھیلے کتنی تنخواہ ملے گی؟
آئی پی ایل 2026: کیا ایم ایس دھونی ایک بھی میچ کھیلے بغیر چنئی سپر کنگز سے کروڑوں روپے وصول کریں گے؟
چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن انتہائی مایوس کن انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف 21 مئی کو ہونے والے میچ میں 89 رنز کی بھاری شکست نے نہ صرف سی ایس کے کی پلے آف میں پہنچنے کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا، بلکہ اس کے ساتھ ہی ایم ایس دھونی کے اس سیزن میں کھیلنے کے حوالے سے جاری طویل انتظار اور غیر یقینی صورتحال کا بھی خاتمہ کر دیا۔ جیسے جیسے آئی پی ایل 2026 کا سیزن قریب آ رہا تھا، دنیا بھر میں موجود دھونی کے کروڑوں مداح اس امید کے ساتھ ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھنے کی تیاری کر رہے تھے کہ وہ اپنے محبوب ‘تھالا’ کو ایک بار پھر پیلے رنگ کی جرسی میں جلوہ گر ہوتے دیکھیں گے۔ لیکن پورے سیزن کے دوران ان کی دستیابی پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلاتے رہے۔ ایک کے بعد ایک میچ گزرتا گیا، لیکن چنئی سپر کنگز کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر بلے باز ٹیم کی پلیئنگ الیون میں جگہ نہ بنا سکے۔ بالآخر، دھونی نے ایک بھی میچ کھیلے بغیر سیزن کا اختتام کیا، جو آئی پی ایل کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ دھونی کسی فرنچائز کا حصہ ہونے کے باوجود میدان میں نہ اتر سکے۔
ایم ایس دھونی کی انجری کی تفصیلات: وہ میدان میں کیوں نہیں اتر سکے؟
ایم ایس دھونی کی فٹنس اور انجری کے مسائل کی کہانی آئی پی ایل 2026 کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ چنئی سپر کنگز کے پری سیزن ٹریننگ کیمپ کے دوران، جہاں کھلاڑی سیزن کی تیاریوں میں مصروف تھے، دھونی پنڈلی کے پٹھے کے کھچاؤ (Calf Strain) کا شکار ہو گئے۔ ابتدائی طور پر میڈیکل ٹیم کا خیال تھا کہ یہ انجری معمولی نوعیت کی ہے اور وہ ٹورنامنٹ کے پہلے دو ہفتوں کے بعد ٹیم میں واپسی کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ان کی صحت یابی کا عمل طویل ہوتا گیا۔ دھونی کی عمر اور ان کی فٹنس کی حالت کو دیکھتے ہوئے، چنئی سپر کنگز کی انتظامیہ ان کی واپسی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، دھونی سو فیصد فٹ نہیں تھے، اور فرنچائز ان کے کیریئر اور صحت کو داؤ پر لگانے کے حق میں نہیں تھی۔ جب بھی دھونی کی واپسی کی امید پیدا ہوتی، کوئی نہ کوئی نئی رکاوٹ سامنے آ جاتی۔ لیگ کے آخری مرحلے میں جب یہ افواہیں گرم تھیں کہ وہ چنئی کے ہوم گراؤنڈ پر چند میچز کھیل سکتے ہیں، اسی دوران دھونی کو انگوٹھے کی انجری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوسری انجری نے ان کی واپسی کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا۔ چنئی سپر کنگز کے بیٹنگ کوچ مائیکل ہسی نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ دھونی اسکواڈ میں صرف اسی صورت میں واپس شامل ہوں گے جب ٹیم پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ تاہم، گجرات ٹائٹنز کے خلاف ٹیم کی شکست نے دھونی کے میدان میں واپسی کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے۔
بغیر کوئی میچ کھیلے کروڑوں کی تنخواہ: قانون کیا کہتا ہے؟
ایسے میں جب ایم ایس دھونی نے سیزن کا ایک بھی میچ نہیں کھیلا، ہر کرکٹ پریمی کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا انہیں ان کی طے شدہ تنخواہ ملے گی؟ اس کا سادہ اور واضح جواب ہے: ہاں، ایم ایس دھونی کو آئی پی ایل 2026 کی پوری تنخواہ ملے گی، چاہے انہوں نے چنئی سپر کنگز کے لیے ایک بھی گیند نہ کھیلی ہو۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے آئی پی ایل کے ریٹینشن قوانین اور کھلاڑیوں کے معاہدوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ آئی پی ایل 2026 کے لیے، ایم ایس دھونی کو چنئی سپر کنگز نے ‘ان کیپڈ پلیئر’ (Uncapped Player) کے اصول کے تحت 4 کروڑ روپے کی قیمت پر برقرار (Retain) رکھا تھا۔ یہ اصول بی سی سی آئی (BCCI) نے خاص طور پر ان بھارتی کھلاڑیوں کے لیے متعارف کرایا ہے جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لیے ہوئے پانچ سال یا اس سے زیادہ کا عرصہ گزار لیا ہو۔ دھونی چونکہ 2020 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے تھے، اس لیے وہ اس کیٹیگری کے لیے اہل قرار پائے۔ چونکہ دھونی کو ایک فکسڈ فیس ریٹینشن معاہدے کے تحت سائن کیا گیا تھا، اس لیے ان کی بنیادی تنخواہ (4 کروڑ روپے) مکمل طور پر محفوظ ہے۔ آئی پی ایل کے معاہدوں کے مطابق، اگر کوئی کھلاڑی فرنچائز کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور انجری کی وجہ سے دستیاب نہیں ہوتا، تو بھی اسے اس کی بنیادی برقرار رکھنے کی رقم لازمی ادا کی جاتی ہے۔ تاہم، اس میں ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ دھونی کو میچ فیس (جو کہ تقریباً 7.5 لاکھ روپے فی میچ ہوتی ہے اور صرف کھیلنے والے الیون یا متبادل کھلاڑیوں کو ملتی ہے) نہیں ملے گی۔
انشورنس پالیسی کا کردار: فرنچائز پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا
یہاں ایک اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس تنخواہ کی ادائیگی سے چنئی سپر کنگز کو کوئی مالی نقصان ہوگا؟ اس کا جواب ‘نہیں’ ہے۔ آئی پی ایل میں شامل تمام کھلاڑیوں کا فرنچائزز کی جانب سے بھاری انشورنس کروایا جاتا ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی سیزن کے دوران زخمی ہو جاتا ہے اور میچ کھیلنے کے قابل نہیں رہتا، تو اس کی تنخواہ کا بڑا حصہ انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے۔ اس انشورنس کور کی بدولت فرنچائزز پر کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کی صورت میں اضافی مالی بوجھ نہیں پڑتا۔ لہٰذا، دھونی کی 4 کروڑ روپے کی تنخواہ انشورنس کلیم کے ذریعے ادا کی جائے گی، جس سے سی ایس کے کے بجٹ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
ایم ایس دھونی کی آئی پی ایل تنخواہ کا تاریخی سفر
اگر ہم ایم ایس دھونی کے آئی پی ایل تنخواہ کے سفر پر نظر ڈالیں تو یہ ان کی کرکٹ کی دنیا میں بادشاہت کی عکاسی کرتا ہے۔ 2008 میں آئی پی ایل کے افتتاحی سیزن میں دھونی چنئی سپر کنگز کے سب سے مہنگے کھلاڑی تھے، جہاں انہیں 6 کروڑ روپے سالانہ پر حاصل کیا گیا تھا۔ سال بہ سال ان کی کارکردگی اور مقبولیت کے ساتھ ان کی قیمت بھی بڑھتی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ سالانہ 15 کروڑ روپے سے زائد وصول کر رہے تھے۔ اب اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں، ان کیپڈ کھلاڑی بننے کے بعد ان کی تنخواہ 4 کروڑ روپے مقرر کی گئی، لیکن ان کی برانڈ ویلیو اور ٹیم کے لیے اہمیت اب بھی انمول ہے۔
ایم ایس دھونی کا شاندار آئی پی ایل کیریئر
ایم ایس دھونی صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ آئی پی ایل کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے کیریئر کے اعداد و شمار ان کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں:
- کل میچز: 278 (چنئی سپر کنگز اور رائزنگ پونے سپر جائنٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے)
- کل رنز: 5439 رنز
- بیٹنگ اوسط: 38.30
- اسٹرائیک ریٹ: 137.45
اگرچہ آئی پی ایل 2026 کا سیزن دھونی کے ایکشن کے بغیر گزرا، لیکن چنئی سپر کنگز اور ان کے مداحوں کے دلوں میں ان کا مقام ہمیشہ برقرار رہے گا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا دھونی آئی پی ایل 2027 میں ایک بار پھر واپسی کی کوشش کرتے ہیں یا وہ باضابطہ طور پر الوداع کہہ کر کسی نئے کردار میں نظر آئیں گے۔
