آئی پی ایل 2026: محمد کیف نے شبمن گل کو بہترین کپتان قرار دے دیا، شریاس ائیر اور رجت پاٹیدار نظرانداز
آئی پی ایل 2026 کا سنسنی خیز مرحلہ اور کپتانی کا امتحان
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن اب اپنے آخری اور انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی)، گجرات ٹائٹنز (جی ٹی) اور سن رائزرز حیدرآباد (ایس آر ایچ) نے پہلے ہی پلے آف میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ سیزن کے آغاز میں مبصرین اور شائقین کا خیال تھا کہ گزشتہ سیزن کے فائنلسٹ کپتان، یعنی شریاس ائیر اور رجت پاٹیدار، ایک بار پھر اپنی ٹیموں کو بلندیوں پر لے جائیں گے اور بہترین قیادت کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن جیسے جیسے لیگ مرحلہ ختم ہو رہا ہے، کپتانی کے حوالے سے ماہرین کی آراء یکسر تبدیل ہو چکی ہیں اور اب ایک نیا نام سب کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
محمد کیف کا بڑا فیصلہ: شبمن گل بہترین کپتان قرار
ہندوستان کے سابق کرکٹر اور آئی پی ایل 2008 کے فاتح محمد کیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر گفتگو کرتے ہوئے تمام مبصرین کو حیران کر دیا۔ انہوں نے شریاس ائیر اور رجت پاٹیدار جیسے مضبوط دعویداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے گجرات ٹائٹنز کے شبمن گل کو آئی پی ایل 2026 کا بہترین کپتان قرار دیا ہے۔ کیف نے اپنے اس فیصلے کے پیچھے گجرات ٹائٹنز کی شاندار حکمت عملی اور شبمن گل کی قائدانہ صلاحیتوں کو بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
مخالف ٹیموں کو آل آؤٹ کرنے کا شاندار ریکارڈ
محمد کیف نے شبمن گل کی کپتانی کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گل نے رواں سیزن میں اپنے باؤلنگ وسائل کا بہترین استعمال کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گجرات ٹائٹنز نے اس سیزن میں رائل چیلنجرز بنگلور، پنجاب کنگز، سن رائزرز حیدرآباد، راجستھان رائلز اور چنئی سپر کنگز جیسی مضبوط ترین بیٹنگ لائن اپس کو آل آؤٹ کیا ہے۔ کسی بھی کپتان کے لیے ٹورنامنٹ میں اتنی بڑی ٹیموں کو مکمل طور پر آؤٹ کرنا اس کی بہترین فیلڈ پلیسنگ اور باؤلنگ میں بروقت تبدیلیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بلے بازی میں بھی شبمن گل کا راج
ایک کپتان کے طور پر شبمن گل نے نہ صرف میدان میں بہترین فیصلے کیے بلکہ سامنے سے ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے رنز کے انبار بھی لگائے۔ گل نے اب تک 13 اننگز میں 161.67 کے دھماکے دار اسٹرائیک ریٹ سے 616 رنز بنائے ہیں۔ وہ اس وقت اورنج کیپ کی دوڑ میں اپنے ہی اوپننگ پارٹنر سائی سدرشن کے بعد دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ ان کی اس شاندار انفرادی کارکردگی نے گجرات ٹائٹنز کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔
شریاس ائیر اور رجت پاٹیدار کے لیے سیزن کیسا رہا؟
اگر پنجاب کنگز کے کپتان شریاس ائیر کی بات کی جائے تو ان کے سیزن کا آغاز انتہائی شاندار رہا تھا جہاں ان کی ٹیم نے مسلسل 7 میچز جیت کر ناقابل شکست رہنے کا اعزاز برقرار رکھا۔ تاہم، لیگ کے دوسرے ہاف میں پنجاب کنگز کی کارکردگی بری طرح گر گئی اور مسلسل 6 شکستوں کے بعد وہ پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر سے گر کر پانچویں نمبر پر آ گئے، جس کی وجہ سے ان کے پلے آف میں پہنچنے کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دوسری جانب، آر سی بی کے کپتان رجت پاٹیدار نے توقعات کے مطابق کارکردگی دکھائی اور اپنی ٹیم کو پلے آف میں پہنچایا، جہاں ان کے کوالیفائر 1 کھیلنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ لیکن کیف کے مطابق، مجموعی اثر و رسوخ کے لحاظ سے شبمن گل ان دونوں سے آگے رہے ہیں۔
گجرات ٹائٹنز کا شاندار سفر اور شبمن گل کا ارتقاء
گجرات ٹائٹنز نے جب 2022 میں آئی پی ایل میں قدم رکھا تو انہوں نے ہاردک پانڈیا کی قیادت میں پہلے ہی سیزن میں ٹرافی جیتی اور 2023 میں بھی فائنل کا سفر طے کیا۔ اس سیزن میں شبمن گل نے 890 رنز بنا کر اورنج کیپ جیتی تھی۔ 2024 میں ہاردک پانڈیا کے ممبئی انڈینز میں واپس جانے کے بعد گل کو کپتانی سونپی گئی، لیکن وہ سیزن گجرات کے لیے مایوس کن رہا اور ٹیم آٹھویں نمبر پر رہی۔ اس کے باوجود فرنچائز نے گل پر بھروسہ برقرار رکھا۔ 2025 میں گجرات ٹائٹنز تیسرے نمبر پر رہی اور اب 2026 میں وہ 14 میچوں میں 18 پوائنٹس کے ساتھ کوالیفائر 1 کی پوزیشن حاصل کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ اگر جمعہ کو ہونے والے میچ میں آر سی بی کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کو شکست دے دیتی ہے تو گجرات ٹائٹنز کے لیے دوسری پوزیشن مکمل طور پر یقینی ہو جائے گی۔
کیا شبمن گل مستقبل میں ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بن سکتے ہیں؟
آئی پی ایل 2025 اور 2026 میں شاندار کپتانی کے بعد شبمن گل کا قد بطور لیڈر بہت بڑھ گیا ہے۔ انہیں پہلے ہی روہت شرما کی جگہ ہندوستان کی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ان کے بیٹنگ اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے انہیں ورلڈ کپ اسکواڈ سے باہر رکھا گیا تھا، لیکن آئی پی ایل 2026 میں 161.67 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 600 سے زائد رنز بنانے کے بعد انہوں نے سلیکٹرز کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مستقبل میں وہ سوریا کمار یادو کی جگہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھی ہندوستان کی قیادت کے مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی دو فارمیٹس میں ٹیم کی کپتانی کر رہے ہیں۔
