Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
Latest Cricket News

کیا دھونی گائیکواڑ کو کپتان بنانے کے خلاف تھے؟ بڑا دعویٰ سامنے آگیا

Vivaan Joshi · · 1 min read

چنئی سپر کنگز (CSK) کے سابق بلے باز اور ایم ایس دھونی کے ساتھی کھلاڑی سبرامنیم بدریناتھ نے فرنچائز کی قیادت کے حوالے سے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا واقعی دھونی نے رتوراج گائیکواڑ کو سی ایس کے میں اپنا جانشین منتخب کیا تھا؟ بدریناتھ کے مطابق، اگر دھونی کا اس فیصلے میں کوئی عمل دخل ہوتا، تو وہ رتوراج گائیکواڑ کے بجائے اسٹار آل راؤنڈر رویندرا جڈیجہ کو کپتانی کے لیے ترجیح دیتے۔ اس انکشاف نے آئی پی ایل کے مداحوں اور کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

چنئی سپر کنگز کی آئی پی ایل 2026 میں مایوس کن کارکردگی

آئی پی ایل 2026 کا سیزن چنئی سپر کنگز کے لیے اب تک کچھ خاص ثابت نہیں ہوا ہے۔ ٹیم اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر چھ فتوحات کے ساتھ ساتویں نمبر پر موجود ہے۔ لیگ مرحلے میں چنئی کا صرف ایک میچ باقی رہ گیا ہے، اور پلے آف میں پہنچنے کی ان کی امیدیں انتہائی موہوم اور دوسری ٹیموں کے نتائج پر منحصر ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے جہاں شائقین کو پریشان کیا ہے، وہاں ٹیم انتظامیہ کے فیصلوں پر بھی انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔

ایم ایس دھونی کی پراسرار غیر موجودگی اور شائقین کی تشویش

اس پورے سیزن کے دوران ایم ایس دھونی کی میدان میں عدم موجودگی ایک بڑا معمہ بنی رہی ہے۔ حال ہی میں دھونی راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ٹیم کے ساتھ موجود تو تھے، لیکن وہ پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بنے۔ شائقین کے لیے دھونی کا میچ نہ کھیلنا انتہائی مایوس کن تھا کیونکہ اس کی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔

سیزن کے آغاز میں دھونی پنڈلی کی چوٹ (calf injury) کا شکار ہوئے تھے، جس کے بعد وہ سیزن کے وسط میں انگوٹھے کی چوٹ کی وجہ سے باہر ہو گئے۔ تاہم، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مکمل فٹنس اور دستیابی کے باوجود، وہ پیلی جرسی پہن کر میدان میں نہیں اترے۔ اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سابق کرکٹر نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر میچ سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ دھونی کھیلیں گے یا نہیں، لیکن اس پوری صورتحال کو اچھے طریقے سے ہینڈل نہیں کیا گیا۔ کسی کو اصل وجہ معلوم نہیں ہے؛ کیا یہ صرف میچ میں جوش و خروش پیدا کرنے کا حربہ ہے یا کوئی تجارتی فیصلہ؟

کپتانی کا فیصلہ: کیا یہ دھونی کا انتخاب تھا یا انتظامیہ کا؟

ایم ایس دھونی کی جانب سے کپتانی چھوڑنے کے بعد نوجوان بلے باز رتوراج گائیکواڑ کو ٹیم کی کمان سونپی گئی تھی۔ تاہم، سبرامنیم بدریناتھ کا ماننا ہے کہ اس اہم فیصلے کا تمام تر ملبہ دھونی پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ ہمیشہ فرنچائز کی انتظامیہ کا ہوتا ہے، دھونی صرف ایک مشورہ دے سکتے تھے۔

بدریناتھ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ کیا واقعی دھونی رتوراج گائیکواڑ کو کپتان بنانا چاہتے تھے۔ یہ فیصلہ کسی بھی طرح دھونی کی طرف سے نہیں آ سکتا۔ یہ لازمی طور پر انتظامیہ کا فیصلہ تھا۔ دھونی صرف تجویز دے سکتے تھے۔ اس لیے انتظامیہ کو ہی اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ اگر دھونی کا اس معاملے میں کوئی کردار ہوتا، تو وہ اگلے کپتان کے طور پر صرف رویندرا جڈیجہ کا نام ہی تجویز کرتے۔

نیلامی کی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کے انتخاب پر کڑی تنقید

سابق سی ایس کے کھلاڑی نے ٹیم کی حالیہ نیلامیوں (میگا اور منی آکشنز) اور ناقص فیصلوں پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق، پچھلے چند سیزن میں چنئی سپر کنگز کی کھلاڑیوں پر دستخط کرنے کی مہم انتہائی مایوس کن رہی ہے۔

انہوں نے ٹیم کی قسمت اور منصوبہ بندی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈیوالڈ بریوس، مہاترے اور ارویل پٹیل جیسے کھلاڑی صرف متبادل کے طور پر ٹیم میں آئے۔ سی ایس کے کو ان کھلاڑیوں کے معاملے میں صرف قسمت کا ساتھ ملا، ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ان کو حاصل کرنے کے لیے کوئی خاص منصوبہ بندی یا عمل اپنایا تھا۔ بدریناتھ نے سنجو سیمسن کی ٹریڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تک کہ سنجو سیمسن جیسے اچھے کھلاڑی کو حاصل کرنے کے لیے بھی سی ایس کے کو رویندرا جڈیجہ اور سیم کرن جیسے اہم ترین کھلاڑیوں کو قربان کرنا پڑا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ نے انفرادی طور پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جو ٹیم کے لیے مکمل طور پر سودمند ثابت ہوا ہو۔

رویندرا جڈیجہ اور رتوراج گائیکواڑ کی قیادت کا موازنہ

رویندرا جڈیجہ چنئی سپر کنگز کے ایک سینئر اور تجربہ کار کھلاڑی ہیں جن کا فرنچائز کے ساتھ ایک طویل اور کامیاب سفر رہا ہے۔ ماضی میں بھی انہیں کپتانی کی ذمہ داری دی گئی تھی، تاہم وہ سیزن ان کے لیے اور ٹیم کے لیے سازگار ثابت نہیں ہوا تھا۔ دوسری طرف، رتوراج گائیکواڑ کو ایک طویل مدتی کپتان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن بدریناتھ کے حالیہ انکشاف نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا گائیکواڑ کا انتخاب واقعی دھونی کی مرضی سے ہوا تھا یا یہ انتظامیہ کا یکطرفہ فیصلہ تھا۔ بدریناتھ کا ماننا ہے کہ جڈیجہ کی سینئارٹی اور دھونی کے ساتھ ان کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے، دھونی ہمیشہ جڈیجہ پر ہی اعتماد کا اظہار کرتے۔

نتیجہ: کیا چنئی سپر کنگز کو اپنی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت ہے؟

سبرامنیم بدریناتھ کے ان بیانات نے چنئی سپر کنگز کے اندرونی معاملات اور فیصلوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایم ایس دھونی کی ٹیم میں شمولیت اور کھیلے بغیر ان کی موجودگی کے معاملے کو جس طرح ہینڈل کیا گیا، اس سے شائقین میں بھی مایوسی پھیلی ہے۔ اگر چنئی سپر کنگز کو آئی پی ایل کے اگلے سیزنز میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنی ہے، تو انہیں نہ صرف اپنی کپتانی کے فیصلوں پر نظرثانی کرنی ہوگی بلکہ نیلامی اور کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل کو بھی مزید بہتر اور منظم بنانا ہوگا۔

Vivaan Joshi
Vivaan Joshi

Vivaan Joshi brings energy and charisma to the cricket field as a dynamic on-ground reporter. Known for his enthusiastic style and ability to capture the atmosphere of live matches, Vivaan has quickly become a recognizable face in cricket coverage. He started his career as a sports radio host before transitioning to television, where his interviews with players and coaches have earned praise for their warmth and authenticity. Vivaan also hosts fan-engagement segments, connecting audiences worldwide to the excitement of the sport. His approachable personality and deep love for cricket make him a natural storyteller both on and off the field.