پاکستان کی بنگلہ دیش کے ہاتھوں شرمناک شکست: کامران اکمل کا شدید ردعمل
پاکستان کرکٹ کا زوال: کامران اکمل کی کھلی تنقید
پاکستان کرکٹ ٹیم کی بنگلہ دیش کے ہاتھوں 0-2 سے ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش نے کرکٹ کے حلقوں میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ یہ شکست نہ صرف ٹیم کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے پوائنٹس ٹیبل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں، جہاں پاکستان اب آٹھویں نمبر پر کھسک چکا ہے۔ اس صورتحال پر سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے انتہائی سخت الفاظ میں ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
کامران اکمل کا مایوس کن بیان
ایک نجی یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کامران اکمل نے بنگلہ دیشی ٹیم کو تو مبارکباد پیش کی، لیکن اپنی ٹیم کے لیے ان کے الفاظ میں صرف دکھ اور غصہ جھلک رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس شکست کے بعد اب شرمندگی کے سوا کچھ نہیں بچا۔ کامران اکمل کا ماننا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں پچھلے سات سالوں سے جو باتیں کی جا رہی ہیں، عملی طور پر کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا، اور یہی جمود ٹیم کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔
غیر کرکٹ شخصیات اور انا کا مسئلہ
کامران اکمل نے نشاندہی کی کہ جب فیصلہ سازی کے عمل میں غیر کرکٹ ماہرین اور ان کی انا شامل ہو جائے گی، تو کرکٹ کبھی بہتر نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے پیراشوٹ کے ذریعے تقرریوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب میرٹ اور مہارت کی کوئی اہمیت نہ رہے اور جوابدہی کا نظام سرے سے موجود ہی نہ ہو، تو نتائج ایسے ہی نکلتے ہیں۔
کھلاڑیوں کی دوغلی پالیسی اور فٹنس کے معیارات
سابق وکٹ کیپر نے کھلاڑیوں کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے دوران کوئی کھلاڑی فٹنس کا مسئلہ نہیں بتاتا، لیکن جیسے ہی ڈومیسٹک کرکٹ شروع ہوتی ہے، فٹنس رپورٹس آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فٹنس کے سخت معیارات کے نام پر باصلاحیت کھلاڑیوں کا کیریئر تباہ کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی 200 رنز بنا سکتا ہے یا 18 اوور کروا سکتا ہے، تو محض ایک ‘جمپ’ یا دو کلومیٹر کی دوڑ میں چند سیکنڈ کی تاخیر پر اسے ٹیم سے باہر کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
بھارتی ماڈل سے موازنہ
کامران اکمل نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے نظام میں کرکٹ اور ٹیم کو ذاتی دوستیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے چیتشور پجارا، اجنکیا رہانے اور شیکھر دھون جیسے بڑے کھلاڑیوں کی مثال دی جنہیں فارم اور ضرورت کے مطابق ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا، لیکن پاکستان میں دوستیوں کی بنیاد پر ٹیم تشکیل دی جاتی ہے۔
مستقبل کے خدشات
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کرکٹ بہتر ہو سکتی ہے، تو انہوں نے انتہائی مایوس کن جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے چار سے پانچ سال تک حالات میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ جب تک سخت اور بڑے فیصلے نہیں کیے جائیں گے، تب تک یہی زوال جاری رہے گا۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی پوزیشن
بنگلہ دیش سے شکست کے بعد پاکستان کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچنے کا خواب بکھر چکا ہے۔ پاکستان اب مسلسل سات اوے (Away) ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے اور جولائی میں ویسٹ انڈیز اور اگست میں انگلینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز ٹیم کے لیے مزید کڑا امتحان ثابت ہوں گی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا کرکٹ بورڈ اس شکست سے کوئی سبق حاصل کرے گا یا ٹیم کا زوال اسی طرح جاری رہے گا۔
