پاکستان کے فاسٹ بولرز کی رفتار میں کمی کیوں؟ عمر گل نے حقیقت بیان کر دی
پاکستان کرکٹ: تیز گیند بازی کی روایت اور موجودہ چیلنجز
ایک ایسا ملک جس نے کرکٹ کی دنیا کو وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے ‘ایکسپریس فاسٹ بولرز’ دیے، آج وہاں کے بولرز کا 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گیند بازی کرنا بھی ایک مشکل کام دکھائی دیتا ہے۔ شائقین کرکٹ اس سوال پر پریشان ہیں کہ آخر پاکستان کے فاسٹ بولرز کی رفتار میں یہ کمی کیوں آئی ہے؟ اس صورتحال پر قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر اور موجودہ کوچنگ اسٹاف کے رکن عمر گل نے اہم حقائق بیان کیے ہیں۔
کیا بنگلہ دیش کے خلاف کارکردگی صرف رفتار کا مسئلہ ہے؟
عمر گل کا ماننا ہے کہ اس معاملے کو صرف ‘کم رفتار’ کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، حالیہ سیریز میں بنگلہ دیشی بلے بازوں نے غیر معمولی بیٹنگ کی ہے، اور کچھ لمحات میں پاکستانی بولرز بدقسمت بھی ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی کھیل میں قسمت آپ کا ساتھ نہیں دیتی، اور کچھ اہم مواقع ضائع ہونے سے کارکردگی متاثر ہوئی۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ بولرز نے پوری کوشش کی لیکن نتائج حق میں نہیں رہے۔
ریڈ بال کرکٹ اور رفتار کا فقدان
جب عمر گل سے فاسٹ بولرز کی رفتار میں کمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ رفتار کا مستقل زوال ہے۔ ان کے مطابق، ہمارے پاس ایسے بولرز موجود ہیں جو پی ایس ایل (PSL) اور وائٹ بال کرکٹ میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عمر گل نے اصل مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا:
- ٹیسٹ کرکٹ کا فقدان: ہم آج کل کافی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل رہے۔ اس کی وجہ سے بولنگ کے لیے درکار مخصوص عضلات اور ‘بولنگ میموری’ صحیح طرح سے تیار نہیں ہو پاتی۔
- ذہنی اور جسمانی تیاری: ٹیسٹ کرکٹ طویل اسپیلز کا تقاضا کرتی ہے۔ بولرز اپنی پوری توانائی صرف کر رہے ہیں، لیکن طویل وقفے کے بعد ریڈ بال فارمیٹ میں واپسی کرنا جسمانی طور پر کافی مشکل ثابت ہوتا ہے۔
طویل وقفہ اور کنڈیشنز کا اثر
پاکستان نے اکتوبر کے بعد طویل عرصے تک ریڈ بال کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔ عمر گل کے مطابق، چھ ماہ سے زائد کے وقفے کے بعد ٹیسٹ فارمیٹ میں واپسی سے رفتار میں قدرتی طور پر کمی محسوس ہوتی ہے۔ مزید برآں، شدید گرمی اور نمی نے بھی بولرز کی کارکردگی اور توانائی پر منفی اثر ڈالا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ رفتار میں فرق دکھائی دیتا ہے، لیکن بولرز کا جوش و جذبہ ابھی بھی برقرار ہے۔
بہتر تیاری کی ضرورت
سابق فاسٹ بولر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سیریز سے قبل مزید پریکٹس میچز کا انعقاد بہت ضروری تھا۔ شیڈولنگ کے مسائل، پی ایس ایل اور دیگر مصروفیات کے باعث کھلاڑیوں کو مناسب میچ پریکٹس کا موقع نہیں مل سکا۔ عمر گل کے مطابق، مستقبل میں کسی بھی سیریز سے قبل اسی فارمیٹ کی تیاری کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کے سخت تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کرکٹ کو اپنی فاسٹ بولنگ کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور کھلاڑیوں کو اس فارمیٹ کے مطابق ڈھالنے کے لیے بہتر سہولیات اور تیاری کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔
