پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: لٹن داس اور مشفق الرحیم کی شاندار شراکت داری
سلہٹ ٹیسٹ: بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط پوزیشن
سلہٹ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کا کھیل مکمل ہونے تک بنگلہ دیشی ٹیم نے پاکستان کے خلاف اپنی برتری کو 249 رنز تک پہنچا دیا ہے۔ میچ کے تیسرے روز کے لنچ وقفے تک بنگلہ دیش کا اسکور چار وکٹوں کے نقصان پر 203 رنز تھا، جبکہ مجموعی طور پر بنگلہ دیش کی پوزیشن انتہائی مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔
لٹن داس اور مشفق الرحیم کا عزم
بنگلہ دیشی اننگز کو سنبھالنے میں لٹن داس اور مشفق الرحیم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ لنچ کے وقفے تک لٹن داس 48 رنز پر ناقابل شکست تھے، جبکہ تجربہ کار مشفق الرحیم 39 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان پانچویں وکٹ کے لیے اب تک 88 رنز کی شراکت داری قائم ہو چکی ہے۔ لٹن داس، جنہوں نے پہلی اننگز میں 126 رنز کی شاندار سنچری بنائی تھی، ایک بار پھر پاکستانی بولرز کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ مشفق الرحیم نے بھی محتاط انداز اپنانے کے بعد جارحانہ شاٹس کھیلے، جس میں ساجد خان کے خلاف ایک زبردست چھکا بھی شامل ہے۔
پاکستان کی ابتدائی کامیابی اور جدوجہد
دن کے آغاز میں پاکستانی فاسٹ بولر خرم شہزاد نے سازگار موسمی حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی کپتان نجم الحسن شانتو کو اپنی نپی تلی بولنگ سے پریشان کیا اور بالآخر انہیں 15 رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ تاہم، اس کے بعد پاکستانی فیلڈنگ اور بولنگ میں وہ شدت نظر نہیں آئی جو میچ کا پانسہ پلٹ سکتی تھی۔ بابر اعظم کے پاس رن آؤٹ کا ایک سنہری موقع تھا جب لٹن داس کریز سے باہر نکل آئے تھے، لیکن وہ سٹمپ پر گیند نہ مار سکے۔
پہلی اننگز کا پس منظر
یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے اپنی پہلی اننگز میں 278 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 232 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے واپسی کرتے ہوئے 68 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ آغا سلمان نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے تین، تین جبکہ مہدی حسن میراز اور تسکین احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔
میچ کا مجموعی منظرنامہ
سلہٹ کی کنڈیشنز اور سست آؤٹ فیلڈ کے باوجود بنگلہ دیشی بیٹرز نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ پاکستان کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ جلد سے جلد باقی ماندہ وکٹیں حاصل کرے تاکہ ہدف کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اگر بنگلہ دیش اپنی اس برتری کو مزید بڑھانے میں کامیاب ہوتا ہے، تو چوتھی اننگز میں پاکستان کے لیے ہدف کا تعاقب کرنا ایک ناممکن مشن ثابت ہو سکتا ہے۔
میچ کے اگلے سیشنز میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا پاکستانی بولرز اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا بنگلہ دیشی بلے باز اپنی برتری کو مزید مستحکم کر کے پاکستان کو سیریز میں دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
