Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
News

اسپینسر جانسن کا عزم: انجری کے بعد مزید تیز اور بہتر واپسی کا خواب

Sana Iqbal · · 1 min read

اسپینسر جانسن کی کرکٹ میدان میں واپسی

آسٹریلیا کے باصلاحیت بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر اسپینسر جانسن کے لیے گزشتہ ایک سال کافی مشکل رہا۔ کمر کی انجری کی وجہ سے کرکٹ سے ایک سال کی طویل دوری نے انہیں ذہنی طور پر کافی پریشان رکھا تھا، تاہم آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگز (CSK) کی جانب سے لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف ڈیبیو میچ نے ان کے اعتماد کو بحال کر دیا ہے۔ اس میچ میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے گیند بازی کر کے انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ فارم میں واپس آ چکے ہیں۔

انجری اور بحالی کا سفر

جانسن نے آئی پی ایل 2025 اور 2026 کے درمیان کوئی مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔ لکھنؤ میں اپنے پہلے ہی اوور میں، انہوں نے مچل مارش اور جوش انگلس کو اپنی تیز رفتار سے خوب پریشان کیا۔ اگرچہ انہوں نے 4 اوورز میں 39 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی، لیکن ان کی بولنگ میں وہ پرانی دھار اور ردھم نظر آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ جانسن کا کہنا ہے کہ نیٹ پر گزشتہ دو سے تین ماہ کی سخت محنت رنگ لا رہی ہے۔

تکنیک میں تبدیلی اور بہتری

جانسن نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا میں واپسی پر انہوں نے سابق فاسٹ بولر ریان ہیرس کے ساتھ مل کر اپنے ایکشن پر کام کیا تاکہ کمر کی انجری دوبارہ نہ ہو۔ ان کا ماننا ہے کہ تکنیک میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں، جیسے کہ سیدھا بھاگنا اور مومنٹم کو درست سمت میں رکھنا، انجری سے بچاؤ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

چنئی سپر کنگز کا اعتماد

جانسن نے چنئی سپر کنگز کے کوچنگ اسٹاف، خاص طور پر ایرک سیمنز اور اسٹیفن فلیمنگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی نے انہیں بہت جلد رفتار پکڑنے میں مدد کی۔ رتوراج گائیکواڈ کی کپتانی میں کھیلنا ان کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ اس ٹیم کے ماحول سے کافی متاثر ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ‘آئی پی ایل دنیا کا بہترین ٹورنامنٹ ہے اور میں دنیا کی بہترین فرنچائز کے لیے کھیل رہا ہوں۔’

مستقبل کا لائحہ عمل

جانسن کا ماننا ہے کہ وہ ابھی مزید تیز اور بہتر ہو سکتے ہیں۔ 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار ان کا اگلا ہدف ہے، جس کے لیے وہ مسلسل محنت کر رہے ہیں۔ جیمی اوورٹن کی انجری کے بعد، ٹیم کا سارا دارومدار اب جانسن پر ہے کہ وہ سی ایس کے کے بولنگ اٹیک کو مضبوط بنائیں اور انہیں پلے آف کی دوڑ میں برقرار رکھیں۔

کھیل سے لگاؤ

ایک طویل عرصے تک میدان سے باہر رہنے کے بعد، جانسن ہر لمحے کو انجوائے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ‘میں ہر لمحے مسکرانے اور کھیل کا لطف اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ وہ کھیل ہے جس سے ہم سب پیار کرتے ہیں، اور سی ایس کے کے لیے کھیلنا ایک ناقابل یقین تجربہ ہے۔ یہ چیلنجنگ ضرور ہے لیکن میں دنیا میں کہیں اور نہیں ہونا چاہتا۔’ اسپینسر جانسن کی یہ واپسی نہ صرف ان کے کیریئر کے لیے بلکہ سی ایس کے کی مہم کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہونے والی ہے۔

Avatar photo
Sana Iqbal

Sana Iqbal focuses on player journeys, biographies, and in-depth profiles of emerging and established cricket stars.