ویبھو سوریاونشی کا پہلا بین الاقوامی حریف طے: روی شاستری کی بڑی پیشگوئی
ویبھو سوریاونشی: بھارتی کرکٹ کا نیا ابھرتا ہوا ستارہ
بھارتی کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ سے ہی بہترین بلے بازوں کی تخلیق کے لیے جانی جاتی ہے، اور اس فہرست میں نیا اضافہ ویبھو سوریاونشی کا ہے۔ جب سے ویبھو نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں قدم رکھا ہے، ان کا اثر و رسوخ غیر معمولی رہا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ماہرین کی توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی بلکہ ان تمام خدشات کو بھی غلط ثابت کر دیا جو ان کی عمر اور تجربے کے حوالے سے ظاہر کیے جا رہے تھے۔
ویبھو سوریاونشی نے آئی پی ایل 2025 کے اپنے پہلے سیزن میں ہی 250 سے زائد رنز بنا کر سب کو متوجہ کیا، جس میں ایک شاندار سنچری اور ایک نصف سنچری شامل تھی۔ تاہم، ان کی کامیابی کا سفر صرف آئی پی ایل تک محدود نہیں رہا۔ وہ بھارت کی یوتھ کرکٹ میں بھی ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھرے ہیں۔ 2024 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھارت کی فتح میں ویبھو نے مرکزی کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے فائنل میں انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف 175 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر حریف ٹیم کے حوصلے پست کر دیے اور بھارت کو 400 سے زائد کا مجموعہ ترتیب دینے میں مدد دی۔
Vaibhav Sooryavanshi for India. Image Credits: AFP
آئی پی ایل 2026: ریکارڈ ساز سیزن اور غیر معمولی فارم
کرکٹ کے حلقوں میں اکثر یہ بحث رہتی ہے کہ نوجوان کھلاڑی اپنے دوسرے سیزن میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ مخالف ٹیمیں ویڈیو تجزیہ کے ذریعے ان کی کمزوریوں کو جان لیتی ہیں۔ لیکن ویبھو سوریاونشی نے ان تمام مفروضوں کو ہوا میں اڑا دیا۔ راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے آئی پی ایل 2026 میں 11 میچوں میں 440 رنز اسکور کیے ہیں۔
ان کا اسٹرائیک ریٹ 236.56 رہا، جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لحاظ سے ناقابل یقین ہے۔ اس سیزن میں انہوں نے مجموعی طور پر 40 چھکے لگائے۔ ان کی سب سے یادگار اننگز سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف تھی، جہاں انہوں نے صرف 36 گیندوں پر سنچری داغ دی، جو آئی پی ایل کی تاریخ کی تیسری تیز ترین سنچری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے ہی 35 گیندوں پر سنچری بنانے کے ریکارڈ سے محض ایک گیند کے فاصلے پر رہ گئے۔
روی شاستری کا موقف: کیا ویبھو بین الاقوامی ڈیبیو کے لیے تیار ہیں؟
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری ویبھو سوریاونشی کی صلاحیتوں کے بڑے مداح نظر آتے ہیں۔ آئی سی سی ریویو پر گفتگو کرتے ہوئے شاستری نے زور دیا کہ اس نوجوان اوپنر کو جلد از جلد بین الاقوامی اسکواڈ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
شاستری کے مطابق، “بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے ان کے لیے تین چوتھائی کھلے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کسی نوجوان کھلاڑی کو سسٹم میں لانا چاہتے ہیں تو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ اس کے لیے بہترین ہے۔ ویبھو کی بیٹنگ میں وہ جوش و جذبہ ہے جو عالمی سطح کے کسی بھی باؤلنگ اٹیک کا سامنا کرنے کے لیے کافی ہے۔ شاستری کا ماننا ہے کہ جب ایک کھلاڑی اتنی کم عمری میں اپنے سے دوگنا عمر کے کھلاڑیوں کا اعتماد سے سامنا کر رہا ہو، تو اس کی عمر کی بحث بے معنی ہو جاتی ہے۔
آئرلینڈ کا دورہ: ڈیبیو کا بہترین موقع
اگرچہ اگلا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 میں شیڈول ہے، لیکن روی شاستری کا خیال ہے کہ ویبھو کو اس سے بہت پہلے موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے جون میں ہونے والے آئرلینڈ کے دورے کو ویبھو کے ڈیبیو کے لیے مثالی قرار دیا ہے۔ بھارت کو آئرلینڈ میں دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے ہیں، جس کے بعد انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز ہوگی۔
شاستری نے کہا، “بہت سے لوگ پوچھیں گے کہ کیا وہ 14، 15 یا 16 سال کا ہے؟ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں صرف اس کے بیٹنگ کرنے کا انداز دیکھ رہا ہوں۔ وہ جس طرح تمام باؤلرز پر حاوی ہو رہا ہے، وہ اسے ٹیم میں شامل کرنے کے لیے کافی ہے۔ میرے خیال میں وہ انتخاب کی دوڑ میں بہت آگے ہیں۔”
انڈیا اے میں شمولیت اور سری لنکا کا دورہ
بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) نے ویبھو کو مین اسٹریم کرکٹ میں لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ انہیں تلک ورما کی قیادت میں انڈیا اے کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ ٹیم جلد ہی سری لنکا کا دورہ کرے گی جہاں وہ افغانستان اے کے خلاف ون ڈے سہ ملکی سیریز میں حصہ لے گی۔
یہ سیریز جون میں منعقد ہوگی اور ویبھو کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ون ڈے فارمیٹ میں ثابت کرنے کا ایک بڑا موقع ہوگی۔ انڈیا اے کی سطح پر کارکردگی انہیں براہ راست سینئر ٹیم میں جگہ دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ویبھو سوریاونشی نہ صرف ایک بہترین ٹیلنٹ ہیں بلکہ وہ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے سب سے بڑے اثاثے ثابت ہو سکتے ہیں۔
