فِن علی کی آئی پی ایل 2026 میں شاندار واپسی: ‘میں اپنے اوپر دباؤ ڈال رہا تھا’
فِن علی کی آئی پی ایل 2026 میں شاندار واپسی: ‘میں صرف انسان سے ہی نہیں رہا تھا’
فِن علی نے آئی پی ایل 2026 میں ایک شاندار واپسی کرتے ہوئے گجرات ٹائیٹنز کے خلاف 35 گیندوں میں 93 رنز کی تیز ترین اننگز کھیلی، جس کے بعد وہ نہ صرف کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ اپنی فارم کی بحالی کی کہانی بھی سب کے سامنے لا کر آئی۔
ڈراپ ہونا تھا ذہنی جنگ کا اختتام
علی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، “میں شاید ایک عرصے کے لیے انسانی روپ سے ہی محروم ہو چکا تھا۔ یہ سب میں نے خود پر دباؤ ڈال کر مسلط کیا تھا۔” اپریل میں صرف 81 رنز کی خراب فہرست کے بعد، علی کو ٹیم سے باہر بٹھایا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ خود کو تلاش کرنے کے قابل ہوئے۔
“جب آپ ٹیم سے باہر ہوتے ہیں، تو آپ کے پاس سوچنے، آرام کرنے اور نئے زاویے سے چیزوں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ میں کرکٹ کھیلنا پسند کرتا ہوں، بلے بازی کرتا ہوں، لیکن اس وقت میں اسے ویسا مزہ نہیں لے رہا تھا جیسا کہ محسوس کرتا ہوں۔” وہ کہتے ہیں کہ وقفہ لینا ان کے لیے بہت مثبت ثابت ہوا۔
گجرات کے تیز گیند بازوں کو جواب دینے کا فن
گجرات ٹائیٹنز کا باؤلنگ اٹیک، جس میں لمبے قد کے تیز گیند باز شامل تھے، عام طور پر دباؤ ڈالتا ہے، لیکن علی کو یہی موقع ملا۔ امباتی رائیڈو نے ٹائم آؤٹ شو پر کہا، “وہ رفتار پسند کرتا ہے اور اون سائیڈ میں مارتا ہے۔ جب گیند چھوٹی لمبائی پر آتی ہے، تو وہ اسے آسانی سے نشانہ بناتا ہے۔”
رائیڈو نے مزید کہا کہ علی نے کاگیسو ربادہ کی مضبوط ترین گیند کو بھی مڈ وکٹ کی طرف چھکے کے لیے بھیج دیا، اور یہی اس کی بالکل درست پوزیشن اور جوابی حملے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
اسٹریٹجی سادہ، لیکن مؤثر
علی کا منصوبہ آغاز میں واضح تھا: “اگر مار سکو تو چھکا یا چوکا، ورنہ چھوٹی چال چلو۔” انہوں نے آج کی وکٹ کو دیکھتے ہوئے کہا کہ شروع میں حالات مشکل تھے۔ دو بہترین اوپننگ باؤلرز کے مقابلے میں، انہوں نے سادہ رہنے پر توجہ دی۔
“میرا مقصد یہ تھا کہ اگر گیند میرے ذائی میں آئے تو چھکا یا چوکا، ورنہ پھر ہاں سٹرائیک پر رہوں اور آؤٹ نہ ہوں۔ خاص طور پر اجینیا رہانے کے آؤٹ ہوتے ہی، میں نے ذمہ داری لینے کا فیصلہ کیا۔”
سپن کے خلاف بہتری کا نمایاں مظاہرہ
سنجے بانگر نے علی کی سپن باؤلنگ کے خلاف بہتری پر زور دیا۔ رشید خان کی اوور کے پہلے تین گیندوں میں علی نے دو چھکے اور ایک چوکا لگا دیا۔ جب رے سائی کشورو نے باؤلنگ شروع کی، تو ان کی پہلی گیند بھی چھکے کی شکل میں گئی۔
بانگر کا کہنا تھا، “اب علی سائیڈز کا استعمال بہتر طریقے سے کرتا ہے۔ وہ بال پر پیچھے کی طرف کھڑا ہو کر اسپنرز کی لمبائی کو متاثر کرتا ہے۔ وہ اب صرف اون سائیڈ تک محدود نہیں رہا، بلکہ پورے گراؤنڈ میں اسکور کر سکتا ہے۔”
علی کی یہ تبدیلی انہیں ایک مکمل بیٹسمین بناتی ہے۔ جیسے بانگر نے کہا، “ایک دن آپ کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آپ اسے کہاں ڈالیں گے؟”
فِن علی کی یہ اننگز نہ صرف اسکور بورڈ پر اثر انداز ہوئی بلکہ دل بھی جیت لیے۔ یہ ایک سچی، سادہ اور جذباتی واپسی ہے، جہاں دباؤ کو سکون سے بدل دیا گیا۔
