پی ایس ایل 2026: بابر اعظم کی ریکارڈ سنچری اور امپائرنگ کا متنازعہ فیصلہ
پی ایس ایل 2026: بابر اعظم کی تاریخی سنچری اور امپائرنگ کے گرد تنازعہ
ٹی 20 کرکٹ میں اب امپائرنگ کی غلطیاں کھیل کا ایک حصہ بن چکی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود، آئی پی ایل 2026 اور پاکستان سپر لیگ (PSL) 2026 کے دوران کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنہوں نے شائقین اور ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں 28 اپریل کو پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان ہونے والا کوالیفائر میچ خاص طور پر चर्चा کا مرکز بنا رہا۔
میچ کا اہم موڑ: ایل بی ڈبلیو اپیل اور ڈی آر ایس
اس میچ کے دوران بابر اعظم کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی ایک زوردار اپیل کی گئی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کی نویں اوور کی پانچویں گیند پر بابر اعظم بری طرح پھنس گئے تھے۔ گیند پیڈ پر لگنے کے بعد امپائر نے اپیل مسترد کر دی تو اسلام آباد نے فوری طور پر ڈی آر ایس کا سہارا لیا۔ تھرڈ امپائر نے جب الٹرا ایج (UltraEdge) کا جائزہ لیا تو ایک بہت ہی باریک سا ‘اسپائیک’ نظر آیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے بہت چھوٹے اسپائیکس اکثر ہوا کے دباؤ یا بلے باز کے پہنے ہوئے زیورات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور انہیں اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس اہم موقع پر تھرڈ امپائر نے بابر اعظم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں ‘ناٹ آؤٹ’ قرار دیا۔ اس فیصلے نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے کیمپ کو شدید مایوس کیا کیونکہ بابر اس وقت صرف 43 رنز پر کھیل رہے تھے۔
تاریخی سنچری اور ریکارڈ کا سفر
اس نئی زندگی ملنے کے بعد بابر اعظم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے اپنی اننگز کو سنبھالا اور 57 گیندوں پر شاندار سنچری مکمل کی۔ یہ بابر اعظم کی پی ایس ایل تاریخ میں چوتھی سنچری تھی، جس کے ساتھ ہی انہوں نے عثمان خان کے چار سنچریوں کے ریکارڈ کی برابری کر لی ہے۔ فخر زمان اس فہرست میں تین سنچریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
بابر اعظم کی اس اننگز میں 59 گیندوں پر 103 رنز شامل تھے، جس کی بدولت پشاور زلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے سامنے 222 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف رکھا۔
دیگر بلے بازوں کی کارکردگی اور اسلام آباد کی مشکلات
پشاور زلمی کی جانب سے صرف بابر ہی نہیں بلکہ محمد حارث نے بھی 16 گیندوں پر 35 رنز بنائے، جبکہ کوشل مینڈس نے 26 گیندوں پر 41 رنز کی اننگز کھیل کر اسکور کو مستحکم کیا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے باؤلرز کے لیے یہ دن کافی مشکل ثابت ہوا۔ فہیم اشرف نے ایک وکٹ ضرور حاصل کی لیکن تین اوورز میں 36 رنز دیے۔ رچرڈ گلیسن نے چار اوورز میں 45 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں لیکن وہ کافی مہنگے ثابت ہوئے۔
نتیجہ: کیا ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہوا؟
اسلام آباد یونائیٹڈ کے مداحوں اور کرکٹ کے تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ اگر وہ آؤٹ کا فیصلہ درست ہوتا تو میچ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیتا ہے کہ آیا تھرڈ امپائرنگ کے فیصلوں میں مزید شفافیت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ڈی آر ایس کے باوجود، انسانی فیصلے اب بھی تنازعات کا شکار ہیں، اور اس بار بابر اعظم کی خوش قسمتی نے انہیں ایک تاریخی سنگ میل تک پہنچا دیا۔
بہر حال، کرکٹ کے میدان میں بابر اعظم کی کارکردگی بے شک قابلِ تعریف ہے، لیکن پی ایس ایل کے اس کوالیفائر کو ہمیشہ ‘اس امپائرنگ فیصلے’ کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔
