ارشدپ سنگھ کی خراب فارم: پیوش چاولہ کی پنجاب کنگز کو وارننگ – IPL 2026
پنجاب کنگز کی پہلی شکست اور ارشدپ سنگھ کی مایوس کن کارکردگی
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کے سیزن میں پنجاب کنگز (PBKS) کو اپنی پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے ٹیم کے مدافعین اور خاص طور پر بولنگ اٹیک پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ منگل 28 اپریل کو مہاراجہ یادویندر سنگھ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک سنسنی خیز مقابلے میں، شرییاس ایئر کی قیادت کرنے والی پنجاب کنگز کی ٹیم 222 رنز کے بڑے ہدف کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔
راجستھان رائلز (RR) نے ریان پاراگ کی کپتانی میں اس بڑے ہدف کو چھ رنز سے حاصل کر لیا۔ اس میچ میں سب سے زیادہ توجہ ارشدپ سنگھ کی کارکردگی پر رہی، جنہوں نے اپنے چار اوورز میں 68 رنز دینے کے بدلے صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ ایک پریمیم فاسٹ بولر سے ایسی کارکردگی کی توقع نہیں کی جاتی، اور یہی وجہ ہے کہ اب کرکٹ ماہرین نے الارم بجانا شروع کر دیے ہیں۔
پیوش چاولہ کی وارننگ: کیا پلے آف میں خطرہ ہے؟
سابق بھارتی لیگ اسپنر پیوش چاولہ نے ESPNcricinfo سے گفتگو کرتے ہوئے ارشدپ سنگھ کی موجودہ فارم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چاولہ کا ماننا ہے کہ کسی بھی بولر کے لیے ایک یا دو میچز میں خراب کارکردگی معمول کی بات ہو سکتی ہے، لیکن جب یہ رجحان مستقل ہو جائے تو یہ ٹیم کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔
چاولہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا: “ایک یا دو میچز میں ایسا ہونا متوقع ہے، لیکن اب یہ اکثر ہو رہا ہے۔ یہ واقعی ایک تشویشناک معاملہ ہے، کیونکہ اگر آپ بڑی تصویر کو دیکھیں تو جب آپ پلے آف میں داخل ہوں گے، تو آپ کو اس بارے میں سوچنا ہوگا کہ اگر پلے آف کے اہم میچ میں ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ تب آپ صرف نقصان پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے، آپ سکون سے نہیں بیٹھے ہوں گے۔”
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟ ارشدپ سنگھ کی جدوجہد
اگر ارشدپ سنگھ کے اس سیزن کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کافی تشویشناک نظر آتی ہے۔ اب تک جاری آئی پی ایل سیزن میں ارشدپ نے 8 میچوں میں 8 وکٹیں حاصل کی ہیں، لیکن ان کا اوسط 41.12 رہا ہے اور سب سے زیادہ پریشان کن ان کا اکانومی ریٹ 10.96 ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ ہر اوور میں اوسطاً 11 رنز دے رہے ہیں۔
پیوش چاولہ نے مزید وضاحت کی کہ ارشدپ کی کامیابی کا دارومدار نئی گیند سے وکٹیں لینے پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: “وہ ایک ایسے بولر ہیں جو نئی گیند سے وکٹیں لینے کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن اس سیزن میں ایسا نہیں ہو رہا۔ جس میچ میں وہ شروع میں وکٹیں لے لیتے ہیں، وہ ایک شاندار اسپیل بول کرتے ہیں، جیسا کہ ممبئی انڈینز کے خلاف ہوا جہاں انہوں نے 22 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں۔”
چاولہ نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ارشدپ پاور پلے اور ڈیتھ اوورز جیسے مشکل مراحل میں بولنگ کرتے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایک “پریمیم بولر” ہونے کے ناطے انہیں اپنی لائن اور لینتھ پر قابو پانا ہوگا۔
ابھینو مکند کا تجزیہ: یارکرز کا غائب ہونا
سابق بھارتی اوپننگ بیٹر ابھینو مکند نے بھی پیوش چاولہ کے خیالات کی تائید کی ہے۔ مکند کے مطابق، ارشدپ سنگھ اپنی بہترین یارکرز کے لیے مشہور ہیں، جو میچ کے آخری لمحات (Death Overs) میں کھیل کا پانسہ پلٹ سکتی ہیں۔
مکند نے کہا: “یہ ایک فکر کی بات ہے۔ ارشدپ سنگھ چاہے کتنے ہی رنز کیوں نہ دے دیں، وہ ہمیشہ ڈیتھ اوورز میں واپس آتے ہیں اور بہترین یارکرز بولتے ہیں۔ ہم انہیں ہمیشہ ایک بہت اچھے یارکر بولر کے طور پر جانتے ہیں۔ مجھے ان کے کچھ رنز دینے سے اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ وہ وائڈ لائنز کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن راجستھان رائلز کے خلاف وہ اپنے پلانز کو درست طریقے سے نافذ نہیں کر سکے۔”
پنجاب کنگز کی موجودہ صورتحال اور اگلا چیلنج
ان تمام مسائل کے باوجود، پنجاب کنگز اب بھی آئی پی ایل پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پر قائم ہے۔ انہوں نے 8 میچوں میں 13 پوائنٹس حاصل کیے ہیں، جو ان کی مجموعی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، اگر ارشدپ سنگھ نے اپنی فارم بہتر نہ کی تو یہ کامیابی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔
- مجموعی پوائنٹس: 13 (8 میچز میں)
- ٹیبل پوزیشن: اول
- اگلا مقابلہ: گجرات ٹائٹنز (GT) کے خلاف، 3 مئی کو نریندر مودی اسٹیڈیم، احمد آباد میں۔
کپتان شرییاس ایئر کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج اپنے اہم ترین بولر کا اعتماد بحال کرنا ہوگا تاکہ ٹیم نہ صرف لیگ مرحلے میں اپنی برتری برقرار رکھے بلکہ ٹرافی جیتنے کے لیے پلے آف میں بھی مضبوط نظر آئے۔
