سری لنکا کرکٹ بورڈ بحران: صدر سمیت پوری کمیٹی مستعفی، 2027 ورلڈ کپ کی تیاریاں خطرے میں
سری لنکا کرکٹ میں ایک نئے بحران کا آغاز
سری لنکا کرکٹ (SLC) کے لیے یہ وقت انتہائی نازک ثابت ہو رہا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک سرکاری پریس ریلیز کے مطابق، بورڈ کے صدر شممی سلوا سمیت پوری ایگزیکٹو کمیٹی نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 29 اپریل سے مؤثر ہونے والا یہ فیصلہ سری لنکن کرکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن گیا ہے، خاص طور پر جب ملک 2027 کے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
استعفوں کی وجوہات اور حکومتی ردعمل
اگرچہ باضابطہ بیان میں استعفوں کی ٹھوس وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن میڈیا رپورٹس اور سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ عوامی دباؤ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات اس بڑے فیصلے کی بنیادی وجہ ہیں۔ شممی سلوا نے اس صورتحال پر صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے بھی ملاقات کی تھی، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ صدر کی جانب سے ہی انہیں عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
اس استعفے کی اطلاع باقاعدہ طور پر سری لنکا کے صدر اور وزیر برائے امور نوجوانان و کھیل، سنیل کمارا گاماجے کو دی جا چکی ہے۔
انٹرایم کمیٹی اور اصلاحات کی ضرورت
بحران کو حل کرنے کے لیے اب حکومت ایک عبوری کمیٹی (Interim Committee) تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی سابق رکن پارلیمنٹ ایرن وکرما رتنے کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سری لنکن کرکٹ کی ساکھ بحال کرنے کے لیے سابق عظیم کھلاڑی سِداتھ ویٹیمونی اور روشن ماہنامہ کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے۔
شممی سلوا کا دور اور کارکردگی کا جائزہ
شممی سلوا کا دور 2019 میں تھِلانگا سُماتھیپالا کے بعد شروع ہوا تھا۔ اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے چار بار انتخابات جیتے، جن میں سے تین بار وہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ ان کے دور میں سری لنکن مرد اور خواتین ٹیموں نے ایشیا کپ کے ٹائٹل اپنے نام کیے، لیکن دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار رہی۔
- 2023 ون ڈے ورلڈ کپ: سری لنکا نویں پوزیشن پر رہا۔
- 2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: ٹیم متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔
- 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: مشترکہ میزبان ہونے کے باوجود ٹیم ابتدائی مراحل میں ہی باہر ہو گئی۔
یہ کارکردگی ہی تھی جس نے نہ صرف شائقین کرکٹ بلکہ حکومتی سطح پر بھی بورڈ کی مینجمنٹ کے خلاف ایک ناراضگی پیدا کر رکھی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نئی ممکنہ کمیٹی سری لنکن کرکٹ کو 2027 کے ورلڈ کپ سے قبل سنبھال پائے گی یا یہ بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
کرکٹ کے شائقین اب اس بات کے منتظر ہیں کہ بورڈ کے نئے ڈھانچے کے ساتھ ٹیم کی کارکردگی میں کیا بہتری آتی ہے اور آیا سری لنکا دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی شان بحال کر پائے گا یا نہیں۔
