Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
News

اشون: ‘Ashwin sees ‘no reason’ why Kohli and Rohit shouldn’t play 2027 ODI World Cup’ – تجربہ اور اہمیت

Vikram Desai · · 1 min read

کرکٹ کی دنیا میں مستقبل کے بڑے ایونٹس کے حوالے سے ہمیشہ چہ مگوئیاں جاری رہتی ہیں، اور اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی کرکٹ کے دو ستارے، ویرات کوہلی اور روہت شرما، 2027 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں حصہ لیں گے؟ یہ ٹورنامنٹ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں اکتوبر-نومبر 2027 میں شیڈول ہے، اور اس وقت تک کوہلی تقریباً 39 برس کے ہو چکے ہوں گے، جبکہ روہت شرما 40 کا ہندسہ عبور کر چکے ہوں گے۔ بھارتی کرکٹ کے تجربہ کار آف اسپنر آر اشون نے اس صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک شادی کی طرح ہے جہاں دونوں فریقین کی رضامندی اور معاونت ضروری ہے۔

2027 ورلڈ کپ میں کوہلی اور روہت کی شمولیت: اشون کا تجزیہ

آر اشون نے ای ایس پی این کرک انفو کے ویڈیو شو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مینجمنٹ اور سلیکٹرز یہ چاہتے ہیں کہ ویرات کوہلی اور روہت شرما 2027 کے 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں ٹیم کا حصہ ہوں، تو یہ بالکل ممکن ہے۔ اشون کے مطابق، اگر اس معاملے میں ٹیم کے اندر کافی مثبت توانائی اور حمایت موجود ہو تو ان تجربہ کار کھلاڑیوں کو میدان میں برقرار رکھنا اور ان کے قیمتی تجربے کا استعمال کرنا آسان ہو جائے گا۔ تاہم، اگر مینجمنٹ کی سوچ اس کے برعکس ہو، یا کھلاڑیوں پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالا جائے، تو ان کے لیے مشکل ہو سکتی ہے۔

عمر اور فٹنس کے چیلنجز: ایک ‘شادی’ کی مثال

اشون نے تسلیم کیا کہ وہ میڈیکل سائنس کے ماہر نہیں ہیں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ ایک مناسب بحالی پروگرام (ری ہیب پروگرام) اور کھلاڑیوں کی اپنی مرضی کے مطابق تیار کردہ منصوبہ بندی کے ساتھ، اگر مینجمنٹ کی جانب سے ‘مثبت وائبز’ ملیں تو کھلاڑی عمر کے اس مرحلے پر بھی اپنی فٹنس کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک شادی سے تشبیہ دی، جہاں دونوں فریقین کو کچھ نہ کچھ لانا ہوتا ہے۔ اشون کے مطابق، اس عمر میں چوٹیں لگنا عام بات ہے، اور 32 سال کی عمر کے بعد جسم 35 سے کم کی عمر جیسا نہیں رہتا۔ اس لیے ہر مرحلے پر کھلاڑیوں کو خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔

اشون نے وضاحت کی کہ مینجمنٹ اور سلیکٹرز کو ان کھلاڑیوں کی موجودگی کی خواہش ہونی چاہیے اور ان کے بہترین مفاد کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ جب کھلاڑی مینجمنٹ کی طرف سے یہ اعتماد اور خواہش دیکھتے ہیں، تو وہ معمول سے دوگنا محنت کرتے ہیں۔ یہ ایک لین دین کا رشتہ ہے جہاں دونوں فریقوں کی طرف سے مثبت توانائی انتہائی ضروری ہے تاکہ یہ دونوں کھلاڑی 2027 کے ورلڈ کپ تک پہنچ سکیں۔ اشون نے مزید کہا، “مجھے کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ ٹیم میں کیوں نہ ہوں۔ ان کی موجودگی اور ان حالات میں ان کا تجربہ یقینی طور پر آپ کی ٹیم کو مضبوط بناتا ہے۔”

2025 کے بعد ون ڈے میں کوہلی اور روہت کی کارکردگی

اگرچہ ویرات کوہلی نے 2024 میں ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ سے اور روہت شرما نے 2025 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی، لیکن 2025 کے بعد سے وہ ون ڈے کرکٹ میں ہندوستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ کوہلی کی فارم اس دوران روہت سے زیادہ بہتر رہی ہے۔ اس عرصے میں، کوہلی نے 68.53 کی اوسط سے 891 رنز بنائے ہیں، جس میں چار سنچریاں اور پانچ نصف سنچریاں شامل ہیں۔ دوسری جانب، روہت نے 44.43 کی اوسط سے 711 رنز بنائے ہیں، جس میں دو سنچریاں اور چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان کی موجودہ اہمیت اور کارکردگی کو واضح کرتے ہیں۔

موجودہ فٹنس چیلنجز اور مستقبل کی تیاری

ہندوستان کو جنوری 2027 کے اوائل تک مزید 20 ون ڈے میچ کھیلنے ہیں، جس کا آغاز اس ہفتے کے آخر میں افغانستان کے خلاف تین میچوں کی سیریز سے ہو رہا ہے۔ کوہلی کو ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے اس سیریز سے باہر کر دیا گیا ہے، جبکہ روہت ہیمسٹرنگ انجری کے باعث آئی پی ایل 2026 میں ممبئی انڈینز کے لیے پانچ میچز سے محروم رہنے کے بعد اب بھارتی اسکواڈ میں شامل ہو گئے ہیں۔ کوہلی کی افغانستان سیریز سے غیر موجودگی کے باوجود، اشون کا خیال ہے کہ ان کی فٹنس “بہترین رہی ہے” جبکہ روہت کو “خود کو میدان میں رکھنے کے لیے اس پر کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے”۔ یہ کھلاڑیوں کی عمر کے اس مرحلے پر فٹنس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

روہت کا ورلڈ کپ کا خواب اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی اہمیت

اشون نے روہت شرما کے بارے میں کہا، “ان کے کٹ بیگ میں ابھی 50 اوورز کا ورلڈ کپ نہیں ہے۔” اشون کا ماننا ہے کہ روہت 2027 کے ورلڈ کپ میں جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں اور ملک کے لیے ایک اور ٹرافی جیت سکیں۔ اشون کے خیال میں روہت نے بھی اس حد تک پہنچنے کے لیے کافی کچھ کیا ہے جس کی انہیں ضمانت ملنی چاہیے۔

اشون نے مزید زور دیا کہ جب آپ کے پاس ویرات اور روہت جیسے تجربہ کار کرکٹرز آپ کی ٹیم میں موجود ہوں، خاص طور پر جنوبی افریقہ جیسے ملک میں ایک بیرون ملک ورلڈ کپ کے لیے جا رہے ہوں، تو آپ کو ان کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان کی موجودگی نہ صرف ٹیم کو میدان میں اعتماد فراہم کرتی ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتی ہے۔ ان دونوں عظیم کھلاڑیوں کا کیریئر اس بات کا گواہ ہے کہ وہ بڑے میچوں میں کتنا دباؤ برداشت کر سکتے ہیں اور کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ لہٰذا، ان کی شمولیت بھارتی ٹیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ فٹ اور فارم میں ہوں۔

بالآخر، یہ فیصلہ مینجمنٹ اور سلیکٹرز کے ہاتھ میں ہوگا، لیکن اشون کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر صحیح ماحول اور عزم موجود ہو تو 2027 کے ورلڈ کپ میں کوہلی اور روہت کی شرکت کوئی ناممکن خواب نہیں ہے۔ ان کا تجربہ اور مہارت کسی بھی ٹیم کے لیے ایک اہم عنصر ہوگی، خاص طور پر ایک ایسے ٹورنامنٹ میں جہاں دباؤ اپنی انتہا پر ہوتا ہے۔

Avatar photo
Vikram Desai

Vikram Desai provides tactical IPL analysis, team strategy breakdowns, and performance reviews after every major fixture.