McGrath: Australia will have to manage turnover of Test attack
آسٹریلوی کرکٹ کا مستقبل اور باؤلنگ میں تبدیلی
آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم جو گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کی بہترین فاسٹ باؤلنگ اٹیک کی حامل رہی ہے، اب ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ آسٹریلیا کے لیجنڈری فاسٹ باؤلر گلین میک گرا نے خبردار کیا ہے کہ ٹیم کے موجودہ تجربہ کار باؤلرز کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے، McGrath: Australia will have to manage turnover of Test attack ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میک گرا کے مطابق، اگرچہ مچل اسٹارک، پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ کی تگڑی نے عالمی کرکٹ پر راج کیا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ مستقبل کے لیے نئے باؤلرز کی تیاری پر توجہ دی جائے۔
تغیر کا عمل اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش
میک گرا کا خیال ہے کہ اگلے سال انگلینڈ میں ہونے والی ایشز سیریز جیتنے کا جذبہ ان تجربہ کار کھلاڑیوں کو مزید کچھ عرصہ متحرک رکھ سکتا ہے، کیونکہ آسٹریلیا نے 2001 کے بعد سے انگلینڈ کی سرزمین پر ایشز سیریز نہیں جیتی ہے۔ تاہم، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ آنے والے 14 ماہ میں آسٹریلیا کو کم از کم 20 ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں، جو موجودہ فاسٹ باؤلرز کی فٹنس اور گہرائی کا کڑا امتحان ہوں گے۔
میک گرا نے کہا، ‘اس وقت کچھ نئے فاسٹ باؤلرز سامنے آ رہے ہیں۔ اسپینسر جانسن جیسے کھلاڑیوں کے پاس رفتار ہے، جبکہ ناتھن ایلس اور زیویئر بارٹلیٹ نے وائٹ بال کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اپنی جگہ پکی کر پاتا ہے۔’
ڈومیسٹک کرکٹ کا کردار
میک گرا نے زور دیا کہ شیفیلڈ شیلڈ (آسٹریلوی فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ) ہی وہ جگہ ہے جہاں سے نئے ٹیسٹ باؤلرز ابھر کر سامنے آئیں گے۔ ناتھن میک اینڈریو جیسے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر مقابلہ بہت سخت ہے اور جو کھلاڑی وہاں کارکردگی دکھائے گا، اسی کو قومی ٹیم میں موقع ملنا چاہیے۔
اولی پیک: مستقبل کا ستارہ؟
باؤلنگ کے ساتھ ساتھ، میک گرا بیٹنگ لائن اپ کے مستقبل کے بارے میں بھی پرامید ہیں۔ 19 سالہ اولی پیک، جو حال ہی میں آسٹریلیا کی جانب سے ون ڈے ڈیبیو کرنے والے سب سے کم عمر بلے باز بنے ہیں، پر میک گرا کی خاص نظر ہے۔ انہوں نے کہا، ‘پیک میں بہت صلاحیت ہے، لیکن بین الاقوامی کرکٹ کا دباؤ ڈومیسٹک سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔’
میک گرا کا مزید کہنا تھا کہ آسٹریلوی سلیکٹرز اولی پیک کو اگلے سال بھارت میں ہونے والی بارڈر-گاوسکر ٹرافی کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہوں گے۔ آسٹریلوی ٹیم اب عمر رسیدہ ہو رہی ہے، اور یہ وقت ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو پلیٹ فارم فراہم کیا جائے تاکہ ٹیم کے معیار میں کوئی کمی نہ آئے۔
نتیجہ
مجموعی طور پر، آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے لیے آنے والے چند برس بہت اہم ہیں۔ چاہے وہ فاسٹ باؤلنگ کا شعبہ ہو یا بیٹنگ، تبدیلی کا عمل ایک قدرتی عمل ہے۔ گلین میک گرا کے تجزیے کے مطابق، آسٹریلیا کے پاس ٹیلنٹ تو موجود ہے، لیکن اس ٹیلنٹ کو نکھارنے اور بروقت موقع دینے کے لیے درست منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ کیا نوجوان کھلاڑی لیجنڈز کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں؟ اس کا جواب ہمیں آنے والے ٹیسٹ سیزنز میں ملے گا۔
