بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی بورڈ ختم: طاقت کے شدید غلط استعمال کے الزامات
تحقیقی کمٹی کی رپورٹ اور اس کے نتائج
بنگلہ دیش کی سرکاری تحقیقاتی کمٹی، جس کی قیادت سابق جج اے کے ایم اسد الزمان نے کی، نے اکتوبر 2025 کے BCB انتخابات کے دوران ووٹنگ کی دھاندلی، تعصب اور جبر کے واضح شواہد پیش کیے۔ پانچ رکنوں پر مشتمل یہ کمٹی اپنی رپورٹ اسپورٹس وزارت کو اتوار کو پیش کر چکی، اور حکومت نے اسی دن بورڈ کو منسوخ کر دیا۔
انتخابی عمل میں واضح خلاف ورزیاں
کمٹی کے مطابق BCB کی اعلیٰ سطح کے عہدیدار متعدد بار غیر تعاون کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ سابق صدر امینول اسلم نے کمٹی کے ساتھ براہ راست ملاقات کے بجائے صرف تحریری جواب دیا۔ قومی اسپورٹس کونسل (NSC) کے اسپورٹس ڈائریکٹر محمد امینول احسان نے منگل کی پریس کانفرنس میں کہا: “انتخابی عمل آزاد، منصفانہ یا شفاف نہیں تھا۔ ووٹرز کو دھمکیاں دی گئیں اور عمل میں بے شمار خلاف ورزیاں ہوئیں۔”
اخبار سے ملنے والی سب سے بڑی شکایت
تحقیقی رپورٹ نے واضح کیا کہ انتخابات کے لیے کونسلرز کے نام جمع کرنے کی ڈیڈ لائن کو بغیر کسی واضح وجہ کے بڑھایا گیا۔ اصل ڈیڈ لائن 17 ستمبر تھی، جسے بعد میں 19 اور پھر 22 ستمبر تک بڑھایا گیا۔ اس توسیع کے پیچھے “غیر واضح مقاصد” اور ترجیحات کے لیے نامزد افراد کو ایڈجوکٹ طور پر مقرر کرنے کا ارادہ تھا۔
امینول اسلم اور نازمُل عبدین فہیم کی غیر قانونی کاروائیاں
کمٹی نے پایا کہ BCB کے صدر امینول اسلم اور اس کے بعد کے ڈائریکٹر نازمُل عبدین فہیم نے اپنے اثر و رسوخ سے کونسلر کی نشستیں محفوظ کیں۔ یہ افراد 8 ستمبر 2025 کو دھاکا ڈویژن اور ڈسٹرکٹ عارضی کمیٹیوں میں بھی شامل کیے گئے، جو اسپورٹس وزارت کے افسران کے دباؤ کا نتیجہ تھا۔ کمٹی نے اس کو “شدید اختیارات کے غلط استعمال” قرار دیا۔
دس سابق کریکرز کی خود مختار نامزدگی
امیدول اسلم نے بغیر کسی اختیار کے، BCB کے انتخابات کے زمرہ 3 میں دس سابق کریکرز کو کونسلر کے طور پر نامزد کیا۔ ریکارڈ شدہ آڈیو یا ویڈیو شواہد کی عدم موجودگی کے باوجود، دیگر ڈائریکٹرز کے بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صدر اس قانون کی خلاف ورزی کر چکے تھے۔ آئٹیکل 9.3.3 کے تحت صدر کو اس طرح کی خود مختار نامزدگی کا اختیار نہیں ہے۔
ای‑ووٹنگ کے نظام کی دھاندلی
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ ای‑ووٹنگ کا عمل ایک مخصوص مقام (شیراٹن ہوٹل) پر رات 5 اکتوبر کو کیا گیا اور ووٹ کی راز داری برقرار نہیں رکھی گئی۔ متعدد ووٹرز نے بتایا کہ ای‑ووٹنگ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کی گئی تھی اور اس میں بنیادی جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں انتخابات کے نتیجے پر ممکنہ اثر پڑا۔
نئی عارضی کمیٹی اور تمیم اقبال کی صدارت
تحقیقی رپورٹ کے بعد حکومت نے فوری طور پر ایک 11 رکنوں کی عارضی کمیٹی کا اعلان کیا جو اگلے تین ماہ تک BCB کی نگرانی کرے گی۔ اس کمیٹی کے سربراہ منتخب ہوئے سابق قومی کپتان تمیم اقبال، جنہوں نے ایک ماہ پہلے صدر امینول اسلم پر طاقت کے غلط استعمال کا الزام لگایا تھا۔ تمیم اقبال نے اس وقت کہا تھا کہ انتخابات میں غیر قانونی طریقے استعمال ہو رہے ہیں اور اس کی بات اب تحقیق کی رپورٹ میں تصدیق شدہ ثابت ہوئی ہے۔
عزم اور آئندہ اقدامات
نئی عارضی کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ BCB کے آئین کی مکمل پابندی کے ساتھ شفاف انتخابات کی تیاری کرے گی۔ اس کے علاوہ، ای‑ووٹنگ سسٹم کی مکمل جانچ اور مستقبل کے انتخابات کے لئے واضح اور منصفانہ قواعد وضع کئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کسی بھی غیر قانونی اثر و رسوخ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
نتیجہ
بنگلہ دیش کی حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ کرکٹ کا کھیل شفافیت اور عدل کے بغیر نہیں چل سکتا۔ سرکاری تحقیق نے شدید اختیارات کے غلط استعمال اور انتخابات کی دھاندلی کے متعدد شواہد سامنے لائے اور اس کے نتیجے میں BCB کی بورڈ کو منسوخ کر کے ایک نئی عارضی کمیٹی متعارف کرائی گئی۔ اس قدم سے نہ صرف کرکٹ شائقین کا اعتماد بحال ہونے کی امید ہے بلکہ مستقبل میں کھیل کی حکمرانی کے لئے مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ بھی قائم ہوگا۔
