Rishad Hossain linked with SA20 move to Sunrisers Eastern Cape
بنگلہ دیشی لیگ اسپنر کی جنوبی افریقہ منتقلی کا امکان
جنوبی افریقہ کی SA20 لیگ دنیا بھر کی فرنچائز کرکٹ میں اپنی ایک الگ پہچان بنا چکی ہے۔ اب تک کسی بھی بنگلہ دیشی کھلاڑی کو اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا، لیکن آنے والے سیزن میں یہ تاریخ بدل سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے باصلاحیت لیگ اسپنر ریشاد حسین کو اس لیگ کی ایک بڑی ٹیم کی جانب سے شدید دلچسپی کا سامنا ہے۔
سن رائزرز ایسٹرن کیپ کی نظریں ریشاد پر
ایک مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق، SA20 کی فاتح ٹیم ‘سن رائزرز ایسٹرن کیپ’ (Sunrisers Eastern Cape) ریشاد حسین کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ فرنچائز اپنی ٹیم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس نوجوان اسپنر کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ فرنچائز ٹورنامنٹ میں اپنی شاندار کارکردگی کے لیے مشہور ہے، اور ریشاد کا تجربہ ان کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔
پرانے کوچ سے ممکنہ ملاقات
اس ممکنہ معاہدے میں ایک دلچسپ پہلو بنگلہ دیش کے سابق ہیڈ کوچ رسل ڈومنگو کا اس فرنچائز کے ساتھ وابستہ ہونا ہے۔ ڈومنگو اس وقت سن رائزرز ایسٹرن کیپ کے بیٹنگ کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ریشاد کو ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے، تو انہوں نے مختصر مگر مثبت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہاں، ایسا معلوم ہوتا ہے۔’ یہ ریشاد اور ڈومنگو کے درمیان ایک دوبارہ ملاپ ثابت ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی لیگز میں ریشاد کا بڑھتا ہوا قد
اگر ریشاد حسین کا یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ ان کے کیریئر میں ایک اور بڑا سنگ میل ہوگا۔ وہ پہلے ہی پاکستان سپر لیگ (PSL) اور آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (BBL) میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
- پاکستان سپر لیگ: لاہور قلندرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے ریشاد نے 12 وکٹیں حاصل کیں اور گیند کے ساتھ ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
- بگ بیش لیگ: ہوبارٹ ہریکینز کے لیے کھیلتے ہوئے انہوں نے 11 اننگز میں 15 وکٹیں حاصل کیں اور ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے اسپنرز میں شامل رہے۔
شیڈول اور بی پی ایل کا چیلنج
SA20 کا آئندہ سیزن 9 جنوری سے 4 فروری تک شیڈول ہے۔ اگر ریشاد کو اس لیگ میں معاہدہ مل جاتا ہے، تو انہیں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (BPL) سے دستبردار ہونا پڑ سکتا ہے۔ پچھلے سیزن میں بھی ریشاد نے بی پی ایل کے بجائے بگ بیش لیگ کو ترجیح دی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
نتیجہ
ریشاد حسین کا SA20 میں جانا نہ صرف ان کے ذاتی کیریئر کے لیے بلکہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ دنیا کی بہترین لیگز میں کھیلنے سے ریشاد کی مہارت میں مزید نکھار آئے گا، جس کا فائدہ بالآخر بنگلہ دیشی قومی ٹیم کو ملے گا۔ کرکٹ کے شائقین اب اس معاہدے کے باضابطہ اعلان کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
