Sangakkara calls out Sam Curran for skipping IPL 2026; backs BCCI’s strong measu – سنگاکارا نے آئی پی ایل 2026 سے سام کرن کی غیر حاضری پر تنقید کی؛ بی سی سی آئی کے سخت اقدامات کی حمایت کی
سنگاکارا نے آئی پی ایل 2026 سے سام کرن کی غیر حاضری پر تنقید کی؛ بی سی سی آئی کے سخت اقدامات کی حمایت کی
کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کے معاہدوں اور دستیابی کے مسائل اکثر بحث کا حصہ بنتے ہیں۔ حال ہی میں، سابق سری لنکن کرکٹ لیجنڈ اور راجستھان رائلز (RR) کے ہیڈ کوچ کمار سنگاکارا نے انگلش آل راؤنڈر سام کرن کی آئی پی ایل 2026 سیزن سے غیر حاضری پر کھل کر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف کرن کے فیصلے پر سوال اٹھایا بلکہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) کی جانب سے کھلاڑیوں کے پول آؤٹس کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات کی بھرپور حمایت بھی کی۔ یہ معاملہ جمعہ کو دوسرے کوالیفائر میچ کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران سامنے آیا، جہاں گجرات ٹائٹنز نے راجستھان رائلز کو سات وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی، جہاں ان کا مقابلہ رائل چیلنجرز بنگلورو سے ہوا۔
سام کرن کی غیر حاضری اور سنگاکارا کی مایوسی
راجستھان رائلز کے لیے یہ سیزن توقعات کے مطابق نہیں رہا، اور ان کی کارکردگی کو کئی عوامل نے متاثر کیا۔ ان میں سے ایک اہم عنصر انگلش آل راؤنڈر سام کرن کی غیر متوقع غیر حاضری تھی۔ فرنچائز کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، سام کرن اور رویندر جڈیجا کو آئندہ آکشن سے قبل چنئی سپر کنگز سے راجستھان رائلز میں ٹریڈ کیا گیا تھا، جبکہ سابق کپتان سنجو سیمسن چنئی سپر کنگز چلے گئے تھے۔ سنگاکارا نے میڈیا کو بتایا کہ راجستھان رائلز انتظامیہ کو مطلع کیا گیا تھا کہ کرن کو ‘سیزن کے اختتام’ کی چوٹ لاحق ہے، جس کی وجہ سے وہ آئی پی ایل 2026 میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
تاہم، اس اطلاع کے برعکس، سام کرن کو انگلینڈ میں جاری ٹی20 بلاسٹ ٹورنامنٹ میں سرے کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ سنگاکارا نے اس صورتحال پر گہری مایوسی کا اظہار کیا، خاص طور پر اس حقیقت پر زور دیتے ہوئے کہ کرن نے ٹی20 بلاسٹ میں خالص بلے باز کے طور پر تین میچ کھیلے ہیں، جہاں انہوں نے 70.5 کی اوسط سے 141 رنز بنائے ہیں، جس میں 71 ناٹ آؤٹ کا بہترین سکور بھی شامل ہے۔ ان کا آخری بین الاقوامی میچ ٹی20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنلز میں بھارت کے خلاف تھا، جہاں انہوں نے بلے بازی میں 18 رنز بنائے تھے اور گیند بازی میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے تھے۔ راجستھان کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ ٹیم کو کرن کی موجودگی کی شدید کمی محسوس ہوئی اور ان کے نہ کھیلنے کا فیصلہ مایوس کن تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انتظامیہ کو جلد اطلاع ملنے کے بعد داسن شناکا کو بطور متبادل سائن کرنا ایک درست فیصلہ تھا۔
بی سی سی آئی کا سخت مؤقف اور کھلاڑیوں پر پابندی
کھیلوں کی دنیا میں معاہدے کی پابندی ایک بنیادی اصول ہے، اور بی سی سی آئی نے کھلاڑیوں کی جانب سے مسلسل پول آؤٹس کو روکنے کے لیے ایک مضبوط اور واضح پالیسی اپنائی ہے۔ بی سی سی آئی نے ایک سخت منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت اگر کوئی کھلاڑی آکشن میں منتخب ہونے کے بعد بغیر کسی معقول وجہ کے دستبردار ہوتا ہے، تو اسے دو سال تک کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اقدام فرنچائز کرکٹ کی سالمیت اور معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اس پالیسی کے تحت، ہندوستانی بورڈ نے ماضی میں ہیری بروک اور بین ڈکٹ جیسے کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی تھی جب وہ اپنے معاہدوں کا احترام کرنے میں ناکام رہے تھے۔ یہ اقدامات دوسرے کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ آئی پی ایل میں شرکت کے وعدوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
کمار سنگاکارا کی بی سی سی آئی کے اقدامات کی حمایت
سابق لنکن لیجنڈ کمار سنگاکارا نے بی سی سی آئی کے اس سخت مؤقف کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کی ایک سخت پالیسی ہے، اور یہ اسی طرح جاری رہنی چاہیے تاکہ کھلاڑیوں کو اپنے معاہداتی وعدوں کو پورا نہ کرنے سے روکا جا سکے۔ سنگاکارا کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی لیگ میں شامل ہر فریق کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ یہ کھلاڑیوں کی دستیابی اور ٹیموں کی منصوبہ بندی میں استحکام کو یقینی بناتی ہے۔
کھلاڑیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی اور فرنچائز کرکٹ کے وعدوں کے درمیان توازن قائم رکھیں۔ تاہم، ایک بار جب وہ کسی فرنچائز کے ساتھ معاہدہ کر لیتے ہیں، تو انہیں اس معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔ سنگاکارا جیسے تجربہ کار کرکٹر اور کوچ کی جانب سے بی سی سی آئی کے اقدامات کی حمایت اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ پروفیشنل کرکٹ میں نظم و ضبط اور معاہدے کی ذمہ داری کتنی اہم ہے۔ یہ نہ صرف لیگ کی ساکھ کو برقرار رکھتا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ فرنچائزز کو کھلاڑیوں کی غیر متوقع غیر حاضری کی وجہ سے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس طرح، بی سی سی آئی کی پالیسی کھلاڑیوں اور فرنچائزز دونوں کے لیے ایک شفاف اور ذمہ دار ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
