Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
Cricket News

IPL Chair Issues ‘Football’ Culture As Biggest Threat To Cricket’s Future

Vikram Desai · · 1 min read

کرکٹ کا بدلتا منظرنامہ: کیا فٹ بال جیسا ماڈل کرکٹ کو ختم کر دے گا؟

کرکٹ کی دنیا میں اس وقت ایک بڑی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا یہ کھیل اپنے روایتی ڈھانچے سے نکل کر فٹ بال کی طرح کلب پر مبنی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل نے حال ہی میں کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے ایک سنجیدہ انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر فرنچائز لیگز کی بے تحاشہ ترقی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو کرکٹ کا مستقبل ‘فٹ بال’ جیسی ثقافت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

فرنچائز کرکٹ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

فٹ بال کی دنیا میں، پریمیئر لیگ اور چیمپئنز لیگ جیسے کلب مقابلے بین الاقوامی میچوں سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ کھلاڑیوں کی اکثریت اپنا زیادہ تر وقت کلبوں کے لیے کھیلنے میں گزارتی ہے، اور کلبوں کی شان و شوکت اکثر قومی ٹیم کی ذمہ داریوں پر فوقیت لے جاتی ہے۔ کرکٹ بھی اب اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتی ہے۔

آئی پی ایل، ایس اے 20، میجر لیگ کرکٹ اور دی ہنڈریڈ جیسے ٹورنامنٹس نے کرکٹ کو سال بھر چلنے والے ایک مصروف سرکٹ میں بدل دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی کھلاڑی، خاص طور پر چھوٹی ٹیموں سے تعلق رکھنے والے، بین الاقوامی کرکٹ سے جلد ریٹائرمنٹ لے کر ٹی 20 فری لانسر بننے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ارون دھومل کا موقف: ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل

ارون دھومل نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے آج بھی شائقین میں بہت محبت موجود ہے، لیکن اس کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے: “ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیسٹ کرکٹ کا بہترین استعمال کیسے کیا جائے۔”

دھومل کے مطابق، مالیاتی پہلو سب سے اہم ہے۔ نشریاتی ادارے (Broadcasters) کرکٹ کے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ کون سے مقابلے مالی طور پر فائدہ مند ہیں۔ بھارت کے ساتھ سیریز ہر ملک کی ضرورت ہے، لیکن بھارت کے لیے ہر وقت تمام ٹیموں کے ساتھ دو طرفہ سیریز کھیلنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں نئی لیگز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

کیا ٹیسٹ کرکٹ واقعی خطرے میں ہے؟

ٹیسٹ کرکٹ کا فارمیٹ، جو کئی دنوں تک جاری رہتا ہے، فرنچائز لیگز کے مقابلے میں مالی طور پر کم منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔ فٹ بال کے ماڈل میں، بین الاقوامی میچوں کی حیثیت ثانوی ہو چکی ہے، اور یہی خطرہ ٹیسٹ کرکٹ کو بھی لاحق ہے۔ اگر بڑے کرکٹرز فرنچائز معاہدوں کو قومی ڈیوٹی پر ترجیح دینا شروع کر دیں گے، تو کرکٹ بورڈز کے پاس ٹیسٹ میچوں کی تعداد کم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

  • آئی پی ایل کا اثر: کھلاڑیوں کو دو ماہ کے کام کے بدلے کروڑوں روپے کی آمدنی ملتی ہے۔
  • ٹیسٹ کرکٹ کی بقا: صرف چند امیر بورڈز ہی طویل فارمیٹ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کی سکت رکھتے ہیں۔
  • شائقین کی دلچسپی: فرنچائز کرکٹ کی تیز رفتار نوعیت اور گلیمر شائقین کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔

کرکٹ کا مستقبل: ایک متوازن راستہ

کرکٹ شاید مکمل طور پر فٹ بال کا عکس نہ بنے، کیونکہ آئی سی سی ورلڈ کپ اور ٹیسٹ چیمپئن شپ جیسے ایونٹس آج بھی کرکٹ کی اصل پہچان ہیں۔ تاہم، طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ مستقبل میں یہ امکان ہے کہ فرنچائز کرکٹ آمدنی اور کھلاڑیوں کے ورک لوڈ پر حاوی رہے گی، جبکہ بین الاقوامی کرکٹ صرف بڑے ایونٹس اور چند اہم ٹیسٹ سیریز تک محدود ہو جائے گی۔

ارون دھومل کا یہ انتباہ محض ایک پیش گوئی نہیں بلکہ منتظمین کے لیے ایک جاگنے کا پیغام ہے کہ کرکٹ کی دنیا کو بدلتی ہوئی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، ورنہ کھیل کا روایتی حسن وقت کی گرد میں کھو جائے گا۔

Avatar photo
Vikram Desai

Vikram Desai provides tactical IPL analysis, team strategy breakdowns, and performance reviews after every major fixture.