Rajasthan Royals Expose Sam Curran’s Blatant Lie; BCCI To Take Action? – راجستھان رائلز کا انکشاف: سیم کرن کا آئی پی ایل 2026 سے فرار اور دہرا معیار
راجستھان رائلز بمقابلہ سیم کرن: ایک سنگین تنازعہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے کوالیفائر 2 میں گجرات ٹائٹنز کے ہاتھوں راجستھان رائلز (RR) کی شکست نے نہ صرف ان کی فائنل تک پہنچنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا بلکہ ٹیم کے اندرونی معاملات کو بھی عوامی کر دیا۔ میچ کے بعد راجستھان رائلز کی انتظامیہ نے انگلش آل راؤنڈر سیم کرن کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ‘دوہرے معیار’ کو بے نقاب کر دیا۔
میچ کا پس منظر
راجستھان رائلز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویبھو سوریہ ونشی کی شاندار 96 رنز کی اننگز کی بدولت 214 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کیا۔ تاہم، گجرات ٹائٹنز کے اوپنرز شبمن گل اور سائی سدرشن نے 167 رنز کی طویل شراکت داری قائم کر کے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ گجرات نے یہ ہدف 18.4 اوورز میں صرف تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
سیم کرن کا جھوٹ اور سنگاکارا کا انکشاف
راجستھان رائلز کے ہیڈ کوچ کمار سنگاکارا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سیم کرن کے معاملے پر کھل کر بات کی۔ کرن، جنہیں ٹیم نے سنجو سیمسن کے بدلے ٹریڈ کیا تھا، آئی پی ایل 2026 سے یہ کہہ کر دستبردار ہو گئے تھے کہ انہیں گرون (groin) کی انجری کا مسئلہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے تھے۔
کمار سنگاکارا نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ‘ہمیں بتایا گیا تھا کہ سیم کرن انجری کا شکار ہیں جو سیزن کے باقی میچوں سے انہیں باہر رکھے گی۔ لیکن میں نے انہیں سرے (Surrey) کے لیے کچھ میچ کھیلتے ہوئے دیکھا۔ یہ انتہائی مایوس کن ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہماری ٹیم کے لیے دستیاب ہوں۔’
ٹی 20 بلاسٹ میں سیم کرن کی واپسی
حقیقت یہ ہے کہ سیم کرن نے سرے کی جانب سے ٹی 20 بلاسٹ میں حصہ لیا ہے، جو کہ آئی پی ایل 2026 کے اہم مراحل کے دوران منعقد ہو رہا تھا۔ کرن، جو فی الحال اپنی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، صرف ایک بلے باز کے طور پر میدان میں اتر رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک تین میچوں میں 70.50 کی اوسط اور 143.88 کے اسٹرائیک ریٹ سے 141 رنز بنائے ہیں۔
راجستھان رائلز کی کمزوری
آئی پی ایل 2026 کے دوران راجستھان رائلز کا انحصار اپنے ٹاپ آرڈر پر رہا۔ ویبھو سوریہ ونشی، یشسوی جیسوال اور دھرو جریل کی ناکامی کی صورت میں ٹیم کے پاس مڈل آرڈر میں کوئی مستحکم کھلاڑی موجود نہیں تھا۔ شمرون ہیٹمائر، داسن شناکا اور شبمن دوبے کو آزمایا گیا مگر وہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے۔ سیم کرن جیسے آل راؤنڈر کی کمی ٹیم کو ہر شعبے میں محسوس ہوئی، خاص طور پر گیند بازی میں جہاں جوفرا آرچر کو کسی دوسرے تجربہ کار کھلاڑی کا ساتھ درکار تھا۔
کیا بی سی سی آئی کارروائی کرے گی؟
کرکٹ حلقوں میں اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بی سی سی آئی (BCCI) اس معاملے پر سیم کرن کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرے گی؟ اگرچہ بورڈ نے ان غیر ملکی کھلاڑیوں کے خلاف سخت قوانین بنائے ہیں جو آئی پی ایل سیزن سے عین قبل دستبردار ہو جاتے ہیں، لیکن کرن کا کیس ‘گرے زون’ میں آتا ہے۔ ان کی ٹیم آسانی سے یہ موقف اختیار کر سکتی ہے کہ ان کی ریکوری ٹی 20 بلاسٹ سے قبل تیز ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ، فی الحال وہ صرف بطور بلے باز کھیل رہے ہیں، جو ان کی انجری کے دعوے کو تکنیکی طور پر محفوظ رکھ سکتا ہے۔
بہرحال، یہ واقعہ آئی پی ایل فرنچائزز اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے درمیان اعتماد کے رشتے پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ راجستھان رائلز اب اپنی اگلی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے، جبکہ سیم کرن کا یہ رویہ آنے والے نیلامی کے عمل میں ان کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔
