آئی پی ایل میں ویپنگ کا تنازع: ریان پاراگ اور ایرون فنچ کی کہانی
آئی پی ایل میں ‘ویپنگ’ کا تنازع: ریان پاراگ اور ماضی کی ایک یاد دہانی
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) صرف اپنی شاندار کرکٹ اور کروڑوں ڈالرز کی بولی کے لیے ہی نہیں، بلکہ کبھی کبھار کھلاڑیوں کی غیر پیشہ ورانہ حرکات کی وجہ سے بھی خبروں کی شہ سرخیوں میں رہتا ہے۔ حال ہی میں آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے دوران راجستھان رائلز کے کپتان ریان پاراگ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ میچ کے دوران ‘ویپنگ’ کرتے نظر آئے، جس نے کرکٹ کے مداحوں اور انتظامیہ کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اگرچہ اس وقت تمام توجہ ریان پاراگ پر مرکوز ہے، لیکن اگر ہم تاریخ کے صفحات پلٹیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی کھلاڑی نے اس طرح کی حرکت کی ہو۔ اکتوبر 2020 میں، آئی پی ایل کے ایک اور مشہور کھلاڑی ایرون فنچ بھی بالکل اسی طرح کی صورتحال میں پھنسے تھے، جس نے اس وقت سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا۔
ایرون فنچ اور 2020 کا وہ واقعہ
آئی پی ایل 2020 کے سیزن کے دوران، جو کہ کووڈ-19 کی وجہ سے متحدہ عرب امارات (UAE) میں کھیلا گیا تھا، رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کے اوپنر ایرون فنچ کیمرے کی نظر سے نہیں بچ سکے۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹیم کے ڈریسنگ روم میں فنچ کو ‘ویپنگ’ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ منظر اس وقت سامنے آیا جب میچ نمبر 33 اپنے آخری مراحل میں تھا۔ آر سی بی کی اننگز کے آخری اوور میں ٹیم کو جیت کے لیے پانچ گیندوں پر صرف آٹھ رنز درکار تھے۔ کیمرہ جب لائیو ایکشن کی طرف مڑنے والا تھا، تب تک فنچ دھواں چھوڑتے اور ایک اور کش لیتے ہوئے واضح طور پر نظر آ چکے تھے۔
اس میچ میں ایرون فنچ نے 11 گیندوں پر صرف 14 رنز بنائے تھے، تاہم آر سی بی نے اے بی ڈی ویلیئرز کی شاندار نصف سنچری (22 گیندوں پر 55 رنز) کی بدولت یہ میچ راجستھان رائلز کے خلاف سات وکٹوں اور دو گیندوں کے فرق سے جیت لیا تھا۔
ریان پاراگ کا حالیہ واقعہ اور قانونی پیچیدگیاں
اب بات کرتے ہیں موجودہ سیزن کی، جہاں راجستھان رائلز کے کپتان ریان پاراگ پنجاب کنگز کے خلاف میچ کے دوران اسی طرح کی حرکت کرتے پائے گئے۔ نیو چندی گڑھ کے ملن پور اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں راجستھان رائلز کو جیت کے لیے 223 رنز کا ہدف ملا تھا۔ ریان پاراگ نے 16 گیندوں پر 29 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، لیکن آؤٹ ہونے کے بعد وہ ڈریسنگ روم میں ویپنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے۔
ریان پاراگ کے اس عمل پر ہندوستانی مداحوں نے شدید تنقید کی ہے۔ اس تنقید کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت حکومت نے ملک میں ای-سگریٹ (e-cigarettes) پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاراگ کا یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ قانونی طور پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
یہاں ایرون فنچ اور ریان پاراگ کے کیس میں ایک بڑا فرق ہے۔ جب 2020 میں فنچ ویپنگ کر رہے تھے، تو وہ متحدہ عرب امارات میں تھے، جہاں اس وقت اس طرح کی کوئی سخت پابندی موجود نہیں تھی جس نے اس واقعے کو قانونی شکل دی ہوتی۔ لیکن پاراگ کا واقعہ بھارت کی سرزمین پر ہوا ہے، جس نے اسے زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔
بی سی سی آئی (BCCI) کا ردعمل اور ممکنہ کارروائی
ریان پاراگ کے اس واقعے کے بعد بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) نے خاموشی توڑ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بورڈ نے راجستھان رائلز کے کپتان کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔ بی سی سی آئی کے ایک سینئر اہلکار نے انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بورڈ اس غیر قانونی عمل پر تفصیلی وضاحت طلب کرے گا۔
- وضاحت کی طلب: بی سی سی آئی ریان پاراگ سے پوچھتا ہے کہ انہوں نے پابندی کے باوجود ویپنگ کیوں کی؟
- ڈسپلنری ایکشن: اہلکار کے مطابق، “ویپنگ کی اجازت نہیں ہے، اور ریان کی وضاحت کی بنیاد پر آئی پی ایل انتظامیہ مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔”
نتیجہ: کیا یہ صرف ایک غلطی ہے یا ڈسپلن کی کمی؟
کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کو رول ماڈل مانا جاتا ہے، اور ان کی ہر حرکت پر لاکھوں نوجوانوں کی نظر ہوتی ہے۔ چاہے وہ 2020 میں ایرون فنچ ہوں یا 2026 میں ریان پاراگ، ڈریسنگ روم کے اندر ایسی سرگرمیاں کھلاڑی کے پیشہ ورانہ امیج کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریان پاراگ کا معاملہ بھی ایرون فنچ کے واقعے کی طرح وقت کے ساتھ دھندلا جائے گا، یا پھر بی سی سی آئی اسے ایک سنگین ڈسپلنری مسئلہ قرار دے کر سخت سزا سنائے گا۔ ایک کپتان ہونے کے ناطے پاراگ سے زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے، اور اس وقت تمام نظریں بورڈ کے حتمی فیصلے پر جمی ہوئی ہیں۔
