Aakash Chopra sends “he’s not Indian cricket” warning to selectors over Vaibhav – آکاش چوپڑا کا ویبھو سوریونشی کو قومی ٹیم میں شامل کرنے پر انتباہ
ویبھو سوریونشی: کیا انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے میں جلدی ہے؟
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں راجستھان رائلز کی نمائندگی کرنے والے 15 سالہ بلے باز ویبھو سوریونشی نے اپنی کارکردگی سے کرکٹ دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ نے انہیں ایک رات میں اسٹار بنا دیا ہے، اور اب ہر طرف یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ انہیں فوری طور پر بھارتی قومی ٹیم میں شامل کیا جائے۔ تاہم، سابق بھارتی کرکٹر اور ماہر تجزیہ کار آکاش چوپڑا نے اس جوش و خروش کے برعکس ایک محتاط موقف اختیار کیا ہے۔
آکاش چوپڑا کا دو ٹوک موقف
آکاش چوپڑا کا ماننا ہے کہ اگرچہ ویبھو سوریونشی ایک خاص ٹیلنٹ ہیں، لیکن انہیں بین الاقوامی کرکٹ میں براہ راست شامل کرنے کے بجائے صبر سے کام لینا چاہیے۔ چوپڑا کے مطابق، آئی پی ایل میں ریکارڈ توڑنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موجودہ سیٹلڈ ٹیم کو فوری طور پر تبدیل کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اگلا ورلڈ کپ ہونے میں دو سال کا وقت باقی ہے، لہذا کھلاڑی کی تیاری اور نشوونما کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔
ٹیم کی موجودہ صورتحال
آکاش چوپڑا نے نشاندہی کی کہ بھارتی ٹیم کا موجودہ بیٹنگ لائن اپ پہلے ہی بہت مستحکم ہے۔ ابھیشیک شرما اور سنجو سیمسن جیسے کھلاڑی آئی پی ایل 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چوپڑا نے استفسار کیا کہ جب موجودہ کھلاڑی اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں، تو صرف کسی نئے کھلاڑی کے ابھرنے پر انہیں ٹیم سے باہر نکالنا درست عمل نہیں ہے۔ انہوں نے اسے امتحان میں ٹاپ کرنے والے طالب علم کی مثال سے واضح کیا، جہاں ایک ٹاپر کو محض اس لیے نہیں ہٹایا جا سکتا کہ کوئی دوسرا آنے والا بھی اچھا کر سکتا ہے۔
بھارتی کرکٹ انفرادی کھلاڑیوں سے بڑی ہے
تجزیہ کار نے سلیکٹرز کو متنبہ کیا کہ اگر وہ موجودہ فارم کے بنیاد پر فوری فیصلے کرتے رہے، تو اس سے ویبھو سوریونشی پر مستقبل میں بہت زیادہ دباؤ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز کو وہی کرنا چاہیے جو بھارتی کرکٹ کے طویل مدتی مفاد میں ہو۔ چوپڑا کا کہنا تھا کہ ویبھو سوریونشی بھارتی کرکٹ کا ایک اہم حصہ ہیں، لیکن وہ خود ‘بھارتی کرکٹ’ نہیں ہیں۔ سلیکٹرز کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس نوجوان کھلاڑی کا کیریئر ابھی شروع ہوا ہے اور ان کے پاس آگے بڑھنے کے لیے بہت وقت ہے۔
بی سی سی آئی کا حکمت عملی
بی سی سی آئی بھی اس معاملے میں محتاط دکھائی دیتی ہے۔ نوجوان بلے باز کو سری لنکا کے دورے کے لیے ‘انڈیا اے’ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، تاکہ انہیں بین الاقوامی سطح کے دباؤ کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اگرچہ ٹی 20 انٹرنیشنل میں ان کی شمولیت کے امکانات موجود ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ بورڈ انہیں ایک مکمل کھلاڑی کے طور پر تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
نتیجہ
خلاصہ یہ کہ آکاش چوپڑا کا مشورہ سلیکشن کمیٹی کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ کرکٹ میں ٹیلنٹ کی پہچان ضروری ہے، لیکن اسے وقت پر نکھارنا اور صحیح وقت پر میدان میں اتارنا ہی کامیابی کی کلید ہے۔ ویبھو سوریونشی کے پاس ابھی اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے اور بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھنے کا بھرپور موقع ہے، اور جلد بازی میں انہیں کسی بڑے دباؤ میں لانا ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
