تیمم اقبال کی رہنمائی اور شانتو کی واپسی: بنگلہ دیش کی نیوزی لینڈ پر فتح کی اندرونی کہانی
تیمم اقبال کی قیادت اور بنگلہ دیش کرکٹ کا احیا: ایک نئی شروعات
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کی قیادت سنبھالنے کے بعد تیمم اقبال کا پہلا بڑا امتحان نیوزی لینڈ کے خلاف تین ون ڈے میچوں کی سیریز کی صورت میں سامنے آیا۔ ایک ایسے وقت میں جب ٹیم اندرونی خلفشار اور مشکل حالات سے گزر رہی تھی، تیمم اقبال کی انتظامیہ کے تحت بنگلہ دیش نے نہ صرف میزبان ہونے کا فائدہ اٹھایا بلکہ نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو 2-1 سے شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
نجمول حسین شانتو: تنقید کے سائے سے کامیابی کی بلندی تک
اس سیریز کی سب سے بڑی کہانی ٹیسٹ کپتان نجمول حسین شانتو کی واپسی ہے۔ 2018 میں محض 20 سال کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے شانتو بنگلہ دیش کے لیے تمام فارمیٹس میں ایک اہم ستون رہے ہیں اور ان کے نام ون ڈے میں تقریباً 2000 رنز درج ہیں۔ تاہم، گزشتہ ایک سال سے وہ ایک شدید فارم کی گراوٹ کا شکار تھے۔
نومبر 2024 میں افغانستان کے خلاف 76 رنز بنانے کے بعد شانتو کی بیٹنگ میں وہ جادو نظر نہیں آ رہا تھا۔ سال 2025 کے پہلے 11 اننگز میں ان کی اوسط صرف 19.70 رہی، جو ایک ٹاپ آرڈر بلے باز کے لیے انتہائی تشویشناک تھی۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب وہ مسلسل 13 میچوں تک کوئی نصف سنچری بنانے میں ناکام رہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کا آغاز بھی ان کے لیے مایوس کن رہا جب وہ پہلی اننگز میں ‘گولڈن ڈک’ (پہلی ہی گیند پر آؤٹ) کا شکار ہوئے، جس نے ان کی جگہ پر سوالات کھڑے کر دیے۔
کامیابی کا موڑ: شانتو کا دھماکہ خیز جواب
جب سیریز کا فیصلہ ہونا تھا، تو شانتو نے ثابت کیا کہ وہ اب بھی ٹیم کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دوسرے ون ڈے میں 71 گیندوں پر ناقابل شکست 50 رنز بنا کر 199 رنز کے ہدف کو آسانی سے حاصل کرنے میں مدد کی۔ اس اعتماد کو انہوں نے فیصلہ کن میچ میں ایک شاندار سینچری (119 گیندوں پر 105 رنز) میں بدل دیا، جس نے نہ صرف بنگلہ دیش کو سیریز جتوائی بلکہ ناقدین کے منہ بھی بند کر دیے۔
اگرچہ اس سیریز میں ان کے نام ایک زیرو بھی رہا، لیکن مجموعی طور پر 3 اننگز میں 155 رنز بنا کر وہ سیریز کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ثابت ہوئے۔
تیمم اقبال کا مینٹور رول: ایک خاص شاٹ کی کہانی
اپنی اس واپسی کا سہرا شانتو نے بی سی بی صدر اور سابق کپتان تیمم اقبال کے سر باندھا ہے۔ ‘دی ڈیلی اسٹار’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شانتو نے انکشاف کیا کہ تیمم اقبال نے ان کے ساتھ انفرادی سیشنز کیے تاکہ ان کی تکنیکی غلطیوں کو دور کیا جا سکے۔
شانتو نے بتایا: “BPL سے پہلے، میں ایک خاص شاٹ پر کام کر رہا تھا۔ مجھے لگا کہ اس معاملے میں مشورے کے لیے تیمم بھائی سے بہتر کوئی شخص نہیں ہو سکتا کیونکہ انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں اس شاٹ کو بہت کامیابی سے کھیلا ہے۔ میں ان کے عملی تجربے سے سیکھنا چاہتا تھا کہ وہ اس شاٹ کو کس طرح Execute کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: “میں نے انہیں مدعو کیا، اور انہوں نے بہت خوبصورتی سے مجھے پورا عمل سمجھایا۔ انہوں نے دو دن انڈور نیٹ پر میرے ساتھ گزارے اور بہت فراخ دلی سے اپنا وقت دیا۔ مجھے اس سے بہت فائدہ ہوا اور میں اب بھی اس پر کام کر رہا ہوں۔”
مستقبل کے اہداف اور پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز
سیریز میں نمبر 4 پر بیٹنگ کرتے ہوئے شانتو نے شاندار کارکردگی دکھائی، لیکن انہوں نے اپنی خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ دوبارہ نمبر 3 پر واپس آنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ فیصلہ تیمم اقبال کی انتظامیہ اور کپتان مہیدی حسن মিراز پر چھوڑ دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی کامیابیوں کا سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ون ڈے کے بعد ٹیم نے چٹگانگ میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کے بعد سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔ اب تمام نظریں پاکستان کے خلاف ہونے والی دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز پر ہیں، جہاں بنگلہ دیش اپنی سابقہ کامیابی کو دہرانا چاہے گا۔ یاد رہے کہ آخری بار جب یہ دونوں ٹیمیں پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیل رہی تھیں، تو بنگلہ دیش نے 2-0 سے فتح حاصل کی تھی۔ اب ٹیم کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ دنیا کو ثابت کرے کہ وہ جیت اتفاقی نہیں تھی بلکہ ان کی محنت اور بہتر حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔
تیمم اقبال کی قیادت میں بنگلہ دیش کرکٹ ایک نئے عروج کی طرف گامزن ہے، جہاں تجربہ اور نوجوان ٹیلنٹ مل کر ملک کا نام روشن کرنے کے لیے تیار ہیں۔
