Why Rajat Patidar Is Still Not Ready For A Place In India’s T20I Setup? – کیا رجت پاٹیدار واقعی بھارتی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ کے حقدار ہیں؟
رجت پاٹیدار: آئی پی ایل کا نیا اسٹار اور بین الاقوامی کرکٹ کا چیلنج
آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے بعد، رجت پاٹیدار بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث نام بن کر ابھرے ہیں۔ رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے کپتان کے طور پر، انہوں نے نہ صرف ٹیم کو فائنل تک پہنچایا بلکہ اپنی بے خوف بلے بازی اور جارحانہ انداز سے شائقینِ کرکٹ کے دل بھی جیت لیے۔ ان کا سب سے یادگار لمحہ گجرات ٹائٹنز کے خلاف کوالیفائر 1 میں آیا، جہاں انہوں نے دھرم شالہ کے میدان پر صرف 33 گیندوں پر ناقابل شکست 93 رنز بنا کر سب کو حیران کر دیا۔
آئی پی ایل 2026 میں شاندار کارکردگی
رجت پاٹیدار کے اعدادوشمار ان کی کامیابی کی گواہی دیتے ہیں۔ 2026 کے آئی پی ایل سیزن میں، انہوں نے 13 اننگز میں 44.18 کی اوسط اور 196.76 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 486 رنز بنائے۔ مجموعی طور پر اپنے آئی پی ایل کیریئر میں، انہوں نے 56 میچوں میں 1597 رنز بنائے ہیں، جس میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 165.14 رہا ہے۔ یہ کارکردگی یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن کیا یہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے کافی ہے؟
بین الاقوامی کرکٹ: ایک الگ امتحان
اگرچہ آئی پی ایل میں پاٹیدار کا فارم لاجواب رہا ہے، لیکن بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ آئی پی ایل میں کھلاڑی اکثر اپنی مقامی کنڈیشنز سے واقف ہوتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر ٹیموں کو دنیا بھر کے مختلف پچز اور کنڈیشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بھارتی ٹیم میں نمبر 3 اور 4 پر شدید مقابلہ
بھارتی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے موجودہ اسکواڈ کو دیکھیں تو نمبر 3 اور 4 کی پوزیشنز پر پہلے ہی بہت سے ٹیلنٹڈ کھلاڑی موجود ہیں۔ سلیکٹرز کے لیے موجودہ کھلاڑیوں کو ہٹا کر پاٹیدار کو شامل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ ٹیم کا توازن برقرار رکھنا اولین ترجیح ہوتی ہے۔
اسپن اور تیز گیند بازوں کے خلاف تکنیک
ایک اور اہم پہلو جو ماہرین کی نظروں میں ہے، وہ پاٹیدار کی اسپن اور تیز گیند بازوں کے خلاف مستقل مزاجی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر باؤلرز کی لائن اور لینتھ آئی پی ایل کے مقابلے میں کہیں زیادہ درست ہوتی ہے۔ پاٹیدار کو اپنی تکنیک کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی معیار کے باؤلرز کے خلاف بھی اسی طرح رنز بنا سکیں۔
نتیجہ
مختصراً یہ کہ رجت پاٹیدار بلاشبہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں، لیکن بھارتی ٹی ٹوئنٹی سیٹ اپ میں جگہ بنانا صرف آئی پی ایل کی ایک سیزن کی فارم پر منحصر نہیں ہوتا۔ انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی مستقل مزاجی کو ثابت کرنا ہوگا اور بین الاقوامی سطح کے پریشر کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ تب تک، شائقین کو ان کی مزید پختگی کا انتظار کرنا ہوگا۔
