Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
Latest Cricket News

Glenn Phillips blasts ‘silly’ question during heated press conference after GT’s – IPL 2026: گیلن فلپس پریس کانفرنس میں بھڑک اٹھے، ‘احمقانہ’ سوال پر جواب دے دیا

Sana Iqbal · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: دھرم شالہ میں گیلن فلپس کا غصہ

آئی پی ایل 2026 کے پہلے کوالیفائر میچ میں گجرات ٹائٹنز (GT) اور رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے درمیان ہونے والا مقابلہ میدان کے اندر تو ایک طرفہ ثابت ہوا، لیکن میدان سے باہر پریس کانفرنس میں گیلن فلپس کا ردعمل اس سے کہیں زیادہ ڈرامائی رہا۔ آر سی بی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 254 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کیا، جس کے جواب میں گجرات ٹائٹنز کی ٹیم صرف 162 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

احمقانہ سوال اور فلپس کا ردعمل

شکست کے بعد پریس کانفرنس میں جب گیلن فلپس میڈیا کے سامنے آئے تو ایک صحافی نے ان سے یہ سوال پوچھ لیا کہ کیا ٹیم نے 254 رنز کا ہدف دیکھ کر میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار مان لی تھی۔ یہ سوال سنتے ہی فلپس کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے اسے ‘احمقانہ’ اور ‘بہت ہی برا سوال’ قرار دیا۔

فلپس نے کہا، ‘یہ ایک احمقانہ سوال ہے۔ کوئی بھی کھلاڑی میدان میں ہار ماننے کے لیے نہیں اترتا۔ ہم پیشہ ور کرکٹرز ہیں، ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔ جب آپ 250 رنز کا تعاقب کر رہے ہوں تو ہر چیز کا درست ہونا ضروری ہوتا ہے، اور ایسا نہیں ہو سکا۔’

اسکور بورڈ کا دباؤ

گیلن فلپس نے اعتراف کیا کہ اتنے بڑے ہدف کا پیچھا کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے ناممکن کے قریب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘اسکور بورڈ کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بہت کم ٹیمیں ایسا کر پاتی ہیں۔ پنجاب کنگز نے ماضی میں ایسا کیا ہے، جس سے یہ کام آسان لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ بہت مشکل ہے۔ میں ابھی تک ایسی کسی ٹیم کا حصہ نہیں رہا جس نے 250 رنز کا ہدف حاصل کیا ہو، لہذا کبھی کبھی حالات ایسے ہی ہوتے ہیں۔’

کپتان کی غیر موجودگی پر وضاحت

ایک اور عجیب لمحہ تب آیا جب صحافیوں نے یہ سوال اٹھایا کہ شکست کے بعد شبمن گل یا آشیش نہرا کے بجائے گیلن فلپس کیوں آئے، جبکہ وہ پلیئنگ الیون کا حصہ بھی نہیں تھے۔ فلپس نے اسے بھی تحمل سے سنبھالا اور کہا کہ ٹیم کا ہر رکن مشکل لمحات میں ذمہ داری بانٹنے کا پابند ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘ہم سب ٹیم کا حصہ ہیں اور میڈیا کے سامنے آنے کی ذمہ داری سب کی ہے۔ کبھی کبھی جو کھلاڑی نہیں کھیل رہے ہوتے، وہ باہر سے بہتر مشاہدہ کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے لیے جو اب ایلیمینیٹر میچ میں حصہ لینے والے ہیں۔ ان کا ذہنی طور پر تیار ہونا بہت ضروری ہے۔’

نتیجہ

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آئی پی ایل جیسے ہائی پروفائل ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں پر کتنا زیادہ ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔ جہاں شائقین اور صحافی سخت سوالات پوچھنے کے حقدار ہیں، وہیں کھلاڑیوں کی طرف سے بھی اپنے دفاع میں جذباتی ردعمل آنا کھیل کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ گجرات ٹائٹنز کے لیے اب اگلا راستہ ایلیمینیٹر میں اپنی ساکھ بچانے کا ہے، جہاں انہیں اپنی غلطیوں سے سیکھ کر میدان میں اترنا ہوگا۔

Avatar photo
Sana Iqbal

Sana Iqbal focuses on player journeys, biographies, and in-depth profiles of emerging and established cricket stars.