آئی پی ایل 2026: ویبھو سوریابانشی کی شاندار کارکردگی پر یوزویندر چاہل کا دلچسپ تبصرہ
آئی پی ایل 2026: ویبھو سوریابانشی کا ابھرتا ہوا ستارہ
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں اگر کسی ایک کھلاڑی نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے تو وہ راجستھان رائلز کے 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریابانشی ہیں۔ بہار سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کھلاڑی نے اپنی بے خوف بیٹنگ اور میچور کارکردگی سے نہ صرف شائقین کرکٹ بلکہ ماہرین کو بھی دنگ کر دیا ہے۔
ویبھو کی مستقل مزاجی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اب تک ٹورنامنٹ کے 13 میچوں میں 579 رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 236.32 ہے، جو کہ کسی بھی نوجوان کھلاڑی کے لیے ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔ انہوں نے ایک شاندار سنچری اور تین نصف سنچریاں بنائی ہیں، جبکہ ان کا سب سے زیادہ اسکور 103 رنز رہا ہے۔
یوزویندر چاہل کا متنازعہ مگر مزاحیہ تبصرہ
ممبئی انڈینز اور راجستھان رائلز کے اہم میچ سے قبل یوزویندر چاہل نے ایک ایسا بیان دیا جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ پنجاب کنگز کی پلے آف میں پہنچنے کی امیدیں اسی میچ کے نتیجے پر منحصر تھیں۔ چاہل نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ راجستھان رائلز ہار جائے اور روہت شرما ڈبل سنچری اسکور کریں، جبکہ ویبھو سوریابانشی کو گولڈن ڈک پر آؤٹ ہونا چاہیے۔
چاہل نے کہا: ‘ہم لکھنؤ میں ہی ہوں گے۔ امید ہے کہ راجستھان کل ہار جائے گی اور روہت شرما 200 رنز بنائیں گے، کیونکہ اسے کافی عرصہ ہو چکا ہے۔’ اگرچہ یہ بات ایک مزاحیہ انداز میں کی گئی تھی، لیکن اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ویبھو سوریابانشی مخالف ٹیموں کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔
پنجاب کنگز کی پلے آف دوڑ میں واپسی
دوسری جانب، پنجاب کنگز نے لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف سات وکٹوں سے شاندار جیت حاصل کر کے اپنی پلے آف کی امیدوں کو زندہ رکھا ہے۔ 197 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کپتان شریاس آئیر نے 51 گیندوں پر ناقابل شکست 101 رنز کی اننگز کھیلی۔ پربھسمرن سنگھ کے ساتھ ان کی 140 رنز کی شراکت داری میچ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔
پنجاب کنگز کے لیے یہ جیت بہت اہم تھی کیونکہ ابتدائی سات میچوں میں چھ فتوحات کے بعد انہیں مسلسل چھ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ چاہل کے مطابق، اس مشکل وقت میں ٹیم کے اندر اتحاد برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ڈریسنگ روم کا ماحول مثبت رہا اور کھلاڑیوں نے منفی سوچ کے بجائے اپنی خامیوں پر کام کرنے کو ترجیح دی۔
ایک روشن مستقبل
ویبھو سوریابانشی کا عروج ایک پریوں کی کہانی جیسا محسوس ہوتا ہے۔ اس عمر میں جب زیادہ تر نوجوان اسکول کرکٹ تک محدود ہوتے ہیں، ویبھو دنیا کے بہترین بولرز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ کامیابی اپنے ساتھ دباؤ اور حسد لے کر آتی ہے، لیکن ویبھو کی کارکردگی یہ بتاتی ہے کہ وہ طویل عرصے تک کرکٹ کی دنیا میں اپنا نام روشن کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ویبھو سوریابانشی صرف راجستھان رائلز کے لیے نہیں بلکہ آنے والے وقت میں کرکٹ کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیا یہ نوجوان کھلاڑی اپنی فارم کو برقرار رکھ پائے گا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال وہ ہر مخالف ٹیم کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
