Vikram Solanki blames Ashish Nehra for costly Nishant Sindhu mistake in IPL 2026
آئی پی ایل 2026 فائنل: ایک متنازع فیصلہ جس نے گجرات ٹائٹنز کی امیدیں توڑ دیں
آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے ہاتھوں گجرات ٹائٹنز (GT) کی شکست کے بعد کرکٹ کی دنیا میں بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس شکست کے بعد سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والا معاملہ نیشانت سندھو کو نمبر تین پر بیٹنگ کے لیے بھیجنا تھا۔ اب گجرات ٹائٹنز کے ڈائریکٹر آف کرکٹ وکرم سولنکی نے اس معاملے پر کھل کر بات کی ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ Vikram Solanki blames Ashish Nehra for costly Nishant Sindhu mistake in IPL 2026 کا فیصلہ دراصل ہیڈ کوچ آشیش نہرا کا تھا۔
میچ کا اہم موڑ اور حکمت عملی
نریندر مودی اسٹیڈیم، احمد آباد میں کھیلے گئے اس ہائی پروفائل میچ میں گجرات ٹائٹنز نے جب کپتان شبھمن گل کی وکٹ 10 رنز پر گنوائی، تو شائقین اور ماہرین کو توقع تھی کہ دنیا کے بہترین وائٹ بال بیٹرز میں سے ایک، جوس بٹلر کریز پر آئیں گے۔ تاہم، ٹیم انتظامیہ نے غیر متوقع طور پر نوجوان کھلاڑی نیشانت سندھو کو میدان میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
سندھو نے 18 گیندوں پر 20 رنز بنائے، جس میں تین چوکے شامل تھے، لیکن وہ اننگز کو بڑی اننگز میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ آٹھویں اوور میں راسخ سلام کی گیند پر جب وہ آؤٹ ہوئے تو گجرات ٹائٹنز کا اسکور محض 55 رنز پر 3 وکٹ ہو چکا تھا، جس سے ٹیم شدید دباؤ میں آگئی۔
ماہرین کی جانب سے تنقید
سابق جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈیویلیئرز نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے براڈکاسٹ کے دوران اسے ‘دفاعی’ اور غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوس بٹلر جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو ایسے دباؤ والے میچ میں ڈگ آؤٹ میں بٹھانا ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔
وکرم سولنکی کا مؤقف
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں جب وکرم سولنکی سے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ذمہ داری ہیڈ کوچ آشیش نہرا پر ڈال دی۔ انہوں نے کہا: ‘ہم نے اس پر کوئی تفصیلی بحث نہیں کی تھی، لیکن آشیش اکثر ایسے فیصلے لیتے ہیں۔ نیشانت سندھو کو نمبر تین پر بھیجنا ایک ججمنٹ کال تھی جو آشیش نے لی تھی۔’
جوس بٹلر، جنہیں بعد میں بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا، صرف 19 رنز ہی بنا سکے۔ آخرکار گجرات ٹائٹنز کی پوری ٹیم 155/8 کے مجموعی اسکور پر محدود رہی۔
شکست کے باوجود حوصلہ بلند
اگرچہ گجرات ٹائٹنز کا سفر فائنل میں ختم ہوا، لیکن وکرم سولنکی نے آر سی بی کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا: ‘ہمیں اپنے گروپ پر فخر ہے کہ ہم نے یہاں تک کا سفر طے کیا۔ ہم نے اس میچ میں شاید 20 سے 25 رنز کم بنائے، لیکن کھلاڑیوں کی لڑنے کی صلاحیت اور بھوک دیکھ کر خوشی ہوئی۔’
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کرکٹ کے بڑے مقابلوں میں حکمت عملی کے چھوٹے سے فیصلے کس طرح پورے میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ گجرات ٹائٹنز کے لیے یہ آئی پی ایل سیزن ایک یادگار لیکن تلخ تجربے کے ساتھ ختم ہوا، جہاں کوچنگ اسٹاف کے فیصلوں پر اب طویل عرصے تک سوالات اٹھائے جاتے رہیں گے۔
