کرکٹ کینیڈا کے لیے ایک اور مشکل مرحلہ
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کینیڈا کی فنڈنگ کو فوری طور پر منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام بورڈ کے اندر جاری گورننس سے متعلق مسائل اور مالیاتی نگرانی میں کمی کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ آئی سی سی نے کرکٹ کینیڈا کو مطلع کیا ہے کہ یہ پابندی اگلے چھ ماہ تک برقرار رہے گی۔
فنڈنگ میں کمی کے اثرات
اگرچہ آئی سی سی کے تمام رکن ممالک کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، لیکن کینیڈا جیسے ایسوسی ایٹ ممبران کے لیے یہ فنڈز ان کی کرکٹ سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم، اچھی خبر یہ ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں روزمرہ کی کرکٹ سرگرمیوں یا ہائی پرفارمنس پروگراموں پر فوری اثر نہیں پڑے گا۔
اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات کا دائرہ
یہ فنڈنگ منجمد ہونے سے پہلے ہی کینیڈا کی ٹیم اور کچھ کھلاڑی آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) کی سخت نگرانی میں تھے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کینیڈا کی شکست پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، سابق کوچ خرم چوہان کے الزامات، جن میں کہا گیا کہ سینئر بورڈ ممبران نے ٹیم کے انتخاب میں مداخلت کی، بورڈ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سابق کوچ پبودو داسانائیکے نے بھی 2024 میں اسی طرح کے سنگین الزامات لگائے تھے۔
‘دی ففتھ اسٹیٹ’ کا دستاویزی انکشاف
کینیڈا کرکٹ میں گورننس کے مسائل کا بھانڈا تب پھوٹا جب کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (CBC) کے پروگرام ‘دی ففتھ اسٹیٹ’ نے ایک تحقیقاتی دستاویزی فلم نشر کی۔ اس پروگرام نے آئی سی سی کی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں اور بورڈ کے اندر مالیاتی شفافیت کے فقدان کو بے نقاب کیا۔ اس دستاویزی فلم میں خرم چوہان کی وہ آڈیو ریکارڈنگز بھی شامل تھیں جن میں انہوں نے بورڈ کے غیر قانونی دباؤ کا ذکر کیا تھا۔
قیادت کا بحران
کرکٹ کینیڈا کی قیادت حالیہ عرصے میں تقرریوں اور برطرفیوں کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔ سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری کے بعد ان کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کا انکشاف ہونے پر آئی سی سی نے بورڈ سے وضاحت طلب کی تھی۔ اپریل میں اروندر کھوسہ کو عبوری صدر مقرر کیا گیا اور گزشتہ ہفتے ہونے والے سالانہ اجلاس میں انہیں باقاعدہ صدر منتخب کر لیا گیا۔
آگے کا راستہ
بورڈ کے میڈیا مینیجر جمی شرما نے ‘دی ففتھ اسٹیٹ’ کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بورڈ کو وراثت میں یہ مسائل ملے ہیں اور وہ گورننس، تعمیل اور مالیاتی کنٹرول کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اور انٹیگریٹی یونٹ کے عبوری جنرل منیجر اینڈریو ایفگریو نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے عمل کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کرکٹ کینیڈا کے لیے آنے والے چھ ماہ اپنی ساکھ بحال کرنے اور مالی نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوں گے۔
