Where Every Shot Blasts Beyond Boundaries”
News

‘My goal was to do something special’ – Ferdous after match-winning fifty agains – بنگلہ دیش کی شاندار جیت

Aryan Desai · · 1 min read

بنگلہ دیش کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں فاتحانہ آغاز

بنگلہ دیش کی نوجوان اور باصلاحیت کرکٹر جویریہ فردوس نے صرف پانچ ماہ قبل اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تھا، لیکن نیدرلینڈز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں انہوں نے جس پختگی اور بے خوفی کا ظاہر کیا، اس نے سب کو حیران کر دیا۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘My goal was to do something special’ – Ferdous after match-winning fifty agains نیدرلینڈز۔ ان کی اس جرات مندانہ اور دلکش اننگز کی بدولت بنگلہ دیش نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیدرلینڈز کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں شاندار آغاز کیا ہے۔

ایک مشکل ہدف اور نوجوان فردوس کی جرات مندانہ اننگز

نیدرلینڈز کی ٹیم، جو پہلی بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کر رہی ہے، نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بابیٹ ڈی لیڈے کی شاندار نصف سنچری کی مدد سے مقررہ اوورز میں 140 رنز کا ایک مسابقتی ہدف بورڈ پر سجایا۔ بنگلہ دیش کے لیے یہ ہدف آسان نہیں تھا، خاص طور پر اس وقت جب ٹیم نے 140 رنز کے تعاقب میں صرف 85 رنز پر اپنی 4 اہم وکٹیں گنوا دیں۔ لیکن 20 سالہ جویریہ فردوس نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور ٹیم کو بحران سے نکالا۔

اپنے ورلڈ کپ ڈیبیو پر بات کرتے ہوئے فردوس نے کہا: “چونکہ یہ ٹورنامنٹ کا میرا پہلا میچ تھا اور میرا پہلا ورلڈ کپ میچ بھی تھا، اس لیے میرا مقصد کچھ خاص کرنا اور ٹیم کی فتح میں اپنا حصہ ڈالنا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب رہی، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔”

انہوں نے مزید کہا، “میرا پورا فوکس اس بات پر تھا کہ میں پاور پلے کا بہترین استعمال کیسے کر سکتی ہوں، اور ایک بار جب میں وکٹ پر سیٹ ہو گئی، تو میں ایک لمبی اننگز کھیلنا چاہتی تھی۔ یہی میرا منصوبہ تھا اور میں نے اسی پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ شاید میں اس پر سو فیصد عمل نہیں کر سکی کیونکہ نصف سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد ہی میں آؤٹ ہو گئی، لیکن تب تک میں نے کریز پر رک کر بڑی اننگز کھیلنے کی بھرپور کوشش کی۔”

کامیابی کی بھوک اور کپتان کے آؤٹ ہونے کا دباؤ

یہ حقیقت کہ فردوس اپنی دوسری ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی نصف سنچری بنانے اور ٹیم کی جیت کی بنیاد رکھنے کے باوجود خود پر تھوڑی سخت تھیں، ان کے اندر مزید بہتر کارکردگی دکھانے اور عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کی بھوک کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے بڑی کامیاب ترین رنز کا تعاقب تھا، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تاریخی فتح کپتان نگار سلطانہ کے بغیر کسی رن کے آؤٹ ہونے کے باوجود حاصل ہوئی۔ کپتان نگار سلطانہ ڈچ لیگ اسپنر کیرولین ڈی لانگے کی ایک شاندار گیند پر بغیر کوئی رن بنائے بولڈ ہو گئی تھیں۔

کپتان کے آؤٹ ہونے پر دباؤ کے حوالے سے فردوس نے اعتراف کیا، “جب جیوتی آپا آؤٹ ہوئیں، تو یہ ہمارے لیے تھوڑا گھبراہٹ کا لمحہ تھا کیونکہ وہ ہماری بہترین بیٹرز میں سے ایک ہیں۔ لیکن مجھے اپنی باقی بیٹنگ لائن اپ پر پورا بھروسہ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی ٹیم کو جیت کی دہلیز تک لے جائے گا اور بالکل ایسا ہی ہوا۔”

جویریہ فردوس کا اب تک کا سفر

جویریہ فردوس نے رواں سال جنوری میں بنگلہ دیش کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے دوران اپنا ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو کیا تھا اور صرف دس دن بعد تھائی لینڈ کے خلاف اپنی پہلی نصف سنچری اسکور کی تھی۔ وہ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کا بھی حصہ رہیں جہاں انہوں نے اپنا ون ڈے ڈیبیو کیا، اور ورلڈ کپ سے ٹھیک پہلے ایڈنبرا میں نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف سہ فریقی سیریز بھی کھیلی۔ یہ ان کے مختصر کیریئر کا صرف 15واں ٹی ٹوئنٹی میچ تھا۔

میچ کے اہم لمحات اور ٹرننگ پوائنٹس

میچ کے آغاز سے ہی جارحانہ مزاج اپنانے والی فردوس بالآخر ڈی لانگے کا شکار بنیں، لیکن آؤٹ ہونے سے قبل انہوں نے صرف 32 گیندوں پر 50 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی، جس میں سات دلکش چوکے اور دو فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ تاہم، قسمت نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ اننگز کی نویں گیند پر جب اسٹیر کالیس نے ڈیپ مڈ وکٹ پر آگے کی طرف ڈائیو لگاتے ہوئے ایک مشکل کیچ پکڑنے کی کوشش کی، تو تھرڈ امپائر نے ری پلے دیکھنے کے بعد فیصلہ دیا کہ انگلیاں گیند کے نیچے نہیں تھیں، جس کے بعد فردوس کو نئی زندگی ملی۔ یہ میچ کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فردوس نے روبین رائجکے کی گیند پر ایک اور مشکل ریٹرن کیچ چھوٹنے کے بعد مسلسل دو چوکے لگائے۔ انہوں نے ڈی لانگے کی گیند پر چھکا لگا کر اپنا سنگ میل عبور کیا لیکن اگلی ہی گیند پر پوائنٹ پر کھڑی فیبی مولکنبوئر کو کیچ دے بیٹھیں۔

شارمین اور شورنا کی فیصلہ کن شراکت داری

فردوس کے آؤٹ ہونے کے بعد، بنگلہ دیش کو جیت دلانے کی ذمہ داری شارمین اختر اور شورنا اختر نے سنبھالی۔ دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کے لیے ناقابل شکست شراکت قائم ہوئی۔ یہ میچ میں بنگلہ دیش کی دوسری نصف سنچری شراکت تھی — جو بنگلہ دیش کے لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پہلی بار ہوا — اس سے قبل فردوس اور دلارا اختر نے پہلی وکٹ کے لیے 67 رنز جوڑے تھے۔ تجربہ کار شارمین اختر نے ناقابل شکست 37 رنز بنائے جبکہ شورنا اختر نے آخری اوور کے دباؤ کو ختم کرتے ہوئے پہلی ہی گیند پر مڈ آف کے اوپر سے چوکا لگا کر میچ بنگلہ دیش کے نام کر دیا۔

نیدرلینڈز کی مایوسی اور مستقبل کے عزائم

دوسری جانب، نیدرلینڈز کی کپتان ڈی لیڈے نے شکست کے باوجود مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے اس میچ سے بہت کچھ سیکھا ہے جو آنے والے میچوں میں بھارت، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور پاکستان کے خلاف ان کے کام آئے گا۔

ڈی لیڈے نے کہا، “ہمیں آج کی کوشش پر فخر ہونا چاہیے۔ مجھے اب بھی لگتا ہے کہ ہم خاص طور پر فیلڈنگ اور بیٹنگ میں مزید بہتری لا سکتے ہیں۔ ابھی بہت سے میچز باقی ہیں، اور ہم دیگر بیٹرز سے بھی رنز کی توقع کر رہے ہیں۔ ہم اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہم یہاں کھیلنے کے اہل ہیں کیونکہ ہم نے اس کے لیے سخت محنت کی ہے۔ اگلی بار ہم مضبوط واپسی کریں گے۔ ہماری اننگز کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آ سکی کیونکہ ہم نے باقاعدگی سے وکٹیں گنوائیں۔ بنگلہ دیش نے بہترین بولنگ کی۔ وہ پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں اور یہ ان کے کھیل سے صاف ظاہر تھا، وہ ایک منظم یونٹ کی طرح کھیلے۔”

بنگلہ دیش کا اگلا مقابلہ بدھ کو آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم سے ہوگا، جہاں انہیں فتح کا یہ سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر اور مربوط کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

Aryan Desai
Aryan Desai

Aryan Desai is a respected studio analyst with a reputation for delivering sharp, data-driven insights during live cricket broadcasts. With a background in sports journalism and a passion for cricket analytics, Aryan has worked with several leading sports networks in India. His ability to break down complex match situations into clear, engaging commentary makes him a favorite among fans who want to understand the finer details of the game. Aryan also contributes to cricket research publications and is known for his innovative use of statistics to highlight emerging trends in modern cricket.